Wednesday, 18 October 2017

ٹرمپ کے بیان پر حسن روحانی کا سخت ردعمل

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے گزشتہ رات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی توہین آمیز تقریر اور ایران مخالف بے بنیاد الزامات کے جواب میں قومی ٹیلی ویژن سے براہ راست خطاب میں ایران کے خلاف ہرزہ سرائی کا ٹھوس، منطقی اور مدبرانہ جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کو تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہیے کیونکہ امریکہ کی تاریخ سنگین، ہولناک اور وحشیانہ جرائم سے پر ہے اور ایرانی قوم نے اب کسی بھی طاقت کے خلاف سر تسلیم خم نہیں کیااور نہ ہی سر تسلم خم کرے گی۔
ایران کے صدر نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ ہرزہ سرائیوں سے واضح ہو گیا کہ انتخابی مہم کے دوران جو سوچ ٹرمپ کی تھی اس سے کہیں زیادہ جوہری معاہدہ مضبوط ہے کہا کہ ایرانی قوم اور جوہری معاہدے کے خلاف سازشوں میں امریکہ ماضی سے زیادہ تنہائی کا شکار ہوا ہے۔
صدر مملکت روحانی نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے خلاف ہرزہ سرائیوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، ایران کا عظیم اور طاقتور ادارہ ہے جس کا مقصد ملکی دفاع کو یقینی بنانے کے علاوہ خطے کے مظلوم اقوام کے برابر کھڑا ہونا اور دہشتگردی کے خلاف جدوجہد کرنا ہے۔
صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں دہشتگردی کے خلاف جدوجہد کر رہا ہے،ان دہشتگردوں کے خلاف جن کے بارے میں ٹرمپ نے اپنے انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ داعش کو وجود میں لانے میں امریکی حکومت کا ہاتھ ہے۔
واضح رہے کہ کل رات امریکی صدر نے ایران کے خلاف پالیسی بیان میں ایران پر ایک بار پھر من گھڑت الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ جوہری معاہدہ امریکی تاریخ کا بد ترین معاہدہ تھا جسے اب ختم ہونا چاہئیے۔

No comments:

Post a Comment