Wednesday, 18 October 2017

کوئٹہ: داعش /لشکرجھنگوی کا پولیس وین پر حملہ 7 افراد شہید،24 زخمی

شیعیت نیوز: کوئٹہ کےعلاقےنیوسریاب پر داعش اور لشکر جھنگوی کے بم دھماکےکےنتیجے میں پانچ پولیس اہلکاروں سمیت سات افرادشہیداور24زخمی ہوگئے۔
دھماکہ سبی روڈ پرنیوسریاب کےعلاقے میں ہوا، جس میں پولیس کی ایلیٹ فورس کےٹرک کونشانہ بنایاگیا، دھماکے کے نتیجے میں ٹرک میں سوار پانچ پولیس اہلکاروں سمیت افرادشہید اور24زخمی ہوگئے۔
دھماکے سے پولیس کا ٹرک تباہ ہوگیا جبکہ دھماکے کی زد میں آکر ایک گاڑی اور موٹرسائیکل بھی تباہ ہوئی، پولیس تفتیش کاروں کےمطابق دھماکے کی نوعیت کاتاحال تعین نہیں کیا جاسکا، تاہم تفتیش جاری ہے۔
ڈائریکٹرسول ڈیفنس اسلم ترین کےمطابق نیوسریاب کےعلاقے میں دھماکے کی ابتدائی رپورٹ تیارکرلی گئی ہے،شواہدسےدکھائی دیتاہےکہ دھماکہ خود کش تھا، جس میں خودکش حملہ آورنےگاڑی استعمال کی اورپولیس ایلیٹ فورس کےٹرک سےٹکرائی۔
دھماکےکےبعد ریسکیو ٹیمیں،صوبائی وزیرداخلہ میرسرفرازبگٹی، ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ ،ایف سی حکام اور دیگرمتعلقہ اداروں کےحکام موقع پر پہنچ گئے۔
دوسری جانب دھماکےمیں جاں بحق افرادکی لاشیں اور زخمیوں کو سول اسپتال اور سی ایم ایچ منتقل کردیاگیا، جہاں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔
اسپتال ذرائع کے مطابق 13 زخمیوں کو سی ایم ایچ ،10 کو سول اورایک کو بی ایم سی اسپتال منتقل کیاگیاجہاں زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔
گورنراوروزیراعلی بلوچستان نے کوئٹہ دھماکے کی شدیدمذمت کی ہے۔ سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کردی ہیں۔

دہشتگردی کے خلاف بھرپورعزم سےلڑنے والےافغان ہمارے بہادر بھائی ہیں، آرمی چیف

شیعیت نیوز:آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پکتیا میں دہشتگرد حملےکی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ دہشتگردی کےخلاف بھرپورعزم سےلڑنے والےافغان ہمارےبہادر بھائی ہیں،دونوں ممالک خطے میں پائیدار امن و استحکام کیلیے مشترکہ دشمن کو شکست دینگے، ادھر آئی ایس پی آر کا کہنا ہےکہ پاکستانی فضائی حدود کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی اور نہ ہی کرم ایجنسی میں کوئی ڈرون حملہ ہوا ،اس حوالے سے خبریں غلط ہیں۔
جیو نیوزکے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نےپکتیا میں دہشتگرد حملےکی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ دہشتگردی کے خلاف بھرپورعزم سےلڑنے والےافغان ہمارے بہادر بھائی ہیں،دونوں ممالک خطے میں پائیدار امن و استحکام کیلیے مشترکہ دشمن کو شکست دینگے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ ریزالیوٹ سپورٹ مشن اور افغان فوج کی جانب سے آپریشن کرم ایجنسی کی مخالف سمت افغان علاقوں خوست اور پکتیا میں کیا جا رہا ہے،پاکستانی فضائی حدود کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی اور نہ ہی کرم ایجنسی میں کوئی ڈرون حملہ ہوا ،اس حوالے سے خبریں غلط ہیں،افغان سرحد کے ساتھ اپنی حدود میں پاک فوج پوری طرح چوکس ہے، بہتر تعاون دونوں ممالک کو پائیدار امن و استحکام کی طرف لے جائے گا، اس سے مشترکہ دشمن کو شکست ہو گی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران افغانستان کے اندرونی علاقوں میں کئی فضائی حملے کئے گئےجن میں دہشت گردوں کو بھاری نقصانات کی اطلاعات ہیں۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورہ افغانستان کے تناظر میں افواج کے درمیان تعاون بڑھا ہے، ریزالیوٹ سپورٹ مشن نے افغان علاقوں میں متعلقہ آپریشن کے حوالے سے بروقت تفصیلات کا تبادلہ کیانہ تو پاک افغان بارڈر پر پاکستان کی فضائی کی خلاف ورزی ہوئی اور نہ ہی کرم ایجنسی میں کوئی ڈرون حملہ ہوا، اس حوالے سے تمام خبریں بے بنیاد ہیں۔

کذاب زید حامد کا امام علی (ع) کے پاکستانی شیعوں پر انڈیا کا ایجنٹ ہونے کا الزام

شیعیت نیوز:ایران کے ایجنٹ، رافضی،بدعتی اور کئی القابات ملت جعفریہ کو نوازنے کے بعد ایک اور ذہنی مریض پاکستان میں امام علی (ع) کے شیعوں کو انڈیاکا ایجنٹ ثابت کرنے کی کوشیش کرنے پر تل گیا، واللہ عالم کے اسکے پیچھے کیا حقائق اور کس کا ایجنڈا کارفرما ہے، لیکن باخبر ذرائع کے مطابق یہ زید حامد کذاب خود بھارتی ، اسرائیلی اور افغان انٹیلی جنس اتحاد کا حصہ ہے۔
ذرائع کے مطابق زید حامد کا براسٹیک نامی تھنک ٹینک موساد اور را کے لئے کام کررہا ہے، اسی بنا پر اس ادارے کے سربراہ نے باقاعدہ پاکستان کے حساس علاقوں میں موجود پاکستان کے فرنٹ لائن کے محافظ پارچنار کی محب وطن شیعہ قوم کے خلاف زہریلا پروپگنڈا کرنا شروع کردیا ہے۔
وٓضح رہے کہ پارچنا ر وہ واحد قبائلی علاقہ ہے جہاںپر آج تک پاکستانی پرچم سرنگوں نہیں ہوا حتیٰ کہ اس علاقہ کو دہشتگردوں نے چار سال گھیر کر رکھا یہاں تک کے عوام پر لشکر کشی تک کروائی گئی۔
آج بھی یہ علاقہ پاکستان کی دفاعی فرنٹ لائن ہے، گذشتہ 6 ماہ قبل ایک دھماکے کے بعد7 روز تک وہاں کی عوام نے احتجاج کرکے نہتے عوام پر فائرنگ کرنے والے ایف سی اہلکاروں کے خلاف کاروائی اور اپنے چند جائز مطالبات کو تسلیم کروایا تھا، ان مطالبات میں سے ایک مطالبہ پاک افغان بارڈر کو محفوظ بنانے کا بھی تھا، اس احتجاج پر بھی زید حامد نے پاکستانی شیعہ قوم کو ایڈیٹ قرار دیا اور انکے خلاف پروپگنڈا شروع کردیا، اس پروپگنڈے پیچھے اصل سازش یہ تھی کہ یہاں پہ در پہ دھماکے کروائے جائیں گے اور پھر عوام کو پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف عوام کو ورغلایہ جائے گا اسی سلسلے میں ایف سی میں چھپی کالی بھیڑوں نے اشتعال ابھارنے کے لئےعوام پر فائرنگ بھی کی تاہم وہاں کی عوام اس سازش کو بھانپ گئی اور انہوںنے پرامن احتجاج کے ذریعہ اس سازش کوناکام بنادیا، لہذا اس ناکامی پر پاکستان میں را وموساد کا ایجنٹ زید حامد بلبلااُٹھا۔
دھیاں رہے کہ کچھ روز قبل بارودی سرنگ پھٹنے سے ۴ پاک فوج کے جوان شہید ہوئے، تو یہ جھوٹا شخص پھر ٹوئیٹر پر نمودار ہو اور کرم ایجنسی کے پرامن شیعہ جوانوں پر الزام لگادیا کہ وہ دہشتگرد گروپ بنارہے ہیں اور انہوںنے ہی پا ک فو ج پر حملہ کیا ہے، جبکہ اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبو ل کی۔
یہ جھوٹا کہتا ہے کہ کر م ایجنسی میں طالبان ختم ہوگئے ہیں، جبکہ پاک فوج مسلسل وہاں آپریشن کرکے دہشتگردوں کا صفایا کرنے میں مصروف ہے، جبکہ انہی طالبان دہشتگردوں کے حملوں میں سیکڑوں پارچنار کے عوام بھی شہید ہوچکے ہیں۔
ایک اطلاع کے مطابق سعودی عرب میں زید حامد کی گرفتاری کے دوران را اور موساد نے زید حامد کو اپنے سرکل میں شامل کیا اور اسی بنیاد پر اسے رہا کیا گیا۔
واضح رہے کہ پارچنار کر م ایجنسی کا و ہ واحد علاقہ ہے جسے افغان ، اسرائیل و بھارتی انٹیلی جنس کی ایما ء پر تاراج کرنے کی کوشیش کی گئی کیونکہ یہ علاقہ ازل سے پاکستان کی مضبوط دفاعی فرنٹ لائن ثابت ہوا ہے، کبھی اپنے پالتو ایجنٹ طالبان سے اس علاقہ پر لشکر کشی کروا ئی گئی تو کبھی طالبان دہشتگردوں سے خودکش حملے کرواکر علاقہ کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کی گئیاور جب دہشتگرد ممالک کا اتحا د اس سازش میں ناکام ہوگیاتو انہوں نے اپنے ایجنٹ زید حامد کو چھوڑ دیا ہے جو وہاں کی عوام کو غدار ثابت کرکے پاک فوج کو ورغلانہ چاہتا ہے ، لیکن ہمیں اپنی پاک افواج پر اعتماد ہے انکا اپنا انٹیلی جنس نیٹ ورک ہے ، پاک فوج کو زید حامد جیسے ذہنی مریض کے ضعیف تجزیہ اور خیالی پلاو کی ضرورت نہیں۔
دوسری جانب ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ زید حامد اور اسکے ادارے براسٹیک کے کارکنوں کی تحقیقات کی جائیں یقیناً وہاں سے کئی موساد، را اور افغانستان کی انٹیلی جنس کے ایجنٹ برآمد ہونگے، کیونکہ کئی عرصہ سے اس ادارے کی جانب سے پاکستانی عوام اور پاک افواج میں خلیج پیدا کرنے کی کوشیش کی جارہی ہے جو پاکستان کے خلاف انتہائی گہری سازش ہے۔

اربعین امام حسین ؑ کے موقع پر بلوچستان حکومت کی جانب سے زائرین کے لئے مشکلات،صرف چار کانوائے بارڈر کرسکیں گے



شیعیت نیوز: بلوچستان حکومت اور ایف سی انتظامیہ نے بلوچستا ن شیعہ کانفرنس وفد سے ملاقات کی ہے جس میں انتظامیہ نے کہا کہ سیکورٹی خدشات کے پیش نظر اربعین امام حسین علیہ سلام کے سلسلے میں جانے والے بائی روڈ قافلوں کے صرف چار کانوائے کو بارڈر کراس کرنے کی اجازت دیں گے اور باقی کو کراس کرنے نہیں دیا جائے گا،
اس صورتحال کے پیش نظر خدشہ یہ ہے کہ ماہ صفر کے آغا ز کے ساتھ ہی ہزاروں کی تعداد میں بائی روڈ زیارت امام حسین علیہ السلام کے لئے جانے والے زائیرین کا شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
اطلاعات کے مطابق تقریباً دس کے قریب کانوائے چلانے سے زائرین کی مشکلات کچھ کم ہوسکتی ہیں، لیکن حکومت بلوچستان اور ایف اہلکاروں نے صرف چار کانوائے کو بارڈر کراس کرنے کی اجازت دینے سے ہزاروں زائرین شدید مشکلات میں گرفتار ہوجائیں گے اور وہ وقت مقررہ پر اربعین امام حسین ؑ کے موقع پر کربلا پہنچنے سے محروم بھی ہوسکتے ہیں۔
لہذا حکومت بلوچستان اور ایف سی انتظامیہ زائرین کی تعداد کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کم از کم دس کانوائے کا بارڈر کراس کرنے کی اجازت دے تاکہ زائرین کو مشکلات کا سامنا نہیں کرناپڑے
دوسری جانب شیعہ بلوچستان کانفرنس نے حکومت بلوچستان اور ایف سی انتظامیہ کی اس پالیسی پر کچھ دونوں کا وقت مانگا ہے تاکہ اپنی واضح پالیسی بیان کرسکیں۔

اقوام متحدہ کی روہنگیا پناہ گزینوں کے لیے امداد کی اپیل

اقوام متحدہ نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ روہنگیا پناہ گزینوں کے مسئلے پر 23اکتوبر کو ہونے والے اجلاس میں ان پناہ گزینوں اور انہیں پناہ دینے والے بنگلہ دیش کو یہ پیغام دیں کہ پوری دنیا ان کے ساتھ ہے۔
اقوام متحدہ نے اس کانفرنس سے پہلے کل ایک بیان میں بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ روہنگیا پناہ گزینوں کی پریشانیوں،ان کی منتقلی کو روکنے کے لئے اور ایسے حالات بنانے کے لئے کوشش کریں جس میں پناہ گزینوں کی صحیح طور پر واپسی یقینی ہوسکے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ میانمار کے راخین صوبے میں تعصب اور استحصال سے بچنے کے لئے لاکھوں روہنگیا گزشتہ سال اگست سے بھاگ کر پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں پناہ لے رہے ہیں جس سے انسانی بحران کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ میانمار کی فوج کی طرف سے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری تشدد کی وجہ سے جان بچا کر بنگلہ دیش پہنچنے والے پناہ گزینوں کی تعداد پانچ لاکھ 37ہزارہوگئی ہے ۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق حال میں آنے والے سبھی پناہ گزینوں کو کھانا ،طبی خدمات اور مکانات کی ضرورت ہے جبکہ صرف 37ہزار خاندانوں کو ایمرجنسی کٹ دستیاب کرائی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ میانمار میں 25اگست کو فوج پر مبینہ حملے کے خلاف راخین صوبے میں رہنے والے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کارروائی شروع کی گئی جس کی اقوام متحدہ سمیت کئی ملکوں نے مذمت کی ۔ اقوام متحدہ نے روہنگیا کے خلاف تشدد کو نسلی تشدد قراردیا ہے۔