Thursday, 19 October 2017

سابق سینیٹر اور جعفریہ الائنس کے سربراہ علامہ عباس کمیلی کی شاہراہ فیصل تھانے میں علامہ احمد اقبال سے ملاقات

شیعیت نیوز: شیعہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے چلائی جانے والی جیل بھرو تحریک کے دوسرے مرحلہ میںرضاکارانہ طور پر گرفتاری پیش کرنے والے علا مہ احمد اقبال سے سابق سینیٹر اور جعفریہ الائنس کے سربراہ علامہ عباس کمیلی نے شاہر اہ فیصل تھانے میں ملاقات کی اور جیل بھرو تحریک کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔
انہوںنے کہا کہ غیر قانونی طور پر شیعہ جوانوں کو لاپتہ کرنا ملکی آئین کی خلاف ورزی ہے اگر انکا کوئی جرم ہے تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے، علامہ عباس کمیلی نے علامہ احمد اقبال رضوی اور علامہ حسن ظفر نقوی کی جانب سے لاپتہ شیعہ افراد کی بازیابی کے لئے چلائی جانے والی جیل بھرو تحریک کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگرہمارے مطالبات تسلیم نا کیئے گئے تو ملت جعفریہ سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوجائینگے۔
شاہراہ فیصل تھانے میں مختلف تنظیموں اور اداروں کے وفود علامہ احمد اقبال رضوی سے ملاقات کے لئے تشریف لارہےہیں،علاوہ ازین علامہ نثار قلندری، علامہ عقیل موسیٰ سمیت آئی ایس او، بلتستان اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سمیت مختلف قومی شخصیات نے علامہ احمد اقبال سے ملاقات کی ہے، جبکہ شہاد ت امام زین العابدین علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے تھانے میں ہی مجلس عزا منعقد کی گئی جہاں دستہ امامیہ نے نوحہ خوانی بھی کی۔

جیل بھرو تحریک کے ثمرات آنا شروع :لیہ سے لاپتہ دو سگے بھائی گذشتہ رات بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے

شیعیت نیوز: لاپتہ شیعہ افراد کی بازیابی کے لئے چلائی جانے والی جیل بھرو تحریک کے ثمرات آنا شروع ہوگئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق گذشتہ پانچ ماہ سے پنجاب کے علاقہ لیہ سے تعلق رکھنے والے لاپتہ سگے بھائی نسیم عباس اور شاہین عباس گذشتہ رات اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔
واضح رہے کہ نسیم عباس کو کراچی جبکہ شاہین عباس کو لاہور سے سادہ لباس اہلکاروں  نے 2 جنوری 2017 کو اغوا کیا تھا جو گذشتہ رات اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔
ان دونوں بھائیوں کی بوڑھی ماں ہے جو اپنے بچوں کی بازیابی پر خوشی کے آنسو وں پر قابونہیں پا سکیں ، ان لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے جوانوں کی بازیابی کے لئے چلائی جانے والی تحریک کے قائدیں اور پوری ملت جعفریہ کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ پاک فو ج کے سربراہ جنر ل باجوہ کا بھی شکریہ ادا کیا کہ وہ مظلومین کی فریاد ی بنے ۔ بازیاب ہونے والے جوانوں کی بوڑھی ماں نے کہا کہ انشاٗ اللہ سارے لاپتہ جوان جلد اپنے گھروالوں کے ہمراہ ہونگے۔
دھیاں رہے کہ تمام لاپتہ شیعہ افراد کی بازیابی کے لئے جیل بھرو تحریک کراچی سے شروع ہوئی ہے جسکے پہلے مرحلے میں علامہ حسن ظفر نقوی نے ساتھیوں سمیت گرفتاری پیش کی تھی اور آج علامہ احمد اقبال رضوی  نے بھی اپنے رفقاٗ کے ہمراہ از خود گرفتار ی دی ہے اور یہ سلسلہ تمام لاپتہ افراد کی بازیابی تک جاری رہے گا۔

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی شاہراہ فیصل و بغدادی تھانے میں علامہ حسن ظفرو احمد اقبال سے ملاقات

شیعیت نیوز: جیل بھرو تحریک کے سلسلے میں رضاکارانہ طور پر گرفتاری پیش کرنے والے ،علامہ حسن ظفر نقوی اور علامہ احمد اقبال رضوی سے مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے بغدادی اور شاہر اہ فیصل تھانے میں ملاقات کی۔
اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم کراچی کا وفد بھی موجود تھا، علامہ راجہ ناصر عباس نے لاپتہ شیعہ افراد کی بازیابی کے لئے چلائی جانے والی جیل بھرو تحریک کی مکمل حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ اس جرمت مندانہ اقدام سے مطالبات یقیناً پورے ہونگے، شہادت اور اسیر ی ہماری میراث ہے۔
واضح رہے کہ لاپتہ شیعہ افراد کی بازیابی کے لئے علامہ حسن ظفر نقوی نے جیل بھرو تحریک کا آغا کیا تھا، اس سلسلے کے تیسرے مرحلے میں کل شیعہ ایکشن کمیٹی کے رہنما مولانا ناظم علی آزاد گرفتاری پیش کریں گے۔

تشیع پاکستان اور استعماری فتنے

انیسویں اور بیسوی صدی عیسوی میں برطانوی استعمار نے اپنے مقبوضہ علاقوں میں بہت سارے فتنوں کی بنیاد رکھی۔ بوڑھے استعمار نے کہیں پر سرحدوں کا مسئلہ کھڑا کیا، کہیں پر لسانیت وقومیت کو ہوا دی، اور کہیں پر دین ومذہب اورفرقوں کے نام پر بت تراشے۔
انہیں فتنوں میں سے ایک فتنہ جو اہل تشیع کے درمیان بویا گیا وہ شیخیت اور خالصیت کا فتنہ ہے. اس فتنے کو بالخصوص عراق ، لبنان اور پاکستان میں نسبتا زیادہ ہوا دی گئی. پاکستان میں جب امریکی اور روسی نفوذ کی سرد جنگ جاری تھی اور امریکہ نے اپنے ہدف کے حصول کے لئے جہاں دیگر حربے استعمال کئے ان میں سے ایک حربہ اہل سنت بالخصوص دیوبندی مکتب فکر اور جماعت اسلامی کو روس کے خلاف استعمال کرنا تھا ۔ اور جب امریکا آخر کار روس نواز وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوا ، تو پھر مذکورہ بالا قوتوں کو ضیاء الحق کے دور اقتدار میں پاکستان میں مزید پالابوسا اور طاقتور بنایا۔
70 ء کے عشرے میں جب پاکستان میں یہ سازش جاری تھی تو اسی دوران بانیان پاکستان کے فرزندوں کو غافل رکھنے اور سیاسی منظر نامے سے دور رکھنے کے لئے انہیں داخلی اختلافات میں بری طرح الجھا دیا گیا۔ برطانیہ کے لگائے ہوئے پودے شیخیت اور خالصیت کے فتنے کو بہت ہوا دی گئی اور پوری ملت تشیع فکری طور پر دو حصوں میں بٹ گئی ، جس کے نتیجے میں مساجد وامامبارگاہوں میں مکتب اہل بیت علیہم السلام کے پیروکاروں کے مابین واضح تقسیم ہو گئی۔
ایک گروہ اپنے آپ کو موحد وملتزم اور مد مقابل کو نصیری اور غالی کہنے لگا. اور اسی طرح دوسرا گروہ اپنے آپ کو موالی وخوش عقیدہ اور مد مقابل کو وہابی و مقصر کہنے لگا. طرفین نے محراب و منبر کو اس مشن کے لئے خوب استعمال کیا اور بعض اوقات تو لڑائی جھگڑے تک نوبت آ جاتی تھی. اور ہر ایک اپنے تئیں دین ومذھب اور تشیع کا دفاع کر رہا تھا۔
شیعیان پاکستان اسی طرح ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں لگے رہے اور دوسری طرف اقلیتی دیوبندی فرقہ، ملک پر قابض ہو گیا. دیوبندی حضرات کو اس وقت، امریکہ، سعودی عرب اور حکومت وقت تینوں کی سپورٹ حاصل تھی۔
اس زمانے میں اہل تشیع کے اکابرین سیاست کو شجرہ ممنوعہ سمجھ بیٹھے تھے اور بانی پاکستان کے فرزند منبر اور محراب سے یہ کہتے تھے .کہ ہمیں معاویہ کی سیاست سے کوئی سروکار نہیں، یہ شریفوں کا پیشہ نہیں، ہمیں تو فقط رونے دو، ہمیں فقط مذھبی رسوم کی ادائیگی کے لئے آزادی چاہیے، تم لو اقتدار اور سنبھالو حکومت ، ہمیں تو فقط عزاداری چاہیے ۔
شیعہ سیاستدان بھی چونکہ شیعہ ووٹ کو اپنی جیب ڈیپازٹ سمجھتے تھے اور اب انہیں فقط سنی ووٹ درکار تھا. انھوں نے بھی اپنی اپنی کرسی بچانے اور سیاسی مفادات حاصل کرنے کے لئے تشیع کے حقوق کی کبھی بات نہ کی بلکہ اگر کوئی آواز اٹھتی تو عوامی پریشر اور اپنے نفوذ سے اسے دبا دیتے اور کہتے کہ ہم تو اقلیت ہیں اور غیر موثر ہیں۔
شیعہ عوام کو یہ باور کرایا گیا تھا کہ شیعہ نام سے سیاست میں جانا بے سود ہے. چنانچہ شیعیانِ پاکستان پر ظلم ہوتا رہا، بے بنیاد الزامات لگے ، حق تلفیاں ہوئیں ، مذھبی آزادی سلب ہوئی اور عزاداری کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں حتی کہ قتل و غارت اور قانون سازیاں تک ہوئیں. یہ تشیع کے ہمدرد سیاستدان نہ تو پارلیمنٹ میں کوئی دفاع کرتے اور جب کبھی کوئی گلہ شکوہ کرتا تو جواب میں کہتے کہ میں تو اہل سنت کے ووٹ سے اسمبلی میں پہنچا ہوں لہذا میں مذہب شیعہ کا دفاع نہیں کر سکتا۔
یوں ملک کے اکثریتی طبقات اہل سنت بریلوی اور شیعہ محکوم ہوتے گئے اور دیوبندی حضرات ملک کے تمام شعبوں میں سرایت کر گئے۔
یاد رہے کہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے بانی پاکستان کی آزادی واستقلال کی تحریک کی مخالفت کی تھی اور فتوے جاری کئے تھے. اور انہیں کافر اعظم تک کہا تھا. اور یہ لوگ پاکستان کے قیام اور ہندوستان سےعلیحدگی کے مخالف تھے۔
آج ایک بار پھر جب داعش کی شام وعراق میں ناکامی کے بعد امریکہ اور سعودیہ اسے افغانستان اور پاکستان منتقل کرنے میں مصروف ہیں تو بانیان پاکستان کے فرزندوں کے خلاف ایک بین الاقوامی سازش اپنے عروج پر ہے۔
وطن عزیز پاکستان ، پاکستانی مسلح افواج و عوام اور بالخصوص تشیع پاکستان سے عراق وشام کی ناکامی کا بدلہ لینے کے لئے امریکی صدر اپنی نئی پالیسی کا اعلان کر چکا ہے. جس کے تحت تکفیری مسلح گروہ مذھبی فتنوں کی آگ کے شعلے پورے ملک میں پھیلائیں گے اور اسے عراق وشام بنائیں گے ۔
دوسری طرف تشیع کی داخلی وحدت پر کاری ضربیں لگائی جا رہی ہیں. کچھ منحرف لوگ، امریکہ و برطانیہ کی ایما پر منبر و محراب سے فتنوں کو ھوا دینے کے لئے اپنی زبانیں بیچ چکے ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ ایک طرف ملکی اداروں اور ایوانوں میں بیٹھے ملکی مفادات کے دشمن اور متعصب افراد تشیع کو ہر لحاظ سے دبانے اور دیوار سے لگانے میں شبانہ روز مصروف ہیں. اور دوسری طرف ناعاقبت اندیش ہمارے اکثر قومی لیڈر ان تحولات اور سازشوں کو سمجھنے اور درست سمت میں قوم کی راھنمائی کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں ۔
ایسی صورتحال میں بشارت وولایت کے نام پر تشیع میں تقسیم ، اہل تشیع کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے. فقط بعض منحرف یا مخصوص عقائد ونظریات کے حامل افراد کی بنا پر عمومی حکم لگانا اور ایک صنف کو دوسری صنف کے مد مقابل لانا ، بلکہ ایک ہی صنف کے افراد کے مابین نفرتوں کی دیواریں کھڑی کرنا ، تشیع پر ہونے والے بیرونی حملوں سے کہیں زیادہ خطرناک ہے. حالات بتا رہے ہیں کہ اس وقت تشیع کا من حیث القوم وجود اور شیعوں کی عزت وناموس خطرے میں ہے۔
ہمیں کب احساس ہوگا کہ ہمارا وطن عزیز پاکستان اور شیعیان پاکستان ، اندرونی وبیرونی دشمنوں میں گھرے ہوئے ہیں. اس وقت باہمی وحدت واخوت اور مشترکہ دشمنوں کےخلاف متحد ہوئے بغیر ان مسائل سے نکلنا مشکل ہے۔
ہمیں مشکلات اور مسائل کے حل کے لئے متبادل راستے تلاش کرنے کی ضرورت ہے. ہمیں حکمت وبصیرت سے مسائل سلجھانے کی کوشش کرنی چاہیئے، ہرزی شعور سمجھ سکتا ہے ، کہ اس خالصیت وشیخیت یا ہدایت واصلاح کی موجودہ روش سے ناقابل تلافی نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔
امریکہ، سعودیہ، اسرائیل اور انکے اتحادیوں کی عراق وشام میں ذلت آمیز شکست وپسپائی در اصل ہماری رہبریت ومرجعیت اور مقاومت کی وجہ سے ہوئی ہے. اور آج انتقامی سازش کے تحت تشیع کے مابین اختلافات اور فتنوں کو ابھار کر ہمارے ایک بہت بڑے اور موثر طبقے کو رہبریت ومرجعیت اور مقاومت سے کاٹ کر الگ کیا جا رہا ہے۔ اور بہت سارے مخلص افراد لاشعوری طور پر دشمن کے معاون ومدد گار بن رہے ہیں۔
افسوس کی بات تو یہ ہے کہ منبرِ اہل بیتؑ پر آنے والے بعض افراد یہ تک بھول جاتے ہیں کہ آج اگر اھل بیت علیہم السلام کے مزارات اور حرمِ سیدہ ؑ کو دشمنان خدا منہدم نہیں کرسکے تو اس کا سبب یہی رہبریت ومرجعیت اور مقاومت ومدافعینِ حرم کا میدان میں موجود ہونا ہے۔ یہ اللہ تعالی کی عطا کردہ مرجعیت کی بصیرت، اجتھاد کا ثمر اور علمائے کرام کی قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ دشمن زلیل اور ناکام ہوا ہے۔
وگرنہ کون نہیں جانتا کہ بقیع کی طرح ایک بار پھر وھابیت اور آل سعود کربلا ونجف ، کاظمین و سامراء اور شام میں حرم مطہر حضرت زینب وحضرت رقیہ بنت حسین علیہما السلام اور دیگر سب مزارات کو شہید اور خراب کر نے کے درپے تھے۔
اس وقت منبر پر آنے والے افراد کی اوّلین زمہ داری بنتی ہے کہ وہ دشمن کے مقابلے کے لئے مرجعیت و اجتہاد کے مورچے کو مضبوط کریں اسی طرح مرجعیت و اجتھاد کے علمبرداروں کو بھی چاہیے کہ وہ کوئی ایسا کام نہ کریں جو ملت میں تقسیم اور تفرقے کا باعث بنے۔
ہمارا دشمن انتہائی تجربہ کار، مکار اور خبث باطن میں سر فہرست ہے لہذا ہم سب کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جو بھی ہمیں تقسیم کرنے کی کوشش کرے وہ در اصل شعوری یا لاشعوری طور پر دشمن کا آلہ کار ہے۔
تحریر: ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی

شام کا دفاعی میزائل سسٹم اسرائیلی جنگی طیاروں کے شکار کے لئے آمادہ

شام نے اسرائیل کے جنگي طیاروں کی طرف مسلسل فضائی خلاف ورزیوں کے پیش نظر اپنے دفاعی میزائل سسٹم کو اسرائیلی جنگي طیاروں کے شکار کے لئے آمادہ کرلیا ہے۔شام کے دفاعی میزائل سسٹم نے اسرائيل کے ایک جنگی طیارے کو نشانہ بنایا جس نے لبنان کی سرحد سے شام کی فضائي حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ شامی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے 16 اکتوبر کو حسب معمول شام کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا لیکن شام کے دفاعی میزائل سسٹم نے اسرائيل کے ایک جنگي طیارے کو نشانہ بنایا جبکہ باقی طیارے فرار ہونے پر مجبور ہوگئے۔ شامی فوج کے مطابق شام کا نیا میزائل سسٹم اسرائيلی طیاروں کو شکار کرنے کے لئے آمادہ ہے۔