Thursday, 19 October 2017

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی شاہراہ فیصل و بغدادی تھانے میں علامہ حسن ظفرو احمد اقبال سے ملاقات

شیعیت نیوز: جیل بھرو تحریک کے سلسلے میں رضاکارانہ طور پر گرفتاری پیش کرنے والے ،علامہ حسن ظفر نقوی اور علامہ احمد اقبال رضوی سے مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے بغدادی اور شاہر اہ فیصل تھانے میں ملاقات کی۔
اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم کراچی کا وفد بھی موجود تھا، علامہ راجہ ناصر عباس نے لاپتہ شیعہ افراد کی بازیابی کے لئے چلائی جانے والی جیل بھرو تحریک کی مکمل حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ اس جرمت مندانہ اقدام سے مطالبات یقیناً پورے ہونگے، شہادت اور اسیر ی ہماری میراث ہے۔
واضح رہے کہ لاپتہ شیعہ افراد کی بازیابی کے لئے علامہ حسن ظفر نقوی نے جیل بھرو تحریک کا آغا کیا تھا، اس سلسلے کے تیسرے مرحلے میں کل شیعہ ایکشن کمیٹی کے رہنما مولانا ناظم علی آزاد گرفتاری پیش کریں گے۔

تشیع پاکستان اور استعماری فتنے

انیسویں اور بیسوی صدی عیسوی میں برطانوی استعمار نے اپنے مقبوضہ علاقوں میں بہت سارے فتنوں کی بنیاد رکھی۔ بوڑھے استعمار نے کہیں پر سرحدوں کا مسئلہ کھڑا کیا، کہیں پر لسانیت وقومیت کو ہوا دی، اور کہیں پر دین ومذہب اورفرقوں کے نام پر بت تراشے۔
انہیں فتنوں میں سے ایک فتنہ جو اہل تشیع کے درمیان بویا گیا وہ شیخیت اور خالصیت کا فتنہ ہے. اس فتنے کو بالخصوص عراق ، لبنان اور پاکستان میں نسبتا زیادہ ہوا دی گئی. پاکستان میں جب امریکی اور روسی نفوذ کی سرد جنگ جاری تھی اور امریکہ نے اپنے ہدف کے حصول کے لئے جہاں دیگر حربے استعمال کئے ان میں سے ایک حربہ اہل سنت بالخصوص دیوبندی مکتب فکر اور جماعت اسلامی کو روس کے خلاف استعمال کرنا تھا ۔ اور جب امریکا آخر کار روس نواز وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوا ، تو پھر مذکورہ بالا قوتوں کو ضیاء الحق کے دور اقتدار میں پاکستان میں مزید پالابوسا اور طاقتور بنایا۔
70 ء کے عشرے میں جب پاکستان میں یہ سازش جاری تھی تو اسی دوران بانیان پاکستان کے فرزندوں کو غافل رکھنے اور سیاسی منظر نامے سے دور رکھنے کے لئے انہیں داخلی اختلافات میں بری طرح الجھا دیا گیا۔ برطانیہ کے لگائے ہوئے پودے شیخیت اور خالصیت کے فتنے کو بہت ہوا دی گئی اور پوری ملت تشیع فکری طور پر دو حصوں میں بٹ گئی ، جس کے نتیجے میں مساجد وامامبارگاہوں میں مکتب اہل بیت علیہم السلام کے پیروکاروں کے مابین واضح تقسیم ہو گئی۔
ایک گروہ اپنے آپ کو موحد وملتزم اور مد مقابل کو نصیری اور غالی کہنے لگا. اور اسی طرح دوسرا گروہ اپنے آپ کو موالی وخوش عقیدہ اور مد مقابل کو وہابی و مقصر کہنے لگا. طرفین نے محراب و منبر کو اس مشن کے لئے خوب استعمال کیا اور بعض اوقات تو لڑائی جھگڑے تک نوبت آ جاتی تھی. اور ہر ایک اپنے تئیں دین ومذھب اور تشیع کا دفاع کر رہا تھا۔
شیعیان پاکستان اسی طرح ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں لگے رہے اور دوسری طرف اقلیتی دیوبندی فرقہ، ملک پر قابض ہو گیا. دیوبندی حضرات کو اس وقت، امریکہ، سعودی عرب اور حکومت وقت تینوں کی سپورٹ حاصل تھی۔
اس زمانے میں اہل تشیع کے اکابرین سیاست کو شجرہ ممنوعہ سمجھ بیٹھے تھے اور بانی پاکستان کے فرزند منبر اور محراب سے یہ کہتے تھے .کہ ہمیں معاویہ کی سیاست سے کوئی سروکار نہیں، یہ شریفوں کا پیشہ نہیں، ہمیں تو فقط رونے دو، ہمیں فقط مذھبی رسوم کی ادائیگی کے لئے آزادی چاہیے، تم لو اقتدار اور سنبھالو حکومت ، ہمیں تو فقط عزاداری چاہیے ۔
شیعہ سیاستدان بھی چونکہ شیعہ ووٹ کو اپنی جیب ڈیپازٹ سمجھتے تھے اور اب انہیں فقط سنی ووٹ درکار تھا. انھوں نے بھی اپنی اپنی کرسی بچانے اور سیاسی مفادات حاصل کرنے کے لئے تشیع کے حقوق کی کبھی بات نہ کی بلکہ اگر کوئی آواز اٹھتی تو عوامی پریشر اور اپنے نفوذ سے اسے دبا دیتے اور کہتے کہ ہم تو اقلیت ہیں اور غیر موثر ہیں۔
شیعہ عوام کو یہ باور کرایا گیا تھا کہ شیعہ نام سے سیاست میں جانا بے سود ہے. چنانچہ شیعیانِ پاکستان پر ظلم ہوتا رہا، بے بنیاد الزامات لگے ، حق تلفیاں ہوئیں ، مذھبی آزادی سلب ہوئی اور عزاداری کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں حتی کہ قتل و غارت اور قانون سازیاں تک ہوئیں. یہ تشیع کے ہمدرد سیاستدان نہ تو پارلیمنٹ میں کوئی دفاع کرتے اور جب کبھی کوئی گلہ شکوہ کرتا تو جواب میں کہتے کہ میں تو اہل سنت کے ووٹ سے اسمبلی میں پہنچا ہوں لہذا میں مذہب شیعہ کا دفاع نہیں کر سکتا۔
یوں ملک کے اکثریتی طبقات اہل سنت بریلوی اور شیعہ محکوم ہوتے گئے اور دیوبندی حضرات ملک کے تمام شعبوں میں سرایت کر گئے۔
یاد رہے کہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے بانی پاکستان کی آزادی واستقلال کی تحریک کی مخالفت کی تھی اور فتوے جاری کئے تھے. اور انہیں کافر اعظم تک کہا تھا. اور یہ لوگ پاکستان کے قیام اور ہندوستان سےعلیحدگی کے مخالف تھے۔
آج ایک بار پھر جب داعش کی شام وعراق میں ناکامی کے بعد امریکہ اور سعودیہ اسے افغانستان اور پاکستان منتقل کرنے میں مصروف ہیں تو بانیان پاکستان کے فرزندوں کے خلاف ایک بین الاقوامی سازش اپنے عروج پر ہے۔
وطن عزیز پاکستان ، پاکستانی مسلح افواج و عوام اور بالخصوص تشیع پاکستان سے عراق وشام کی ناکامی کا بدلہ لینے کے لئے امریکی صدر اپنی نئی پالیسی کا اعلان کر چکا ہے. جس کے تحت تکفیری مسلح گروہ مذھبی فتنوں کی آگ کے شعلے پورے ملک میں پھیلائیں گے اور اسے عراق وشام بنائیں گے ۔
دوسری طرف تشیع کی داخلی وحدت پر کاری ضربیں لگائی جا رہی ہیں. کچھ منحرف لوگ، امریکہ و برطانیہ کی ایما پر منبر و محراب سے فتنوں کو ھوا دینے کے لئے اپنی زبانیں بیچ چکے ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ ایک طرف ملکی اداروں اور ایوانوں میں بیٹھے ملکی مفادات کے دشمن اور متعصب افراد تشیع کو ہر لحاظ سے دبانے اور دیوار سے لگانے میں شبانہ روز مصروف ہیں. اور دوسری طرف ناعاقبت اندیش ہمارے اکثر قومی لیڈر ان تحولات اور سازشوں کو سمجھنے اور درست سمت میں قوم کی راھنمائی کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں ۔
ایسی صورتحال میں بشارت وولایت کے نام پر تشیع میں تقسیم ، اہل تشیع کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے. فقط بعض منحرف یا مخصوص عقائد ونظریات کے حامل افراد کی بنا پر عمومی حکم لگانا اور ایک صنف کو دوسری صنف کے مد مقابل لانا ، بلکہ ایک ہی صنف کے افراد کے مابین نفرتوں کی دیواریں کھڑی کرنا ، تشیع پر ہونے والے بیرونی حملوں سے کہیں زیادہ خطرناک ہے. حالات بتا رہے ہیں کہ اس وقت تشیع کا من حیث القوم وجود اور شیعوں کی عزت وناموس خطرے میں ہے۔
ہمیں کب احساس ہوگا کہ ہمارا وطن عزیز پاکستان اور شیعیان پاکستان ، اندرونی وبیرونی دشمنوں میں گھرے ہوئے ہیں. اس وقت باہمی وحدت واخوت اور مشترکہ دشمنوں کےخلاف متحد ہوئے بغیر ان مسائل سے نکلنا مشکل ہے۔
ہمیں مشکلات اور مسائل کے حل کے لئے متبادل راستے تلاش کرنے کی ضرورت ہے. ہمیں حکمت وبصیرت سے مسائل سلجھانے کی کوشش کرنی چاہیئے، ہرزی شعور سمجھ سکتا ہے ، کہ اس خالصیت وشیخیت یا ہدایت واصلاح کی موجودہ روش سے ناقابل تلافی نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔
امریکہ، سعودیہ، اسرائیل اور انکے اتحادیوں کی عراق وشام میں ذلت آمیز شکست وپسپائی در اصل ہماری رہبریت ومرجعیت اور مقاومت کی وجہ سے ہوئی ہے. اور آج انتقامی سازش کے تحت تشیع کے مابین اختلافات اور فتنوں کو ابھار کر ہمارے ایک بہت بڑے اور موثر طبقے کو رہبریت ومرجعیت اور مقاومت سے کاٹ کر الگ کیا جا رہا ہے۔ اور بہت سارے مخلص افراد لاشعوری طور پر دشمن کے معاون ومدد گار بن رہے ہیں۔
افسوس کی بات تو یہ ہے کہ منبرِ اہل بیتؑ پر آنے والے بعض افراد یہ تک بھول جاتے ہیں کہ آج اگر اھل بیت علیہم السلام کے مزارات اور حرمِ سیدہ ؑ کو دشمنان خدا منہدم نہیں کرسکے تو اس کا سبب یہی رہبریت ومرجعیت اور مقاومت ومدافعینِ حرم کا میدان میں موجود ہونا ہے۔ یہ اللہ تعالی کی عطا کردہ مرجعیت کی بصیرت، اجتھاد کا ثمر اور علمائے کرام کی قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ دشمن زلیل اور ناکام ہوا ہے۔
وگرنہ کون نہیں جانتا کہ بقیع کی طرح ایک بار پھر وھابیت اور آل سعود کربلا ونجف ، کاظمین و سامراء اور شام میں حرم مطہر حضرت زینب وحضرت رقیہ بنت حسین علیہما السلام اور دیگر سب مزارات کو شہید اور خراب کر نے کے درپے تھے۔
اس وقت منبر پر آنے والے افراد کی اوّلین زمہ داری بنتی ہے کہ وہ دشمن کے مقابلے کے لئے مرجعیت و اجتہاد کے مورچے کو مضبوط کریں اسی طرح مرجعیت و اجتھاد کے علمبرداروں کو بھی چاہیے کہ وہ کوئی ایسا کام نہ کریں جو ملت میں تقسیم اور تفرقے کا باعث بنے۔
ہمارا دشمن انتہائی تجربہ کار، مکار اور خبث باطن میں سر فہرست ہے لہذا ہم سب کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جو بھی ہمیں تقسیم کرنے کی کوشش کرے وہ در اصل شعوری یا لاشعوری طور پر دشمن کا آلہ کار ہے۔
تحریر: ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی

شام کا دفاعی میزائل سسٹم اسرائیلی جنگی طیاروں کے شکار کے لئے آمادہ

شام نے اسرائیل کے جنگي طیاروں کی طرف مسلسل فضائی خلاف ورزیوں کے پیش نظر اپنے دفاعی میزائل سسٹم کو اسرائیلی جنگي طیاروں کے شکار کے لئے آمادہ کرلیا ہے۔شام کے دفاعی میزائل سسٹم نے اسرائيل کے ایک جنگی طیارے کو نشانہ بنایا جس نے لبنان کی سرحد سے شام کی فضائي حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ شامی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے 16 اکتوبر کو حسب معمول شام کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا لیکن شام کے دفاعی میزائل سسٹم نے اسرائيل کے ایک جنگي طیارے کو نشانہ بنایا جبکہ باقی طیارے فرار ہونے پر مجبور ہوگئے۔ شامی فوج کے مطابق شام کا نیا میزائل سسٹم اسرائيلی طیاروں کو شکار کرنے کے لئے آمادہ ہے۔

!!وطن سے محبت شیعہ عقیدہ ھے آپ اس کا ادراک نہیں کر سکتے زید حامد صاحب

شیعیت نیوز: زید حامد صاحب ذراء یہ بتائیں ، آج سے پہلے جب آپ پاکستان کی بقاء کی بات کرتے تھے اور پاکستان دشمن قوتوں کی نشاندہی کرتے تھے تو کبھی شیعہ قوم نے آپ کے خلاف بات کی ؟ ملتِ مظلوم شیعان علی (ع) ہمیشہ حق کا ساتھ دیتی آئی ہے اور جب بھی آپ سمیت کسی بھی فرد نے پاکستان کی بقاء کی بات کی تو اس قوم نے اس کی بات کو سنا مگر جب سے آپ سعودی جیل سے برین واش ہو کر واپس آئے ہیں اور پاکستان کے محب وطن شیعہ قوم کے خلا ف زہر اُگلنا شروع کردیا تو ہم نے بھی ضروری سمجھا کہ حقائق کو سامنے لایا جائے ۔۔ شیعیت نیوز کا اپنے قیام سے ہی یہی مقصد رہا ہے کہ اسلام امریکی کہ مقابلے میں اسلام محمدی (ص) کا دفاع کرنا ، مکتب اہلییت (ع) کہ خلاف سازشوں اور جھوٹے پروپیگنڈے کو ناکام بنانا اور وطن عزیز پاکستان کہ خلاف سازشوں کو اشکار کرنا اور اسکا مقابلہ کرنا ۔۔۔۔
زید حامد صاحب !! اپنے نام کے ساتھ سید لگانے سے آپ شیعہ قوم کی ہمدری نہیں لے سکتے ۔ آپ یہ بتائیں کہ پاکستان میں بسنے والی شیعہ قوم نے کب پاکستان کیخلاف بات کی ؟ کب کسی شیعہ عالم دین نے پاکستان کی بقاء کے خلاف کوئی لفظ بھی ادا کیا ھوا؟؟؟
زید حامد صاحب !کیا آپ کو نہیں معلوم کہ شیعہ قوم نے پاکستان کے قیام سے ابتک اس ملک میں ۲۰ ہزار سے زائد لاشے اُٹھائے۔ ۲۰۱۳ میں کوئٹہ شہر۱۰۰ سے زائد شہداء کہ جنازے اُٹھانے کہ باوجودکبھی پاکستان کی سالمیت کہ خلاف آواز اٹھانا تو درکنار سوچنا بھی گوارا نہیں کیا ۔ کیا آپ نے پاکستان کہ جیّد شیعہ علماء کرام علامہ شیخ محسن نجفی، علامہ ساجدعلی نقوی ، علامہ ریاض حسین نجفی، علامہ راجہ ناصر عباس ، علامہ حسن ظفر نقوی ، علامہ امین شہیدی اور دیگر علماء کرام کو کبھی پاکستان کی سالمیت کہ خلاف بات کرتے ھوئے سنا ھے ؟؟؟آپ کو تو یہ بھی نہیں معلوم کہ سپاہ محمد کیوں وجود میں آئی ۔ جہاں تک ہم جانتے ہیں سپاہ محمد کا وجود بے گناہ شیعہ جوانوں کے قتل عام کے خلاف تھا مگر انہوں نے کبھی بھی پاکستان کی سالمیت پر کوئی حملہ نہیں کیا ۔ زید حامد صاحب ، کیا آپ نہیں جانتےکہ تحریک طالبان، انصار الشریعہ ، سپاہ صحابہ ، لشکر جھنگوی ، انصار الامہ ، جند اللہ اور دیگر دہشت گرد گروہ جو وطن عزیز پاکستان کے شہریوں اور ریاستی اداروں کے خلاف منظم کاروائیاں کرتے ہیں ان کا تعلق مکتب اھلبیت ( شیعہ ) سے نہین بلکہ دیو بند مسلک سے ھے ۔۔کیا آپ نہیں جانتے کہ یہ دہشت گرد گروہ پاکستان کی سالمیت کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں ۔ زید حامد صاحب آپ نے جو یہ پاراچنار کے شیعہ مومنین کو غداری کا سرٹیفیکٹ دینے کی ناکام کوشش کی ہےتو ذرا یہ جان لیں کہ گزشتہ ۱۰ ماہ میں پاراچنار کہ مومنین نے ۴۰۰ سے زائد اپنے پیاروں کو وطن عزیز پہ قربان کیا ھے اور جمعۃ الوادع کو ہونے والے دھماکہ میں شہادتوں کہ بعدپر امن دھرنا دیا اور مطالبہ کیا کہ ایف سی میں موجود کالی بھیڑوں کا صفایا کیا جائے ۔ اُس وقت بھی آپ نے ان غیور جوانوں کے خلاف ملک دشمن قوتوں کے ایماء پر زہر اُگلا تھا مگر آپ کی وہ سازش بھی ناکام ہو گئی تھی جب پاکستان کہ غیور سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاراچنار کا دورہ کر کے مظلوم شیعہ قوم کے مطالبات تسلیم کئے ۔ جناب یہ بات بھی ذہن نشین کر لیں کہ پاکستان کی مغربی سرحد پر خار دار باڑ لگانے کا سب سے پہلا مطالبہ بھی پاراچنار کے غیور شیعہ جوانوں نے کیا تھا ۔ زید حامد صاحب خدارا ہو ش کے ناخن لیں اور ملت جعفریہ پاکستان کے خلاف زہر اُگلنا بند کرو ورنہ ھم تو وہ قوم ھے جس نے ۱۴۰۰ سے یزید اور اسکی نسل کا تعاقب نہیں چھوڑا ۔۔۔ رھی بات مادر وطن پاکستان کی حفاظت و محبت کی تو یہ بات ذھن نشین کرلوُ " وطن سے محبت و اسکی حفاظت مکتب تشیع ( شیعہ مسلمانوں ) کہ عقیدہ ہے۔ اس کہ لیے ھمیں تم جیسے " امریکی و را کہ ایجنٹ " سے کسی سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ۔۔۔ جس وقت تم ھمارے بزرگان کہ خلاف کانگریس سے مل کر مہم چلا رھے تھے اور قائد اعظم کو کافر اعظم قرار دے رھے تھے اس وقت ھم قیام پاکستان کہ لیے اپنی جانوں کا نذرانہ دے رھے تھے اور اجُ اس کہ قیام کہ ۷۰ سالوں بعد بھی اپنے لہو سے پاک وطن کی آبیاری کررھے ھیں

طالبان نے دہشتگرد عمر منصور کی ہلاکت کی تصدیق کردی

شیعیت نیوز: کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) اور چارسدہ یونیورسٹی پر حملوں کے ماسٹر مائنڈ اور ٹی ٹی پی کے گیڈر گروپ (گیدار گروپ) کے آپریشنل سربراہ عمر منصور عرف خلیفہ منصور عرف عمر نارے کی ہلاکت کی تصدیق کردی۔ بدھ کے روز ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی نے میڈیا کو بھیجی گئی ایک ای میل میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان درہ آدم خیل اور پشاور کے سابق امیر خلیفہ عمر منصور کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی جگہ خلیفہ عثمان منصور کو نیا امیر مقرر کردیا گیا ہے۔پشاور آرمی پبلک اسکول حملے میں شہید ہونے والے بچے کے والد طفیل خان خٹک نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس ہولناک حملے کے ماسٹر مائنڈ کی ہلاکت پر پوری دنیا خوش ہوگی۔
گزشتہ برس بھی منصور کی ہلاکت کی رپورٹس منظر عام پر آئی تھیں تاہم نہ ہی حکام اور نہ شدت پسندوں نے اس کی تصدیق کی تھی۔ ٹی ٹی پی نے اپنے حالیہ بیان میں عمر منصور کی ہلاکت کی وجہ اور اس کے مقام کی تفصیلات نہیں بتائیں۔تاہم ٹی ٹی پی کی جانب سے خلیفہ منصور عرف عمر نارے کی ہلاکت کی تصدیق ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب گذشتہ روز سیکورٹی اداروں نے کہا تھا کہ حال ہی میں پاک-افغان سرحد پر ہونے والے ڈرون حملوں میں جماعت الحرار کے امیر عمر خالد خراسانی کے شدید زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔