Thursday, 19 October 2017

!!وطن سے محبت شیعہ عقیدہ ھے آپ اس کا ادراک نہیں کر سکتے زید حامد صاحب

شیعیت نیوز: زید حامد صاحب ذراء یہ بتائیں ، آج سے پہلے جب آپ پاکستان کی بقاء کی بات کرتے تھے اور پاکستان دشمن قوتوں کی نشاندہی کرتے تھے تو کبھی شیعہ قوم نے آپ کے خلاف بات کی ؟ ملتِ مظلوم شیعان علی (ع) ہمیشہ حق کا ساتھ دیتی آئی ہے اور جب بھی آپ سمیت کسی بھی فرد نے پاکستان کی بقاء کی بات کی تو اس قوم نے اس کی بات کو سنا مگر جب سے آپ سعودی جیل سے برین واش ہو کر واپس آئے ہیں اور پاکستان کے محب وطن شیعہ قوم کے خلا ف زہر اُگلنا شروع کردیا تو ہم نے بھی ضروری سمجھا کہ حقائق کو سامنے لایا جائے ۔۔ شیعیت نیوز کا اپنے قیام سے ہی یہی مقصد رہا ہے کہ اسلام امریکی کہ مقابلے میں اسلام محمدی (ص) کا دفاع کرنا ، مکتب اہلییت (ع) کہ خلاف سازشوں اور جھوٹے پروپیگنڈے کو ناکام بنانا اور وطن عزیز پاکستان کہ خلاف سازشوں کو اشکار کرنا اور اسکا مقابلہ کرنا ۔۔۔۔
زید حامد صاحب !! اپنے نام کے ساتھ سید لگانے سے آپ شیعہ قوم کی ہمدری نہیں لے سکتے ۔ آپ یہ بتائیں کہ پاکستان میں بسنے والی شیعہ قوم نے کب پاکستان کیخلاف بات کی ؟ کب کسی شیعہ عالم دین نے پاکستان کی بقاء کے خلاف کوئی لفظ بھی ادا کیا ھوا؟؟؟
زید حامد صاحب !کیا آپ کو نہیں معلوم کہ شیعہ قوم نے پاکستان کے قیام سے ابتک اس ملک میں ۲۰ ہزار سے زائد لاشے اُٹھائے۔ ۲۰۱۳ میں کوئٹہ شہر۱۰۰ سے زائد شہداء کہ جنازے اُٹھانے کہ باوجودکبھی پاکستان کی سالمیت کہ خلاف آواز اٹھانا تو درکنار سوچنا بھی گوارا نہیں کیا ۔ کیا آپ نے پاکستان کہ جیّد شیعہ علماء کرام علامہ شیخ محسن نجفی، علامہ ساجدعلی نقوی ، علامہ ریاض حسین نجفی، علامہ راجہ ناصر عباس ، علامہ حسن ظفر نقوی ، علامہ امین شہیدی اور دیگر علماء کرام کو کبھی پاکستان کی سالمیت کہ خلاف بات کرتے ھوئے سنا ھے ؟؟؟آپ کو تو یہ بھی نہیں معلوم کہ سپاہ محمد کیوں وجود میں آئی ۔ جہاں تک ہم جانتے ہیں سپاہ محمد کا وجود بے گناہ شیعہ جوانوں کے قتل عام کے خلاف تھا مگر انہوں نے کبھی بھی پاکستان کی سالمیت پر کوئی حملہ نہیں کیا ۔ زید حامد صاحب ، کیا آپ نہیں جانتےکہ تحریک طالبان، انصار الشریعہ ، سپاہ صحابہ ، لشکر جھنگوی ، انصار الامہ ، جند اللہ اور دیگر دہشت گرد گروہ جو وطن عزیز پاکستان کے شہریوں اور ریاستی اداروں کے خلاف منظم کاروائیاں کرتے ہیں ان کا تعلق مکتب اھلبیت ( شیعہ ) سے نہین بلکہ دیو بند مسلک سے ھے ۔۔کیا آپ نہیں جانتے کہ یہ دہشت گرد گروہ پاکستان کی سالمیت کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں ۔ زید حامد صاحب آپ نے جو یہ پاراچنار کے شیعہ مومنین کو غداری کا سرٹیفیکٹ دینے کی ناکام کوشش کی ہےتو ذرا یہ جان لیں کہ گزشتہ ۱۰ ماہ میں پاراچنار کہ مومنین نے ۴۰۰ سے زائد اپنے پیاروں کو وطن عزیز پہ قربان کیا ھے اور جمعۃ الوادع کو ہونے والے دھماکہ میں شہادتوں کہ بعدپر امن دھرنا دیا اور مطالبہ کیا کہ ایف سی میں موجود کالی بھیڑوں کا صفایا کیا جائے ۔ اُس وقت بھی آپ نے ان غیور جوانوں کے خلاف ملک دشمن قوتوں کے ایماء پر زہر اُگلا تھا مگر آپ کی وہ سازش بھی ناکام ہو گئی تھی جب پاکستان کہ غیور سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاراچنار کا دورہ کر کے مظلوم شیعہ قوم کے مطالبات تسلیم کئے ۔ جناب یہ بات بھی ذہن نشین کر لیں کہ پاکستان کی مغربی سرحد پر خار دار باڑ لگانے کا سب سے پہلا مطالبہ بھی پاراچنار کے غیور شیعہ جوانوں نے کیا تھا ۔ زید حامد صاحب خدارا ہو ش کے ناخن لیں اور ملت جعفریہ پاکستان کے خلاف زہر اُگلنا بند کرو ورنہ ھم تو وہ قوم ھے جس نے ۱۴۰۰ سے یزید اور اسکی نسل کا تعاقب نہیں چھوڑا ۔۔۔ رھی بات مادر وطن پاکستان کی حفاظت و محبت کی تو یہ بات ذھن نشین کرلوُ " وطن سے محبت و اسکی حفاظت مکتب تشیع ( شیعہ مسلمانوں ) کہ عقیدہ ہے۔ اس کہ لیے ھمیں تم جیسے " امریکی و را کہ ایجنٹ " سے کسی سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ۔۔۔ جس وقت تم ھمارے بزرگان کہ خلاف کانگریس سے مل کر مہم چلا رھے تھے اور قائد اعظم کو کافر اعظم قرار دے رھے تھے اس وقت ھم قیام پاکستان کہ لیے اپنی جانوں کا نذرانہ دے رھے تھے اور اجُ اس کہ قیام کہ ۷۰ سالوں بعد بھی اپنے لہو سے پاک وطن کی آبیاری کررھے ھیں

طالبان نے دہشتگرد عمر منصور کی ہلاکت کی تصدیق کردی

شیعیت نیوز: کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) اور چارسدہ یونیورسٹی پر حملوں کے ماسٹر مائنڈ اور ٹی ٹی پی کے گیڈر گروپ (گیدار گروپ) کے آپریشنل سربراہ عمر منصور عرف خلیفہ منصور عرف عمر نارے کی ہلاکت کی تصدیق کردی۔ بدھ کے روز ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی نے میڈیا کو بھیجی گئی ایک ای میل میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان درہ آدم خیل اور پشاور کے سابق امیر خلیفہ عمر منصور کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی جگہ خلیفہ عثمان منصور کو نیا امیر مقرر کردیا گیا ہے۔پشاور آرمی پبلک اسکول حملے میں شہید ہونے والے بچے کے والد طفیل خان خٹک نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس ہولناک حملے کے ماسٹر مائنڈ کی ہلاکت پر پوری دنیا خوش ہوگی۔
گزشتہ برس بھی منصور کی ہلاکت کی رپورٹس منظر عام پر آئی تھیں تاہم نہ ہی حکام اور نہ شدت پسندوں نے اس کی تصدیق کی تھی۔ ٹی ٹی پی نے اپنے حالیہ بیان میں عمر منصور کی ہلاکت کی وجہ اور اس کے مقام کی تفصیلات نہیں بتائیں۔تاہم ٹی ٹی پی کی جانب سے خلیفہ منصور عرف عمر نارے کی ہلاکت کی تصدیق ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب گذشتہ روز سیکورٹی اداروں نے کہا تھا کہ حال ہی میں پاک-افغان سرحد پر ہونے والے ڈرون حملوں میں جماعت الحرار کے امیر عمر خالد خراسانی کے شدید زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

جیل بھرو تحریک تیسرا مرحلہ: مولانا ناظم مسجد دربار حسینی ملیر سے گرفتاری دیں گے

شیعیت نیوز: شیعہ مسنگ پرسنز ریلیز کمیٹی کی جانب سے کل بروز جمعہ 20اکتوبر 2017ء کو مسجد دربار حسینی ملیر سے بعد از نماز جمعہ احتجاً شیعہ ایکشن کمیٹی کے رہنما مولانا ناظم اپنی گرفتاری پیش کریں گے۔
واضح رہے کہ لاپتہ شیعہ افراد کی بازیابی کے لئے علامہ حسن ظفر نقوی نے جیل بھرو تحریک کا آغا کیا تھا، اس سلسلے کے تیسرے مرحلے میں کل شیعہ ایکشن کمیٹی کے رہنما مولانا ناظم علی آزاد گرفتاری پیش کریں گے۔

علامہ حسن ظفر نقوی نے لاپتہ شیعہ عزاداروں کی بازیابی تک بھوک ہڑتال کا اعلان کردیا

شیعیت نیوز:بغدادی تھانے میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے علامہ حسن ظفر نقوی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات کی سخت مذمت کرتے ہیں، جن میں کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے افراد، پولیس کے جوان، اور کرم ایجنسی میں فوج کے جوان شہید ہوئے ۔علامہ حسن ظفر نقوی کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئ ماہ سے ہم نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے ہر سطح پر آواز اٹھائ اور پھر 6 اکتوبر سے از خود گرفتاری پیش کرنے کی تحریک کا آغاز بھی کیا ، لیکن آج دو ہفتے گزرنے کے باوجود حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی ۔ کیونکہ ان لاپتہ افراد میں کسی کا باپ نواز شریف نہیں ہے، کسی کا بیٹا حسن نواز اور حسین نواز نہیں ہے، کسی کی بیٹی مریم نواز نہیں ہے، کسی کا داماد کیپٹن صفدر نہیں اور کسی کا سمدھی اسحاق ڈار نہیں کہ جن کے لئے ساری حکومت اور حکومتی مشنری مدد کرنے کے لئے میدان میں اتری ہوئی ہے ۔ انھیں بچانے کے لیے پرانے قوانین بدلے جا رہے ہیں اور نئے قوانین بنائے جا رہے ہیں اور آئین کی دھجیاں اڑائ جا رہی ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ لاپتہ افراد تو وہ غریب اور عام پاکستانی ہیں جن کی فریاد سننے کا وقت کسی کے پاس نہیں ہے۔ ان لاپتہ افراد کے بوڑھے ماں باپ، اور بیوی بچے در در مارے مارے پھر رہے ہیں مگر حکمرانوں کے کانوں میں سیسہ پڑا ہوا ہے، انھیں سوائے اپنے مفادات کے تحفظ کے کوئ آواز سنائ نہیں دیتی ۔ہم نے پر امن جدوجہد کے ذریعے پیغام دیا اور دے رہے ہیں کہ ہم صرف اپنا آئینی اور قانونی حق مانگ رہے ہیں، مگر وہ حق ہمیں نہیں دیا جا رہا ۔
یہ گرفتاریوں کی تحریک تمام شیعہ تنظیموں کے فیصلوں کے ساتھ آگے بڑھتی رہے گی ۔ مگر میں اس موقع پر اعلان کر رہا ہوں کہ میں نے گزشتہ روز سے بھوک ہڑتال شروع کر دی ھے ۔اور یہ بھوک ہڑتال نتائج کے حصول تک جاری رہے گی چاہے میری جان ہی چلی جائے ۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نہیں کہتے کہ اگر ان جوانوں پر کوئی کیس ہے تو انہیں آزاد کردو بلکہ ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمیں ائین و قانون کے مطابق انصاف دو،ہمیں بتاو کہ وہ لاپتہ افراد زندہ ہیں یا نہیں، اگر وہ قانون شکنی میں ملوث رہے ہیں تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائےمگر ملک کے افراد کو لاپتہ کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔
علامہ حسن ظفر نقوی کا کہنا تھا کہ میرے پاس لاپتہ افراد کے مظلوم وارثوں سے یک جہتی کا جو بھی راستہ ہے اختیار کروں گا ۔ انتہائ افسوس کے ساتھ اس بھوک ہڑتال کا اعلان کر رہا ہوں کہ " یہ کیسا نظام ھے کہ جہاں اپنے بنیادی انسانی حق کے حصول کے لئے بھی اپنی جان پر کھیلنا پڑتا ھے ۔"
مجھے معلوم ہے کہ میری بھوک ہڑتال سے بھی حکمرانوں بے حسی اور ڈھٹائ پر کوئی اثر پڑنے والا نہیں ھے، مگر کم از کم جہاں جہاں ابھی ضمیر انسانی زندہ ہے وہاں ضرور میری آواز پہنچے گی۔

فلسطین میں ذرائع ابلاغ کے دفاتر پر صیہونی فوجیوں کے حملوں کی مذمت

اسلامی ریڈیو اور ٹیلی ویژن چینلوں کی یونین نے بدھ کو اپنے ایک بیان میں فلسطینی سیٹلائٹ ٹی وی چینلوں کے دفاتر پر اسرائیلی فوجیوں کےحملوں اور ان کے کارکنوں کوگرفتار کئے جانے کی مذمت کی ہے۔
مذکورہ یونین نے غرب اردن کے شہروں الخلیل، رام اللہ، نابلس اور بیت لحم میں ٹرانس میڈیا، پال میڈیا اور رامسات جیسی میڈیاسروس کی کمپنیوں اور کئی بین الاقوامی سیٹلائٹ ٹی وی چینلوں منجملہ فلسطین الیوم، القدس، الاقصی اور المنار ٹی وی کے دفاتر پر حملے اور انہیں بند کئے جانے کو فلسطینی ذرائع ابلاغ کے خلاف اسرائیل کی کھلی جنگ قراردیا۔
اسلامی ریڈیو اور ٹی وی چینلوں کی یونین کےبیان میں کہا گیا ہے کہ صیہونی فوجیوں کے حملوں فلسطین الیوم، القدس، الاقصی اور المنار ٹی وی چینلوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو اس یونین کے ممبر ہیں۔
بیان میں اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ صیہونی حکومت ہر اس قومی اور آزادی پسندی کی آواز کو دبانے کی کوشش کررہی ہے جو غاصب اسرائیل کے ماہیت اور حقیقت کو آشکارہ کرتی ہے، کہا گیا ہے کہ صیہونی حکومت اس سے پہلے بھی اسی طرح کے اقدامات کا ارتکاب کرچکی ہے لیکن وہ فلسطینی ذرائع ابلاغ کی آواز کو دبانے میں ناکام رہی ہے۔
فلسطین میں اسلامی ریڈیو اور ٹیلی ویژن چینلوں کی یونین نے صیہونی حکومت کے اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین اور معاہدے کے منافی بتایا اور عالمی اداروں سے کہا ہے کہ صیہونی حکومت پر دباؤ ڈالے تاکہ میڈیا کےخلاف وہ اپنے اقدامات کو بند کرے۔
دوسری جانب فلسطینی گروہوں نے بھی الگ بیانات جاری کرکے فلسطین کے ٹی وی چینلوں اور میڈیا کے دفاتر کو بند کرنے کے صیہونی فوجیوں کے اقدام کی مذمت کی ہے۔
فلسطین کی تحریک جہاد اسلامی نے بدھ کو ایک بیان جاری کرکے کہا ہے کہ فلسطین کے سیٹلائٹ ٹی وی چینلوں اور میڈیا کے دفاتر پر صیہونی فوجیوں کے حملے فلسسطینی بچوں خواتین اور بوڑھوں کے خلاف غاصب صیہونیوں کے حملوں کے جرائم کو افشا کرنے میں فلسطینی میڈیا کی طاقت کے مقابلے میں اسرائیلی حکومت کی بے بسی کی علامت ہے۔
عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین اور فتح الانتفاضہ جیسی تنظیموں نے بھی صیہونی فوجیوں کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی ذرائع ابلاغ تمام تر مشکلات اور چینلجوں کے باوجود اپنا مشن جاری رکھیں گے۔