Wednesday, 18 October 2017

سنجارشہرپرعراقی فوج کا کنٹرول

عراقی فورسز نے عراق کے صوبہ نینوا کے مغربی علاقےمیں واقع سنجار شہر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
عراقی فوج نے سنجار کا کنٹرول سنھبالنے کے بعد شہر پر عراقی پرچم نصب کردیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق الدبس شہرکاکنٹرول بھی عراقی فوج نے سنبھال لیا ہے۔

ایرانی حکام کو امریکہ کی منہ زوری کا مضبوط اور مستحکم جواب دینا چاہیے

اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ آیت اللہ موحدی کرمانی کی امامت میںم نعقد ہوئی جس میں لاکھوں مؤمنین نے شرکت کی ۔خطیب جمعہ نے نماز جمعہ کے خطبوں میں ایران اورعالمی مسائل کے بارے میں امریکہ کی منہ زوری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی حکام کو امریکہ کی منہ زوری کا مضبوط اور مستحکم جواب دینا چاہیے ۔ خطیب جمعہ نے کہا کہ عداوت اور دشمنی مخفی اور آشکار دو طرح کی ہوسکتی ہے اور آشکارا دشمنی سے مخفی دشمنی اور عداوت کا خطرہ کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ خطیب جمعہ نے کہا کہ ایرانی حکام کو مخفی عداوتوں کے بارے میں بھی ہوشیار رہنا چاہیے۔ خطیب جمعہ نے حضرت امام حسین علیہ السلام کے قیام کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا مظہر قراردیتے ہوئے کہا کہ بشری اور انسانی سعادت اور معاشرے کی اصلاح و فلاح و بہبود کے لئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بہت ضروری ہے۔

ٹرمپ کے بیان پر حسن روحانی کا سخت ردعمل

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے گزشتہ رات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی توہین آمیز تقریر اور ایران مخالف بے بنیاد الزامات کے جواب میں قومی ٹیلی ویژن سے براہ راست خطاب میں ایران کے خلاف ہرزہ سرائی کا ٹھوس، منطقی اور مدبرانہ جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کو تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہیے کیونکہ امریکہ کی تاریخ سنگین، ہولناک اور وحشیانہ جرائم سے پر ہے اور ایرانی قوم نے اب کسی بھی طاقت کے خلاف سر تسلیم خم نہیں کیااور نہ ہی سر تسلم خم کرے گی۔
ایران کے صدر نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ ہرزہ سرائیوں سے واضح ہو گیا کہ انتخابی مہم کے دوران جو سوچ ٹرمپ کی تھی اس سے کہیں زیادہ جوہری معاہدہ مضبوط ہے کہا کہ ایرانی قوم اور جوہری معاہدے کے خلاف سازشوں میں امریکہ ماضی سے زیادہ تنہائی کا شکار ہوا ہے۔
صدر مملکت روحانی نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے خلاف ہرزہ سرائیوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، ایران کا عظیم اور طاقتور ادارہ ہے جس کا مقصد ملکی دفاع کو یقینی بنانے کے علاوہ خطے کے مظلوم اقوام کے برابر کھڑا ہونا اور دہشتگردی کے خلاف جدوجہد کرنا ہے۔
صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں دہشتگردی کے خلاف جدوجہد کر رہا ہے،ان دہشتگردوں کے خلاف جن کے بارے میں ٹرمپ نے اپنے انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ داعش کو وجود میں لانے میں امریکی حکومت کا ہاتھ ہے۔
واضح رہے کہ کل رات امریکی صدر نے ایران کے خلاف پالیسی بیان میں ایران پر ایک بار پھر من گھڑت الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ جوہری معاہدہ امریکی تاریخ کا بد ترین معاہدہ تھا جسے اب ختم ہونا چاہئیے۔

امریکی رویّے کی وجہ سےایٹمی معاہدے پر نظرثانی کی جاسکتی ہے، ایران کا انتباہ

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے ایٹمی تجربات پر پابندی کے معاہدے سی ٹی بی ٹی کے ایگزیکیٹیو سیکریٹری لے سینا زربو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران امریکی صدر ٹرمپ کے نامناسب رویے کی بنا پر ایٹمی معاہدے سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا پاتا ہے اور اسے اس معاہدے کے نتیجے میں صرف نقصان ہی اٹھانا پڑا تو اس معاہدے پر یقینی طور پر نظرثانی کی جائے گی۔انھوں نے کہا کہ ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی اب تک آٹھ بار ایٹمی معاہدے پر ایران کے کاربند رہنے کی تصدیق کر چکی ہے اس کے باوجود امریکی صدر ٹرمپ یہ دعوی کر رہے ہیں کہ ایران، ایٹمی معاہدے پر کاربند نہیں ہے اور امریکی کانگریس ہی اب کوئی فیصلہ کرے۔ڈاکٹر علی لاریجانی نے کہا کہ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای ایٹمی ، کیمیائی، جراثیمی اور ان جیسے دیگر مہلک ہتھیاروں کی پیدوار اور انہیں رکھنے کو حرام قرار دے چکے ہیں۔اس ملاقات میں لے سینا زربو نے بھی ایٹمی معاہدے کی پابندی کے بارے میں ایران کے مثبت و تعمیری موقف کی قدردارنی کرتے ہوئے کہا کہ ایٹمی معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے اور کسی ایک ملک کو اس معاہدے کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کرنا چاہئے۔انھوں نے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے حرام ہونے کے بارے میں رہبر انقلاب اسلامی کے فتوے کو ایک اہم موضوع قرار دیا

امریکہ کی عالمی تنہائی ایران کی کامیابی ہے

تہران میں علما کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ جامع ایٹمی معاہدہ قومی اتفاق رائے کا کامیاب نمونہ ہے جو عوام کی حمایت اور رہبر انقلاب اسلامی کی ہدایات کے روشنی میں حاصل ہوا ہے۔
صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے جامع ایٹمی معاہدے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مواقع کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جامع ایٹمی معاہدے کو نقصان پہنچانے کی غرض سے امریکہ کا عالمی سطح پر تنہا ہو جانا سیاسی لحاظ سے ایران کی بہت بڑی کامیابی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جامع ایٹمی معاہدے کے حوالے سے پوری عالمی برادری اور خاص طور سے یورپ نے بھی امریکی موقف کی مخالفت اور ایران کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے اسلام اور جمہوریت کو امام خمینی رح کے قائم کردہ اسلامی نظام کے دو مضبوط ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی حکومت عوامی عزم و ارادے پر استوار ہے اور وہ خود کو اسلامی احکامات پر عملدرآمد کا پابندی سمجھتی ہے۔