Wednesday, 18 October 2017

اربعین امام حسین ؑ کے موقع پر بلوچستان حکومت کی جانب سے زائرین کے لئے مشکلات،صرف چار کانوائے بارڈر کرسکیں گے



شیعیت نیوز: بلوچستان حکومت اور ایف سی انتظامیہ نے بلوچستا ن شیعہ کانفرنس وفد سے ملاقات کی ہے جس میں انتظامیہ نے کہا کہ سیکورٹی خدشات کے پیش نظر اربعین امام حسین علیہ سلام کے سلسلے میں جانے والے بائی روڈ قافلوں کے صرف چار کانوائے کو بارڈر کراس کرنے کی اجازت دیں گے اور باقی کو کراس کرنے نہیں دیا جائے گا،
اس صورتحال کے پیش نظر خدشہ یہ ہے کہ ماہ صفر کے آغا ز کے ساتھ ہی ہزاروں کی تعداد میں بائی روڈ زیارت امام حسین علیہ السلام کے لئے جانے والے زائیرین کا شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
اطلاعات کے مطابق تقریباً دس کے قریب کانوائے چلانے سے زائرین کی مشکلات کچھ کم ہوسکتی ہیں، لیکن حکومت بلوچستان اور ایف اہلکاروں نے صرف چار کانوائے کو بارڈر کراس کرنے کی اجازت دینے سے ہزاروں زائرین شدید مشکلات میں گرفتار ہوجائیں گے اور وہ وقت مقررہ پر اربعین امام حسین ؑ کے موقع پر کربلا پہنچنے سے محروم بھی ہوسکتے ہیں۔
لہذا حکومت بلوچستان اور ایف سی انتظامیہ زائرین کی تعداد کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کم از کم دس کانوائے کا بارڈر کراس کرنے کی اجازت دے تاکہ زائرین کو مشکلات کا سامنا نہیں کرناپڑے
دوسری جانب شیعہ بلوچستان کانفرنس نے حکومت بلوچستان اور ایف سی انتظامیہ کی اس پالیسی پر کچھ دونوں کا وقت مانگا ہے تاکہ اپنی واضح پالیسی بیان کرسکیں۔

اقوام متحدہ کی روہنگیا پناہ گزینوں کے لیے امداد کی اپیل

اقوام متحدہ نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ روہنگیا پناہ گزینوں کے مسئلے پر 23اکتوبر کو ہونے والے اجلاس میں ان پناہ گزینوں اور انہیں پناہ دینے والے بنگلہ دیش کو یہ پیغام دیں کہ پوری دنیا ان کے ساتھ ہے۔
اقوام متحدہ نے اس کانفرنس سے پہلے کل ایک بیان میں بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ روہنگیا پناہ گزینوں کی پریشانیوں،ان کی منتقلی کو روکنے کے لئے اور ایسے حالات بنانے کے لئے کوشش کریں جس میں پناہ گزینوں کی صحیح طور پر واپسی یقینی ہوسکے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ میانمار کے راخین صوبے میں تعصب اور استحصال سے بچنے کے لئے لاکھوں روہنگیا گزشتہ سال اگست سے بھاگ کر پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں پناہ لے رہے ہیں جس سے انسانی بحران کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ میانمار کی فوج کی طرف سے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری تشدد کی وجہ سے جان بچا کر بنگلہ دیش پہنچنے والے پناہ گزینوں کی تعداد پانچ لاکھ 37ہزارہوگئی ہے ۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق حال میں آنے والے سبھی پناہ گزینوں کو کھانا ،طبی خدمات اور مکانات کی ضرورت ہے جبکہ صرف 37ہزار خاندانوں کو ایمرجنسی کٹ دستیاب کرائی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ میانمار میں 25اگست کو فوج پر مبینہ حملے کے خلاف راخین صوبے میں رہنے والے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کارروائی شروع کی گئی جس کی اقوام متحدہ سمیت کئی ملکوں نے مذمت کی ۔ اقوام متحدہ نے روہنگیا کے خلاف تشدد کو نسلی تشدد قراردیا ہے۔

یمن پر سعودی عرب کی بمباری میں 6 افراد شہید

سعودی عرب کے جنگي طیاروں نے یمن کے سرحدی صوبہ جوف میں بمباری کی جس کے نتیجے میں 6 بےگناہ شہری شہید ہوگئے ہیں۔ واضح رہے کہ سعودی عرب نے 2 سال سے زائد عرصہ سے یمن پر جنگ مسلط کررکھی ہے جس کے نتیجے میں اب تک 30ہزار سے زائد یمنی شہری شہید اور زخمی ہوگئے ہیں اس جنگ میں سعودی عرب کو امریکہ ، عرب امارات اور اسرائیل سمیت دس ممالک کی حمایت بھی حاصل ہے۔۔

علاقے میں امریکی اور سعودی منصوبہ ناکام ہوگیا، سیدحسن نصراللہ

حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے حزب اللہ کے دو شہیدوں علی ہادی العاشق اور محمد حسن ناصر کی مجلس ترحیم میں شریک لوگوں کے اجتماع سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ داعش کو لبنان، شام اورعراق کو تباہ کرنے کا مشن سونپا گیا تھا لیکن وہ ایسا نہیں کرسکا۔
انہوں نے کہا کہ داعش کی نابودی کی راہ میں امریکا رکاوٹیں کھڑی کررہا ہے لیکن داعش کے خلاف جنگ جاری ہے اور اس کی نابودی قریب ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ایران سے امریکا کی مشکل ایٹمی پروگرام نہیں ہے بلکہ امریکا کی مشکل یہ ہے کہ ایران نے علاقے میں امریکی اور سعودی سازشوں کو ناکام بنا دیا ہے۔
سید حسن نصراللہ نے کہا کہ اس وقت جو کچھ بھی علاقے میں ہو رہا ہے وہ درحقیقت امریکی اور سعودی منصوبہ ہے البتہ عراق اور لبنان میں ان کا منصوبہ ناکام ہو گیا ہے اور شام میں بھی ان کا منصوبہ ناکام ہوا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا چاہتاہے کہ داعش اس علاقے میں طویل عرصے تک باقی رہے اور اگر عراقی حکومت اور عوام میدان میں نہ ڈٹے ہوتے تو داعش کے خلاف جنگ کئی برسوں تک طول کھنچتی۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکیوں اور سعودیوں نے فوجی اور تشہیراتی اعتبار سے جو کچھ بھی کرسکتے تھے کیا لیکن انہیں شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے اسی لئے وہ ان لوگوں کے خلاف پابندیاں عائد کر رہے ہیں جو ان کے منصوبے کے مقابلے میں ڈٹے ہوئے ہیں۔
حزب اللہ کے سربراہ نے زور دے کر کہا کہ حزب اللہ کے خلاف امریکا کی پابندیاں اس تنظیم کے عزم اور ارادے اور موقف کو تبدیل نہیں کرسکتیں اور حزب اللہ علاقے میں امریکا کی تسلط پسندی کے مقابلے میں ڈٹی رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ سعودی حکام بھی اب علاقائی سطح پر حزب اللہ کی طاقت کا اعتراف کرنے لگے ہیں۔
سید حسن نصراللہ نے صاف لفظوں میں کہا کہ سعودی عرب اور اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل علاقے میں امن قائم نہیں ہونے دے رہے ہیں لیکن انہیں یاد رکھنا چـاہئے کہ ہم آج ہر دور سے زیادہ طاقتور ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ جو بھی ہاتھ لبنان کی جانب غلط ارادے سے بڑھے گا اسے کاٹ دیا جائےگا۔حزب اللہ کے سربراہ نے لبنان کی داخلی سیاسی صورتحال کے بارے میں کہا کہ ہم امن وسکون چاہتے ہیں اور لبنان کے پارلیمانی انتخابات بھی اپنے مقررہ وقت پر ہی ہوں گے۔

عراق میں ریفرنڈم کا مسئلہ ماضی کا حصہ بن چکا ہے، العبادی

عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے منگل کے روز بغداد میں ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ کرد رہنماؤں کو بتا دیا گیا ہے کہ ریفرنڈم سے سب سے زیادہ نقصان خود کردوں کے مفادات کو ہو گا۔
انھوں نے خانہ جنگی کو مسترد کرتے ہوئے کردستان کے حکام کو دعوت دی کہ وہ عراق کے بنیادی آئین کے مطابق مذاکرات کریں۔
حیدر العبادی نے عراقی کردستان میں تین علاقوں کے قیام کے بارے میں کسی بھی قسم کے سمجھوتے یا مفاہمت کی تردید کی اور کہا کہ عراق کی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عراق کے تمام علاقوں کو متحد رکھے۔
انھوں نے کرکوک اور دیگر علاقوں میں تخریبی اقدامات پر خبردار کیا اور کہا کہ عراق کا پرچم تمام عراقیوں سے مربوط ہے اور اسے عراق کے تمام علاقوں میں لہرائے جانے کی ضرورت ہے۔
عراق کے وزیراعظم نے ملک کے مغربی علاقوں میں سیکورٹی اہلکاروں کی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جلد ہی عراق کے تمام علاقوں کی داعش دہشت گرد گروہ کے قبضے سے آزادی کا اعلان کر دیا جائے گا۔
عراق کے صدر فواد معصوم نے بھی کرکوک کے عوام سے صبر و تحمل سے کام لینے اور عراقی آئین کا احترام کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ کردستان کے علاقے میں ریفرنڈم کے انعقاد سے اختلافات پیدا ہوئے ہیں۔
انھوں نے عراق کے بنیادی آئین کے دائرے میں مسائل کے حل کے لئے اربیل اور بغداد کے درمیان مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا اور تاکید کے ساتھ کہا کہ ملک کے اندر اس طرح کے اختلافات تمام عراقیوں اور عراق کے مستقبل کے لئے ٹھیک نہیں ہیں۔
صدر عراق نے اسی طرح عراق کے مرجع تقلید آیت اللہ العظمی سیستانی کے اقدامات کی قدردانی کی۔
ادھر عراقی کردستان کی مقامی پارلیمنٹ کے سربراہ نے اس علاقے کے سربراہ مسعود بارزانی کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
یوسف محمد نے تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ کردستان کے علاقے کی سربراہی سے مسعود بارزانی کا استعفی اس علاقے کے عوام کے لئے سب سے بڑی خدمت کے مترادف ہو گا۔
قابل ذکر ہے کہ عراقی کردستان کی مختلف جماعتوں، دھڑوں اور شخصیات کی جانب سے غیرقانونی ریفرنڈم کے انعقاد کی وجہ سے بارہا تنقید کی جاتی رہی ہے اور کردستان کے علاقے کی رائے عامہ بھی اس ریفرنڈم کے انعقاد کے منفی نتائج پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔