Wednesday, 18 October 2017

محمد بن سلمان اپنی پسند کی وہابیت کی بنیاد رکھنے کے درپے؛ کیا وہابیت کا نیا ورژن آرہا ہے؟

سعودی حکومت کی داخلی سیاست میں دین کا باہم ربط اور حکومت آل سعود اور آل الشیخ کی صورت میں سنہ 1158 ہجری سے قائم ہے۔ آل سعود کے تشدد پسندانہ اور دقیانونسی اصول ہر نئی بادشاہت میں اعتدال، اصلاح اور تبدیلی کی جانب بڑھتے آئے ہیں اور وہابی فرقہ ـ جس کو ایک سیاسی / استعماری / درباری فرقہ کہنا زیادہ مناسب ہے ـ ایک اعتقادی یا فقہی فرقے سے آل سعود کی حکمرانی کا راستہ ہموار کرنے والے ادارے (اور ربڑ اسٹیمپ) میں بدل چکا ہے۔
بایں وجود وہابیت کی جڑیں آج بھی سعودی عرب کی داخلی سیاست میں گہری اور مستحکم ہیں تاہم محمد بن سلمان کے ولیعہد بننے کے بعد آج اس فرقے کو مختلف چیلنجوں کا سمانا ہے۔ محمد بن سلمان کی فردی خصوصیات اور عادات و اطوار کے پیش نظر اور معاشرت اور قومی سلامتی کے حوالے سے اس کی پالیسیاں ویسے ہی بہت سوں کے لئے فکرمندی کا سبب ہوئی تھیں، لیکن چونکہ وہابیت کے لئے بھی اس کے اپنے خاص نظریات ہیں جن کی بنا پر کہا جاسکتا ہے کہ وہابیت کے لئے اس کی طرف سے پیدا کردہ مسائل بجائے خود بہت اہم ہیں۔
آل سعود کی تیسری حکومت کے جزیرہ نمائے عرب پر مسلط ہونے کے آٹھ عشرے گذر رہے ہیں اور اب محمد بن سلمان اس حکومت کی سماجی و سیاسی تعمیر نو پر زور دے رہا ہے۔ وہ سرکش وہابی فرقے میں اصلاح کرکے ایسا مطلوبہ نسخہ (Version) منظم کرنے کے درپے ہے جو اس کے مقاصد کے حصول کے لئے مفید ہو۔ یہاں اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ "محمد بن سلمان کے نزدیک وہابیت کے مطلوبہ نسخے کی خصوصیات کیا ہیں؟
محمد بن سلمان اپنے مشیروں کی مدد سے جزیرۃ العرب کی معاشرتی ذہنیت بدل کر روایتی، قبائلی اور آرتھوڈاکسی معاشرے کو ایک ترقی پسند، کھلے قوم پرستی معاشرے میں تبدیل کرنا چاہتا ہے جس کے بموجب وہ جزیرۃ العرب کے روایتی مذہب میں تبدیلی لا کر اسے "نو وہابیت" (Neo-wahhabism) کی صورت میں لانا چاہتا ہے۔ اسی رو سے بن سلمان کے دور میں یوں لگتا ہے کہ سیاست کے اصلی مرکزے [یعنی بادشاہ اور دربار) اور مذہبی قوت (ملکی مفتی کے زیر قیادت کام کرنے والی "وہابیت") کے درمیان ربط و تعلق میں بھی ڈرامائی تبدیلیاں نمودار ہونگی۔
1۔ محمد بن سلمان اور ویژن 2030 کے ضمن میں ثقافتی انقلاب
سعودی معاشرے کے اندرونی بحرانوں نیز محمد بن سلمان کے اہداف و مقاصد کا صحیح ادراک ان راستوں میں سے ایک ہے جن سے گذر کر بن سلمان کی مطلوبہ وہابیت کی شناخت ممکن ہوجاتی ہے۔ بہت سے مفکرین کا خیال ہے کہ سعودی عرب میں تشخص کے سرچشمے تیزی سے بدل رہے ہیں۔ ان تبدیلیوں کی رفتار میں حالیہ چند برسوں کے دوران تیزتر ہوچکی ہے اور یہ تبدیلیاں رسمی کیلنڈر، خط، سرزمین وغیرہ جیسے شعبوں میں زیادہ عیاں ہیں۔ (1) سعودی عرب میں وہابی علماء نے دین کی تشریح کا شعبہ اپنے اختیار میں لے رکھا ہے؛ چنانچہ نوجوان نسل کو ایک طرح سے وہابی تشخص کا سامنا ہے اور وہابی تشخص جدید ٹیکنالوجی کے منظر عام پر ‏آنے، عربی اشرافیہ عادات و اطوار کے فروغ اور نئے تشخص کے نمودار ہونے جیسی چیلنجوں کا سامنا کررہا ہے۔
سعودی عرب میں وہابی تشخص کے معرض وجود میں آنے اور ظہور پذیر ہونے کے ساتھ، معاشرتی تشخص کئی عشروں تک بدل گیا اور سعودی معاشرے نے "وہابیت و عربی اشرافیہ" کے دوہرے تشخص کو اپنا لیا۔ وہابی مفتیوں کے متضاد اور غیر معقول (اور عقلیت سے دور) نیز یکطرفہ رویئے جزیرۃ العرب کے عوام نیز بین الاقوامی اداروں کی شدید تنقید پر منتج ہوئے ہیں۔ (2) حالیہ ایک عشرے کے دوران سعودی عرب کے قبائلی اور فرقہ وارانہ جذبات کی بنا پر محمد بن سلمان [کے اندرونی و بیرونی مشیر] بھانپ گئے کہ وہابی تشخص کو ملک کے نوجوانوں کے تشخص کے بنیادی اصول کے طور پر مزید آگے نہیں بڑھایا جاسکتا۔ چنانچہ اس نے وہابیت میں تبدیلی لاکر نئے سعودی عرب کے لئے نیا مذہبی تشخص متعارف کرنے کی کوشش کی ہے۔ بن سلمان نے ویژن 2030 نامی پروگرام کا اعلان کرکے سعودی عرب کے لئے نئی اور لچکدار وہابیت متعارف کرانے کو اپنا مطمع نظر بنایا جس کے لئے تین اصول قرار دیئے گئے: "متحرک معاشرہ، پنپتی معیشت، اولوالعزم قوم"۔ (3) (3.1) وہ ان تین اصولوں کی تشریح کرتے ہوئے کہتا ہے: اسلام کے اصول اعلی مقاصد کے حصول کی طرف ہمارے محرک ہیں۔ اعتدال پسندی، بردباری، نظم و ضبط، مساوات اور شفافیت ہماری کامیابی کے لئے سنگ بنیاد ہیں۔ (4)
ویژن 2030 کے متن میں مذکورہ ان باتوں کو مد نظر قرار دے کر ہم سعودی عرب کے آرزمندانہ اہداف اور جدیدیت پر مبنی خواہشات کو بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔ تاہم ان اہداف کا حصول چنداں آسان بھی نہیں ہے۔ وہابیت کے بہت سے علماء اور دینی مراکز ـ حتی کہ مغربی ممالک کے فکری مراکز ـ "معاشی اصلاحات" کے بھیس میں محمد بن سلمان کا "ثقافتی انقلاب" سمجھتے ہیں۔ (5)
2۔ متشدد وہابیت کو درپیش چیلنجیں اور اسے کمزور کرنے کے لئے بن سلمان کے اقدامات
وہابیت کے مقابلے میں محمد بن سلمان کو درپیش اہم ترین چیلنجیں خواتین، نوجوان اور دینی اقلیتیں ہیں۔ یہ وہ چیلجنیں ہیں جن کا سامنا سعودی عرب کے سابقہ بادشاہوں کو کرنا پڑا ہے اور ہر ایک نے ان تین شعبوں میں اپنے آپ کو مصلح ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔
بن سلمان کی مطلوبہ وہابیت؛ خصوصیات اور چیلنجیں
1۔2۔ خواتین
سعودی معاشرے میں موجودہ معاشرتی اختلافات اور تعطل کے درمیان کوئی بھی خواتین کے کردار اور مستقبل سے زیادہ زیر بحث نہیں ہے۔ یہ بحث و جدل ایسی جنگ ہے جو قدامت پسندوں اور جدت پسندوں کے درمیان جاری ہے اور جنگ اس بات پر ہے کہ خواتین کس قسم کے ماحول میں زندگی بسر کریں اور کس حیثیت سے کردار ادا کرنا چاہئے۔ (6) معاشرے میں کردار ادا کرنے کے سلسلے میں خواتین کے مطالبات میں روز بروز شدت آرہی ہے اور حالیہ مہینوں کی سرکاری پالیسیوں نے اس موضوع کو ثابت کیا کہ محمد بن سلمان اس سلسلے میں قدیم وہابیت کے مد مقابل کھڑا ہے جبکہ طویل عرصے سے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خواتین کی طرف سے کردا ادا کرنے کی کوششوں کو وہابیت سے وابستہ اداروں کی شدید مختلفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ (7)
وہابیت کے دینی اداروں کی انتہا پسندی اور خواتین کے مسلسل مطالبات کی وجہ سے ہی سابق سعودی بادشاہ "شاہ عبداللہ" نے عورتوں کے امور میں کچھ فراخی کے اسباب فراہم کئے۔ بطور مثال شاہ عبداللہ نے 2011 میں [عرب سپرنگ کے آغاز کے بعد] ایک فرمان جاری کیا جس کے تحت خواتین 2015 تک انتخابات میں شرکت کرسکتی ہیں اور امیدوار بن سکتی ہیں (8) [گوکہ سعودی عرب میں صرف بلدیاتی انتخابات ہی منعقد ہوتے ہیں]۔ محمد بن سلمان نے اقتدار میں حصہ حاصل کیا تو اس سلسلے میں شدت آئی۔ یہاں تک کہ خواتین نے پہلی بار تصویروں کے حامل شناختی دستاویزات بنوائیں اور انہیں نکاح نامے کی ایک نقل اپنے پاس رکھنے کا حق دیا گیا اور حتی کہ الی ترین سطح پر مسند افتاء پر براجماں ہوئیں۔ اسی سلسلے میں بن سلمان نے بلوم برگ چینل کے ساتھ اپنے مکالمے میں بیان کیا: یہ ممکن نہیں ہے کہ سعودی معاشرہ ترقی کرے جبکہ اس کی نصف آبادی کے حقوق کو نظرانداز کیا جارہا ہو۔ چنانچہ ہم آزادیوں کی دوہری حمایت کرتے ہوئے عورتوں کو ـ ان کے لئے اسلام میں مقررہ حقوق ـ پلٹا دیں گے اور عورتوں پر مسلطہ کردہ پابندیوں اور بندشوں کی زنجیروں کو ان سے دور کریں گے۔ (9)
دوسری طرف سے بن سلمان نے سرگرم مقامی افرادی قوت کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی آڑ میں، ویژن 2030 میں ایک منصوبہ پیش کیا ہے جس کے تحت اجنبی ممالک کی افرادی قوت کے بجائے بعض شعبوں میں مقامی خواتین کی خدمات سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔ اس منصوبے کو سعودی عرب کے مفتی اعظم عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور اس نے اس منصوبے کو "مجرمانہ اور حرمت شکنانہ" قرار دیا (10) تاہم بالآخر روایتی وہابیت کو ـ خواتین کے سلسلے میں بن سلمان کی پالیسیوں کے سامنے ـ پسپائی اختیار کرنا پڑی۔
2۔2۔ نوجوان
موجودہ زمانے میں سعودی معاشرے کو درپیش ایک مسئلہ ـ جس کی وجہ سے بن سلمان کو وہابیت کا شدید مقابلہ کرنا پڑا ـ نوجوانوں اور ان کے مطالبات کا مسئلہ ہے۔ نوجوانوں اور انتہاپسند وہابیت کے مطالبات میں تضاد کو ایک طرح سے روایت اور جدیدیت (11) کے درمیان چپقلش کا نام دیا جاسکتا ہے۔ جدید دنیا کی سطح پر ـ بالخصوص مواصلات کے میدان میں ـ مغربی اقدار اور تعلیمات کے فروغ کے زیر اثر رونما ہونے والی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، سعودی نوجوان بھی مغربی اقدار یا جدیدیت کے ساتھ ساتھ اسی طرز کی عالمگیریت کی طرف مائل و راغب ہوچکے ہیں۔ سعودی نوجوانوں کو آج اپنی شناخت اور تشخص کی الجھن کا سامنا ہے اور آج سعودی عرب کی نوجوان نسل روایت اور جدیدیت میں سے ایک کے انتخاب میں سرگردان ہے۔ محمد بن سلمان کی داخلی پالیسیوں میں کوشش کی جارہی ہے کہ سلامتی اور مذہب سے متعلق اداروں ـ بالخصوص امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کمیٹی [هیئة الأمر بالمعروف والنهی عن المنکر] ـ کی سرگرمیوں کو محدود کیا جائے۔ جس کی وجہ سے وہابی علماء کے زیر انتظام چلنے والے ان اداروں کے اختیارات بھی محدود ہوچکے ہیں۔ (12) لہذا روایت اور جدیدیت کے درمیان تضاد و تنازعہ آج کے سعودی معاشرے کی اہم ترین دینی اور معاشرتی چیلنجوں میں شامل ہے اور بن سلمان کے نقطۂ نگاہ کی وجہ سے یہاں بھی انتہاپسند وہابیت کمزور ہوگئی۔ اور یوں ثقافتی علمانیت [یا ثقافتی لادینیت] (13) کی جانب بڑھتے ہوئے جدیدیت اور دینی تشخص کی نئی تعریف کے لئے راستہ ہموار ہوا۔
3۔2۔ شیعہ اور دینی اقلیتیں
ویژن 2030 اور اس کے تحت مجوزہ معاشی منصوبوں کا نفاذ ـ جو دینی کثرتیت (14) پر استوار کئے گئے ہیں ـ لامحالہ انتہاپسند وہابیت اور دینی اقلیتوں کے درمیان ـ جنہیں آج تک وہابی علماء نے تسلیم ہی نہیں کیا ہے ـ تصادم پر منتج ہوگا جس کے نتیجے میں ـ بن سلمان کے اقدامات کو مد نظر رکھتے ہوئے ـ آل سعود اور آل الشیخ کے درمیان تقابل کے اسباب فراہم ہونگے یا یوں کہئے کہ طاقت کا نظام دینی نظام پر غلبہ پائے گا۔ کیونکہ ویژن 2030 سے معاشی شعبے میں قومی آمدنی میں اضافہ اور اوسط طبقے کا سماجی ارتقاء مقصود ہے؛ اور سعودی معاشرے میں اوسط طبقے کی تشکیل کی صورت میں اس کے مطالبات اور زندگی کے ملزومات ـ منجملہ زیادہ سے زیادہ آزادیاں، سوشل سوسائٹی کی ترقی، بڑھتی ہوئی سیاسی شراکت داری، نیز ثقاقتی کثرتیت کی طرف حرکت ـ بھی معرض وجود میں آئیں گے۔ جبکہ وہابی علماء ـ وہابی تعلیمات کے مطابق ـ ان تبدیلوں کو تسلیم نہیں کرسکیں گے۔
بایں حال سعودی عرب کی عظیم ترین دینی اقلیت ـ یعنی شیعیان اہل بیت(ع) ـ کے ساتھ تشدد آمیز رویہ جاری رہے گا کیونکہ شیعہ مکتب کے پیروکاروں کے ساتھی امتیازی سلوک اور متشددانہ رویہ، وہابیت کے پیشرو اور حال حاضر کے علماء کی مکتوبات پر استوار ہے۔ مثال کے طور پر ابن تیمیہ نے اپنی کتب و رسائل میں بارہا اس موضوع پر زور دیا ہے کہ "شیعہ، خوارج سے کہیں زیادہ، قتل کے لائق ہیں" (15) اور وہابیت کے بانی محمد بن عبدالوہاب نے بھی ابن تیمیہ کے افکار کو دوبارہ شائع کرکے زور دیا ہے کہ "چونکہ شیعہ ائمہ طاہرین علیہم السلام سے تقرب جوئی کرتے ہیں اور انہیں اللہ کی بارگاہ میں شفیع قرار دیتے ہیں چنانچہ ان خون مباح اور ان کا قتل جائز ہے"۔ معاصر وہابی مفتیوں کا موقف بھی بعینہ یہی ہے۔ بطور مثال معاصر وہابی مفتیوں میں انتہاپسندترین شخص "ناصر العمر" ہے جس نے شیعیان اہل بیت(ع) کے قتل کو جائز قرار دیتے ہوئے اپنی خونخواری کا ثبوت ان جملوں میں پیش کیا ہے: "کیا بدیع ہے وہ منظر، جب تو دیکھتا ہے کہ شیعوں کی لاشیں خون کے سمندر میں غوطہ ور ہیں اور رافضی کے خون کی لہریں تیری سماعتوں کو نوازتی ہیں اور ان کی لاشیں تیری آنکھوں کو وجد میں لاتی ہیں"۔ (16)
[سعودی ـ وہابی پالیسیوں پر شیعیان اہل بیت(ع) کی تنقید اظہر من الشمس ہے] لہذا محمد بن سلمان کو درپیش چیلنجوں میں سے ایک معترض اور منتقد شیعہ اقلیت کے ساتھ اس کا تعامل ہے جو آل سعود کے مد مقابل سب سے زیادہ طاقتور اور منظم معترض قوت سمجھی جاتی ہے۔ محمد بن سلمان نے شیعہ آبادی ـ اور سماج اور سلامتی کے میدان میں در پیش اس اہم چیلنج ـ کے ساتھ اپنائے جانے والے رویئے کی کیفیت کے بارے میں آج تک اظہار خیال نہیں کیا ہے۔ جس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ وہ بھی اپنے پیشرو حکمرانوں کے طرح شیعہ آبادی کو نظر انداز کرکے اس کے ساتھ وہی امتیازی سلوک روا رکھنا چاہتا ہے یا پھر یہ جتانا چاہتا ہے کہ گویا سعودی عرب کے عوام کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے، بالفاظ دیگر وہ ایک جھوٹی قومی یکجہتی ظاہر کرکے ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ شیعوں اور وہابیوں کے درمیان کسی قسم کا کوئی اختلاف و تقابل نہیں پایا جاتا! [جس کے لئے البتہ اس کو موجودہ سینسرشب اور شیعیان آل رسول(ص) کے ابلاغی مقاطعے کی پالیسی پر بھی کاربند رہنا پڑے گا جو کہ اس کی مبینہ معاشرتی آزادی پر مبنی پالیسی کے منافی ہوگی]۔
اس وقت امریکہ، اسرائیل اور آل سعود نے مغربی ایشیا میں دو قطبی تضاد کا ماحول قائم کررکھا ہے جس کی وجہ سے سعودی عرب سمیت مختلف ممالک کے شیعیان اہل بیت(ع) خطرہ محسوس کررہے ہیں، اور بن سلمان نے شیعیان اہل بیت(ع) کے مقابلے میں استبدادی رویہ اپنا کر انہیں کچلنے اور خوفزدہ کرنے کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ چنانچہ مذکورہ بالا دو موضوعات میں بن سلمان کے مختلف موقف کے برعکس، کم از کم مستقبل قریب میں شیعیان اہل بیت(ع) کے مقابلے میں محمد بن سلمان اور وہابیت کے مذہبی اداروں کے نقطۂ نظر اور پالیسیوں میں کسی قسم کی مغایرت کی امید نہیں رکھی جاسکتی اور ان کا سلوک ماضی کی طرح یکسان رہنے کا خدشہ باقی ہے۔
نتیجہ
گوکہ محمد بن سلمان کے ولیعہد بننے پر سعودی مفتی اعظم عبدالعزیز آل الشیخ اور بعض دیگر سعودی درباری مفتیوں نے اس کو مبارک باد دی اور اس کے ہاتھ پر بیعت کی اور باضابطہ طور پر اس کی حمایت کا اعلان کیا لیکن اس نوجوان شہزادے کے موقف اور مختلف بیانات سے بآسانی سمجھا جاسکتا ہے کہ وہابیت کے ساتھ اس کا تعلق دوستانہ نہیں ہے۔
اس حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ جزیرۃ العرب کی جدید سازی بن سلمان کے اہم ترین مقاصد میں شامل ہے اور ویژن 2030 میں بھی اس کو اہم حیثیت حاصل ہے، سعودی ولیعہد نے روایتی انتہاپسند وہابیت کی حیثیت کو ـ بطور سرچشمۂ مشروعیت (17) ـ محدود کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور اس کی کوشش ہے کہ وہابیت کے رتبے کو سعودی بادشاہت کے سرچشمۂ مشروعیت سے گھٹا کر اس کو ایک شخصی مذہب و عقیدے کی حد تک گرا دے۔ اس کا نظریہ یہ ہے کہ وہابیت اس کی آج کی بلندپروازیوں اور منصوبوں کا تحمل نہیں رکھتی۔ محمد بن سلمان متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں کی پالیسیوں سے متاثر ہے اسی بنا پر وہ وہابی علماء اور ملک کے دینی اداروں کے اثر و رسوخ کی سطح کم کرکے ایک ایسی وہابیت کی بنیاد رکھنا چـاہتا ہے جو ہیومینزم (18) پر مبنی، محدود اور شخصی و ذاتی ہو اور یہ نئی وہابیت "اعتدال پسندی، بردباری، مساوات اور شفافیت" کے چار اصولوں پر استوار ہوگی۔ [آج تک آل سعود کی حکمرانی کے قانونی جواز اور مشروعیت کا سرچشمہ وہابیت ہے] بن سلمان ایسی وہابیت کی بنیاد رکھنے درپے ہے جس کے قانونی و شرعی جواز کا سرچشمہ آل سعود کا سیاسی نظام ہو۔ یہ وہی موضوع ہے جو حقوق نسوان کے بارے میں "ہیئت کبارالعلماء" کے حالیہ فتوے کے ضمن میں بیان کیا گیا ہے کہا گیا ہے کہ "سعودی بادشاہ معاشرے کی تمام مصلحتوں اور اعمال کا واحد مرجع (19) ہے"۔
اس نقطۂ نظر کے تحت، بن سلمان کی پسندیدہ وہابیت ایک انتہائی فردی اور شخصی فرقہ ہے سعودی عرب کے سیاسی دائرے کے باہر کسی قسم کی معاشرتی نقل و حرکت کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ بن سلمان کی پسندیدہ وہابیت کے نسبتا شخصی [ذاتی] (20) ہوجانا، سبب بنے گا کہ اس فرقے اور اس کے دینی علماء کے اثر و رسوخ کا دائرہ محدود ہوجائے اور محدود ہونے کے اس عمل کا نتیجہ اسلامی مذاہب اور دوسرے ادیان کے ساتھ اعتدال پسندانہ اور لچکدار رویے کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا۔ وہابی مفاہیم میں دفاع اور جوابدہی کی عدم قابلیت اور عقلی اصولوں کی عدم موجودگی اس فرقے کے علماء کو مجبور کرے گی کہ سیاسی موقف اپنانے کے اپنے موجودہ رویے کو ترک کریں اور اپنے فرقے کی بقاء کی خاطر آل سعود کے حکمرانوں کے معین کردہ دائرے کے اندر محدود ہوجائیں۔ کہ اس صورت میں ان علماء کو صرف سرکاری اقدامات کو شرعی لبادہ پہنانے کے لئے بروئے کار لایا جائے گا۔ [جبکہ اس سے پہلے وہ آل سعود کے اقدامات کی شرعی توجیہ کے ساتھ ساتھ اندرونی اور بیرونی پالیسیوں کے سلسلے میں بھی فتوی دیا کرتے تھے اور اب ان کی ذمہ داری سرکاری اقدامات کو شرعی توجیہ پیش کرنے تک محدود ہوجائے گی]۔

سعودی عرب میں ہولناک آتشزدگی10، افراد ہلاک

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے علاقے بدر میں ایک بڑی ورک شاپ میں آگ لگ گئی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری جگہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور انسانوں سمیت اندر موجود ہر شئے کو جلا کر خاکستر کردیا۔ ورک شاپ میں لکڑی کی اشیا بنائی جاتی تھیں جس کی وجہ سے آگ بہت تیزی سے پھیلی اور اندر موجود لوگوں کو جان بچانے کے لیے باہر نکلنے کا موقع ہی نہ مل سکا۔
سعودی شہری دفاع کے محکمے نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ بیان میں واقعے کے بارے میں بتایا اور 10 افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق کی۔ سعودی حکام نے تاحال جاں بحق اور زخمی ہونے والے کی قومیت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ہے کہ آیا وہ مقامی تھے یا تارکین وطن محنت کش تھے۔

امیرکویت سعودی بادشاہ کو منانے ریاض پہنچ گئے

امیر کویت «شیخ صباح الاحمد الصباح» آج بروز پیر علی الصبح محض چند گھنٹوں کے دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔
امیر کویت سعودی حکام کو قطر کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیاں اٹھانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے۔
سعودی ذرائع کا کہنا ہے کہ امیر کویت دوحہ-ریاض تعلقات کے فروغ پر سعودی حکام سے تبادلہ خیال کریں گے۔
واضح رہے کہ دو ہفتے بعد کویت میں خلیجی تعاون کونسل کا اجلاس منعقد ہونے والا ہے۔
خیال رہے کہ پہلے بھی قطر اور سعودی عرب کے معاملات خراب ہونے پر کویت نے ہی ثالثی کا کردار ادا کیا تھا اور دونوں کے درمیان صلح کروائی تھی جبکہ اس بار بھی کویت ہی دونوں ملکوں کے تعلقات کا خیرخواہ نظر آتا ہے، البتہ اس مرتبہ صورتحال کافی کشیدہ ہے اور پہلے سے مختلف ہے اور قطر پر دہشتگردی کا بھی الزام ہے۔
یاد رہے کہ بحرین، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور مصر نے قطر کیساتھ روابط منقطع کئے ہیں۔
ان ممالک کا قطر پر الزام ہے کہ یہ ملک دہشتگردی کی معاونت کررہا ہے۔
ان ممالک نے قطر پر زمینی، فضائی اور سمندری راستے بھی بند کردئے ہیں اور دوحہ کا محاصرہ کیا ہوا ہے۔

لبنان میں یوم عاشور کے موقع پر حسینی عزاداروں کا عظیم اجتماع

لبنان میں یوم عاشور کے موقع پر حسینی عزاداروں کا عظیم اجتماع
لبنان کے مختلف شہروں بالخصوص ضاحیہ علاقہ میں سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی عزاداری عقیدت اور احترام کے ساتھ منائي جارہی ہے۔
شیعیت نیوز کے نمائندے  نے المنار کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ لبنان کے مختلف شہروں بالخصوص ضاحیہ علاقہ میں سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی عزاداری عقیدت اور احترام کے ساتھ منائي گئی۔ اطلاعات کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک میں نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے بہتر باوفا ساتھیوں کی یاد عقیدت اور احترام کے ساتھ منائی گئی۔

اے حسین! دشمن ہمیں مار کر جلا ہی کیون نا دے لیکن ! ہم آپ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، قائد مقاومت

شیعیت نیوز: حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل جناب سید حسن نصراللہ نے سابقہ برسوں کی مانند اس سال بھی یوم عاشور پر ویڈیو کانفرنس کے توسط سے عزاداران حسینی سے خطاب کیا اور کہا: داعش امت مسلمہ کے لئے کھڑا کیا گیا شدیدترین اور سنجیدہ ترین خطرہ ہے۔ دیکھ لیجئے کہ اس نے علاقے کو کتنا بڑا نقصان پہنچایا ہے اور کس قدر عالمی سطح پر اسلام اور رسول اللہ(ص) کے چہرہ مبارک کو بگاڑ کر دنیا والوں کے سامنے پیش کیا ہے۔ دیکھ لیجئے اس ٹولے نے امریکہ اور اسرائیل کے منصوبوں کی کس قدر خدمت کی ہے؟
آج میں اعلان کرتا ہوں کہ داعش اور ظلم و فساد کے خاتمے کے لئے جہاں بھی ضرورت پڑے، جنگ کو جاری رکھیں گے۔ مسلمانوں اور خطے کے ممالک اور اقوام و معاشروں کو دیکھ لینا چاہئے کہ داعش بنائی کس نے ہے، کون اس کو مالی اور عسکری امداد فراہم کررہا ہے؟ ان افراد اور قوتوں کو پہچان لینا چاہئے؛ لاکھوں افراد مارے گئے ہیں، اسلام کا چہرہ بگاڑا جا چکا ہے اور یوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی بگڑی ہوئی تصویر دنیا والوں کے سامنے پیش کی گئی ہے، اس مسئلے کے پس پردہ عوامل اور قوتوں کو بےنقاب کرنا چاہئے اور ان کی بازخواست پر اصرار ہونا چاہئے۔
ان جرائم کے پس پردہ قوتوں کے چہرے سے نقاب کھینچ لینا چاہئے۔ پوری دنیا کے مسلمان، ان کے علماء اور دانشوروں کو اس سلسلے میں کانفرنسوں کا انعقاد کرنا چاہئے تا کہ وہ اس نادرالظہور شیئے [تکفیری وہابیت] کو پہچان لیں تا کہ یہ شیئے ایک بار پھر کسی اور زمانے اور کسی اور ملک میں نہ دہرائی جائے۔
آج کل ایک بار پھر صہیونی ریاست کی طرف سے دھمکی آمیز بیانات سامنے آرہے ہیں لیکن ہم صہیونی دشمن کو متنبہ کرتے ہیں اور مقبوضہ سرزمین میں آبسنے والے یہودیوں کو بھی خبردار کرتے ہیں کہ اپنے مقدرات صہیونی ریاست کے سپرد نہ کریں۔
اسرائیل لبنان کو دھمکی دینے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتا اس نے شمالی بریگیڈ کی جنگی مشقوں سے قبل اور اس کے بعد ـ جبکہ وہ شام پر اپنی جارحیت کا جواز پیش کررہا تھا اور حزب اللہ کی تقویت کے لئے نئے وسائل پہنچنے کا خطرہ بطور بہانہ پیش کررہا تھا ـ لبنان کی فضائی حدودی کی خلاف ورزی کا سلسلہ بھی جاری رکھا اور اس کی کوشش ہے کہ جنگ کو لبنان کی طرف کھینچ لائے۔
اگر جنگ شروع ہوجائے تو اسرائیل اس کی درست تشخیص نہیں کرسکے گا
میں اسرائیل کو خبردار کرتا ہوں کہ ہم نے محاذ مزاحمت میں ابتداء ہی سے اعلان کیا ہے کہ ہماری اصل جنگ صہیونی غاصبین کے ساتھ ہے ہماری جنگ ایک آسمانی دین کے پیروکار یہودیوں کے خلاف نہیں ہے۔ صہیونی تحریک نے یہودیوں سے غلط فائدہ اٹھایا ہے تا کہ فلسطین میں نوآبادیاں بنانے کے غاصبانہ منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچائے۔ یہودی خطے کے عرب عوام کے خلاف نئی امریکی جنگ کا ایندھن ہیں۔ جب ہمارے عوام اپنی مٹی اور اپنی ناموس کے تحفظ کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو یہ جھوٹی تشہیری مہم چلا کر ان پر یہودیت دشمنی کا الزام لگاتے ہیں۔ میں علمائے یہود سے کہتا ہوں کہ جو لوگ تمہیں یہاں لائے ہیں، آخر کار یہ تمہاری نابودی کی کوشش کریں گے۔ نیتن یاہو حکومت تمہارے عوام کو ہلاکت اور نابودی کی دلدل میں دھکیل رہی ہے، نیتن یاہو خطے کو جنگ کی آگ میں دھکیل رہا ہے اور یہ جنگ تمہارے نقصان میں ہے اور اس کے لئے تمہیں بھاری تاوان ادا کرنا پڑے گا۔ نیتن یاہو خطے، لبنان اور شام کو ـ اس کے بزعم ـ پیش بندی پر مبنی جنگ میں الجھانا چاہتا ہے حالانکہ نہ وہ خود اگلی جنگ کی کیفیت، حجم اور نتائج کی صحیح تشخیص دے سکتا ہے نہ اس کی حکومت اس کے قابل ہے۔ اس کو نہیں معلوم کہ اگر جنگ شروع ہوجائے تو اس کا خاتمہ کیسے ہوگا؟ اگر اس نے حماقت کرکے جنگ کا آغاز کیا تو وہ اس جنگ کے سلسلے میں صحیح تصور نہيں رکھتا۔
یہودی اپنا کھاتہ الگ کریں
آج میں تمام غیر صہیونی یہودیوں کو دعوت دیتا ہوں کہ اپنا کھاتہ ان صہیونیوں سے الگ کریں جو اپنے آپ کو حتمی ہلاکت میں ڈال رہے ہیں۔ میں انہيں دعوت دیتا ہوں کہ سرزمین فلسطین کو چھوڑ کر چلے جائیں اور ان ہی ممالک میں جا بسیں جہاں سے وہ آئے ہیں۔ ا‏گر نیتن یاہو نے علاقے میں نئی جنگ کا آغاز کیا تو ان کے پاس فلسطین چھوڑنے کی فرصت نہ ہوگی۔ دشمن ریاست کو جان لینا چاہئے کہ وقت بدل گیا ہے اور جن لوگوں [عرب حکمرانوں] کے ساتھ اتحاد پر تم نے اعتماد کیا ہے وہ تمہارے لئے وبال جان بن جائیں گے۔
اسرائیلیوں سے کہتا ہوں کہ: تم جانتے ہو کہ یہ جو تمہارے حکمران تم سے کہہ رہے ہیں کہ وہ اس بار جنگ کو آخری جنگ کے طور پر لڑ کر ختم کردیں گے، یہ ایک بڑا جھوٹ ہے، وہ تم سے جھوٹ بول رہے ہیں لہذا اپنے احمق سرکردگان کو اپنے ساتھ مہم جوئی کرنے کی اجازت نہ دو کیونکہ یہ مہم جوئی تم یہودیوں کے لئے ہر چیز کا خاتمہ ثابت ہوگی اور اگر جنگ شروع ہوئی تو مقبوضہ فلسطین کا کوئی بھی نقطہ محفوظ نہيں ہوگا۔
اصل امریکی منصوبہ علاقے کی تقسیم در تقسیم ہے
لوگوں کو دشمن کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں خوداعتمادی سے کام لینا پڑے گا، اگر عراقی، شامی اور ایرانی امریکی سرکردگی میں عالمی اتحاد کا انتظار کرتے تو داعش اس وقت قائم و برقرار ہوتی۔ داعش کا نعرہ تھا:"باقیة و تتمدد" [ہم باقی ہیں اور وسعت پائیں گے]۔ ہمیں اس وقت علاقے کی تقسیم کے خطرے کا سامنا ہے۔ اگر علاقے کے عوام امریکہ پر اعتماد کریں تو تقسیم کا یہ منصوبہ عملی صورت میں نافذ کیا جائے گا اور علاقے میں اصل امریکی منصوبہ تقسیم در تقسیم ہے۔
آج ہم عراقی قوم اور علاقے کی تمام اقوام کو دعوت دیتے ہیں کہ اپنے دوست اور اپنے دشمن کو پہچان لیں اور امریکیوں پر اعتماد نہ کریں، اپنے بازؤوں کا سہارا لو، خوداعتمادی کو شعار بناؤ اور اپنے حقیقی دوستوں سے مدد لو۔ اس علاقے میں رونما ہونے والی تمام تر بدبختیوں کی اصل جڑ ہی امریکہ ہے۔ امریکہ کی نئی حکومت شمالی کوریا سے لے کر وینیزویلا اور کیوبا تک جنگیں شروع کرنے کے منصوبے بنا رہی ہے۔ ہمیں ایسی حکومت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو انسانوں کی بدبختیوں کی اصل جڑ ہے اور اس پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ بڑی آسانی سے اپنے ہی کئے ہوئے معاہدوں تک کی خلاف ورزی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے!
آخری فتح یمنی عوام کی ہوگی
یمن اور بحرین پر امریکہ اور عالمی طاقتوں کے زیر سرپرستی سعودی جارحیت جاری ہے، یمن پر جاری ظالمانہ جارحیت سے سعودی حکمران اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکے چنانچہ اب بس اس جنگ کو بند ہونا چاہئے۔ ہم ایک بار پھر اس امریکی ـ سعودی جنگ کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ ایسی جنگ ہے جس میں نہتے عوام کو ہر روز مارا جارہا ہے اور گھروں اور بازاروں میں عوام کو نشانہ بناکر قتل کیا جارہا ہے۔
کیا وہ وقت نہیں آیا کہ سعودی حکمران سمجھ لیں کہ ان کی مسلط کردہ جنگ کا کوئی روشن نتیجہ نظر نہيں آرہا؟ یمنی عوام مزاحمت کرکے طویل عرصے سے سعودیوں کے تمام تر منصوبے خاک میں ملا رہے ہیں، وہ شہروں کے چوراہوں کو پر کرکے ریلیاں نکالتے اور مظاہرے کرتے ہیں اور محاذ کو بھی پر کئے ہوئے ہیں تا کہ سیاسی اور سماجی میدان میں بھی اور جنگ و جہاد کے میدان میں بھی اپنی مزاحمت و استقامت کا ثبوت دیں لہذا وہ اسی پامردی کے بدولت اس جنگ کے فاتح ہونگے چاہے اس جنگ کی قیمت جتنی بھی ہو۔ کیونکہ مزاحمت و پامردی کی قیمت ہمیشہ ہمیشہ سرتسلیم خم کرنے اور ہتھیار ڈالنے سے کمتر ہے۔
بحرین اور برما
آج ہم بحرین کے مظلوم عوام کو بھی یاد کرنا چاہتے ہیں جن کی چاردیواری کی بےحرمتی ہوتی ہے، اور جن کے فرزندوں کو جیلخانوں میں ڈالا جاتا ہے، علمائے بحرین پر دباؤ بڑھایا جاتا ہے تا کہ منامہ بھی دشمن صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی جانب قدم بڑھا سکے۔
ہم برما کے مسلمانوں کے ساتھ بھی یکجہتی کا اعلان کرتے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ ان پر ڈھائے جانے والے مظالم ایک نیا المیہ ہے جو کہ امت پر نازل کیا گیا ہے۔ برما میں ہونے والے جرائم اس حقیقت کی نشان دہی کرتے ہیں کہ اسلامی تعاون تنظیم مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے کیونکہ وہ اس سلسلے میں بہت چھوٹی سا اقدام اپنے ذمے نہیں لے سکی ہے۔ عظیم ذمہ داری اسلامی ممالک پر عائد ہے اور ان ممالک کو دیر ہوجانے سے پہلے ہی اٹھ کر کچھ کرنا چاہئے۔ ہم سب کو جان لینا چاہئے کہ ان جرائم کی اصل ذمہ داری برما کی فاشی اور نسل پرست حکومت پر ہے۔
نعرہ لگاؤ: "اے حسین! ہم نے آپ کو تنہا نہیں چھوڑا
رپورٹ کے مطابق، لوگ نے سید حسن نصراللہ کے خطاب کے آخر میں "لبیک یا حسین" کا نعرہ لگانا شروع کیا تو انھوں نے کہا: ہم جب کہتے ہیں کہ "لبیک یا حسین" تو ہمارا یہ نعرہ صداقت پر استوار ہے اور اب ہمیں عاشورائی نعروں میں ایک نعرے کا اضافہ کرنا چاہئے کہ: "اے حسین ! ہم نے آپ کو تنہا نہيں چھوڑا"، آپ جو اس طرح میدانوں کو پر کررہے ہیں؛ وہ افراد جو جنگ میں جام شہادت دوش کرتے ہیں، اور جو لوگ زخمی ہوتے ہیں وہ سب کہتے ہیں کہ: "اے حسین! ہم نے آپ کو تنہا نہيں چـھوڑا"، پوری دنیا جان لے! اللہ کی قسم! اے ابا عبداللہ! اگر دشمن ہمیں مار دیں اور آگ میں جلا دیں اور ہماری راکھ کو ہوا میں بکھیر دیں اور ہزار بار اس عمل کو دہرا دیں، اے حسین! ہم آپ کو ہرگز تنہا نہيں چھوڑیں گے۔