Wednesday, 18 October 2017

اسرائیل کے خلاف آشکار اور حتمی کامیابی کا وقت آن پہنچا ہے

حزب اللہ کے لبنان کی پارلیمنٹ میں سابقہ نمائندہ جمال الطقش نے سید حسن نصراللہ کی روز عاشورا کی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے صدور کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا ہے کے یہ علاقے کو ایک اور جنگ کی طرف لے جا رہے ہیں جس کا روکنا مشکل ہو گا اور یھودیوں سے چاہا ہے کے صہیونیوں سے اپنا حساب جدا کریں۔
یاد رہے کہ سید حسن نصراللہ نے کہا تھا کہ میں آج تمام یہودیوں سے چاہتا ہوں کہ وہ صہیونیوں سے اپنا حساب جدا کر لیں کہ جو اپنے آپ کو یقینی ہلاکت کی طرف لے جا رہے ہیں اور جو ممالک فلسطین میں لالچی ارادوں سے آئے ہیں، وہ جلد از جلد یہاں سے چلیں جائیں تاکہ وہ اس آگ کا ایںدھن نہ بنے جو نتین یاہو کی غاصب حکومت نے ان کے لیے لگائی ہے۔
حزب اللہ کے لبنان کی پارلیمنٹ میں سابقہ نمائندہ جمال طقش نے مزید کہا کہ حسن نصراللہ کی تقریر کے اثرات حزب اللہ اور اسرائیل کے طاقتی توازن پر اثر انداز ہوں گے۔
جمال الطقش نے مزید کہا کہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے ہماری یہ عادت بنا دی ہے کہ آگے بڑھیں اور مزید واضح طریقے سے بیان کریں تو جو کامیابیاں علاقے میں حاصل ہوئی ہیں، مزاحمت کی وجہ سے اور جو تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ان کا احسن طریقے سے مشاہدہ کرنا چاہئے اور ہونے والی تبدیلیوں اور کامیابیوں کے عوامل کو پہچاننا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ پانچ سال سے اسرائیل داعش اور دوسرے تکفیری گروہوں کا پشتیبان رہا ہے اور انشاء اللہ اب وقت آگیا ہے کہ اس کےچہرے کو بے نقاب کیا جائے اور اس کے بعد جو کامیابیاں ملی ہیں اور انشاء اللہ اب کام اختتام کے قریب ہے اور اسلئے اختتامی بات کی جائے جبکہ حزب اللہ کے سربراہ کی گفتگو سے یہی بات واضح ہوجاتی ہےکہ یہ تبدیلیاں میدان جنگ سے متعلق تھیں اور اب وقت آگیا ہے کہ اسرائیل کو کہیں کہ وہ اپنی حدود کو پہچانے اور پانچ سالہ جنگ میں وہ جن گروہوں کی حمایت کرتا رہا ہے، وہ نابودی کے دہانے پر ہیں اور اب وہ اپنی حفاظت کے بارے میں غور و فکر کرے اور اس مرحلے کے بعد ہماری فتح واضح اور یقینی ہے۔
اسرائیلیوں کا جنگی مشقوں میں ناکامی پر اعتراف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے طقش نے اپنی گفتگو جاری رکھی اور کہا کہ صیہونیوں کی آخری مشقیں دو حصوں پر مشتمل تھیں، پہلا بڑا حصہ دفاعی اور دوسرا حصہ اٹیک ٹریننگ پر مشتمل تھا۔ اسرائیل کی کوشش تھی کہ ان مشقوں کے ذریعے لبنان کے لوگوں پر دباو ڈالیں لیکن اس میں ناکامی اور مایوسی ہوئی۔ اسی دلیل کی بنا پر ہم نے کہا ہے اور اسرائیلیوں نے بھی تسلیم کیا ہے کہ ان مشقوں میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی بلکہ غاصبوں کو ناکامی اور مایوسی ملی ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت اور کامیابی کا محور مزاحمتی بلاک بالخصوص اسلامی جمہوریہ ایران اور آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی مدد اور راہنمائی تھی اور اسی طریقے سے آئندہ بھی کا میابیاں حاصل کریں گے۔

امریکہ تمام بحرانوں کا ذمہ دار ہے، حزب اللہ لبنان

حزب اللہ لبنان کے نائب سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے بیروت میں طلبا کے ایک اجتماع سے اپنے خطاب میں تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ امریکہ، اسلامی ملکوں کے خلاف ثقافتی منصوبوں میں ناکام ہو جانے کے بعد اب تشہیراتی اور پروپیگنڈہ جنگ پر اتر آیا ہے۔انھوں نے حتمی کامیابی کے حصول تک تکفیریوں اور غاصب صیہونیوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کے لئے تحریک مزاحمت کے پختہ عزم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کے بحرانوں کو استقامت کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے جیساکہ استقامت نے مسلسل کامیابیاں حاصل کر کے اپنی توانائی کو بخوبی ثابت بھی کیا ہے اور لبنان کے موقف کو مضبوط بنایا ہے۔شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ استقامت کے عمل نے لبنان کو علاقے میں موثر طاقت میں تبدیل کر دیا۔انھوں نے کہا کہ بعض عرب و مغربی حکام، لبنانی حکام کے ساتھ مل کر حزب اللہ کے خلاف اتحاد قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم انھیں اس بات کو جان لینا چاہئے کہ عوام، استقامت کے ساتھ ہیں اور وہ متحدہ لبنان کی حمایت کرتے ہیں۔

عراقی فوج نے کوکوک میں کردستان کا پرچم نیچے اتار دیا

عراق کے فوجی ذرائع نے بتایاہے کہ جنوبی کرکوک سے کردستان کا جھنڈا نیچے اتار کر عراق کا پرچم نصب کر دیا گیا ہے۔
کرکوک، کردستان علاقے اورعراق کی مرکزی حکومت کے درمیان ان متنازعہ علاقوں میں سے ایک ہے کہ جو براہ راست مرکزی حکومت کے زیرکنٹرول ہے۔
عراقی فوجی، کردستان علاقے کی سرحدی حدود سے باہری علاقوں میں کہ جو اس وقت پیشمرگہ فورس کے کنٹرول میں ہے تعینات ہونے کے مقصد سے جنوبی کرکوک کے کچھ علاقوں میں داخل ہوگئے ہیں۔
عراق کے سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد کردستان علاقے کے ساتھ متنازعہ علاقوں پر عراق کی مرکزی حکومت کی حاکمیت کو نافذ کرنا ہے۔
اس سے قبل عراقی رضاکار فورس کے کمانڈر اور تنظیم بدر کے سیکریٹری جنرل ہادی العامری نے پیشمرگہ فورس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ان علاقوں سے پسپائی اختیار کرلیں جن پر انھوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔
کچھ دنوں پہلے کردستان ریجن کے سربراہ مسعود بارزانی نے کہ جو الحشدالشعبی کا مقابلہ کرنے کے لئے پیشمرگہ ملیشیا کو صوبہ کرکوک روانہ کیا ہے - مسعودبارزانی الحشدالشعبی رضاکار فورس کو کردستان کی علیحدگی کے ریفرنڈم کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں- عراقی کردستان ریجن کی خودمختاری کے لئے مسعود بارزانی کی جانب سے کرائے جانے والے ریفرنڈم پر عراق کی مرکزی حکومت اور دنیا نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

عراق کی سالمیت اور اتحاد کے تحفظ پر عراقی وزیراعظم کی تاکید

عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے کہا ہے کہ کردستان میں ریفرنڈم کے نتائج کو کالعدم قراردیا جانا چاہئے اور عراقی آئین کے مطابق پورے عراق پر مرکزی حکومت کی عملداری باقی رہنی چاہئے۔
عراقی وزیراعظم نے کہا کہ یہی عراقی حکومت کا موقف ہے اور بغداد اس موقف ذرہ برابر بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔انہوں نے عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر الجبوری کی قیادت والے سیاسی اتحاد کے ایک وفد سے ملاقات میں کہا کہ کردستان میں ہوئے ریفرنڈم کے نتائج کو کالعدم قراردئے جانے، عراقی حکومت کی حاکمیت اور عملداری نیز ملک کے اتحاد اور وفاق کی حفاظت کے بارے میں جو ضروری فیصلے کئےگئے ہیں ان پر سختی کے ساتھ عمل کیا جائےگا۔
عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر کی قیادت والے سیاسی اتحاد کے وفد نے بھی عراقی حکومت کی تدابیر، فیصلوں اور وزیراعظم کے موقف کی حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ یہی ان کے سیاسی اتحاد کا بھی موقف ہے۔
اس ملاقات میں عراقی وزیراعظم اور الائنس فورس نامی سیاسی اتحاد نے کردستان کے علاقے اور اسی طرح متنازعہ علاقوں پر عراق کی مرکزی حکومت کی عملداری نیز ملک کی سیاسی اور سیکورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔
عراقی وزیراعظم پہلے ہی اعلان کرچکےہیں کہ وہ اربیل کی مقامی انتظامیہ کے ساتھ اس وقت تک بات چیت نہیں کریں گے جب تک مسعود بارزانی کی مقامی انتظامیہ ریفرنڈم کے نتائج کو کالعدم قرار نہیں دے دیتی۔
دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ کرکوک سے کرد ملیشیا پیشمرگہ کے واپس نہ جانے کے اعلان کے بعد عراقی حکومت کے پندرہ فوجی ہیلی کاپٹر کرکوک شہر میں اترے ہیں۔
عراقی کردستان کی فورس پیشمرگہ کے ایک کمانڈر سیروان بارزانی نے ہفتے کو کہا تھا کہ پیشمرگہ ملیشیا پوری طرح الرٹ ہے اور وہ کرکوک سے پسپائی اختیار نہیں کرے گی۔
اطلاعات ہیں کہ کرد ملیشیا نے عراق کی مرکزی حکومت کے اس انتباہ کے بعد بھی کہ تیل کے کنوؤں سے کرد ملیشیا دور چلی جائے کرکوک میں اپنی میزائلی توانائی کو مزید تقویت پہنچائی ہے۔
عراقی حکومت نے کرکوک میں اپنے ہیلی کاپٹروں کے اترنے کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان نہیں دیا ہے۔
عراقی فوج گذشتہ جمعے کو عراقی کردستان کی سرحدوں سے باہر کے علاقوں میں جو پیشمرگہ کے کنٹرول میں ہیں تعینات ہونے کے لئے جنوبی کرکوک کے بعض علاقوں میں داخل ہوئی تھی اور وہاں سے کردستان کی مقامی انتظامیہ کا پرچم اتار کر عراق کا قومی پرچم لہرا دیا تھا۔
کرکوک شہر عراق کی مرکزی حکومت اور کردستان کی مقامی انتظامیہ کے درمیان اہم ترین متنازعہ علاقہ تصور کیا جاتاہے جو بغداد حکومت کی براہ راست عملداری میں آتا ہے۔
کچھ عرصے قبل کردستان کی مقامی انتظامیہ کے سربراہ مسعود بارزانی نے بے بنیاد بہانوں کے ذریعے پیشمرگہ فورس کو صوبہ کرکوک میں تعینات کردیا تھا۔

عراقی فوج کا کرکوک کے وسیع علاقہ پر کنٹرول

عراقی فوج نے عراق کے صوبہ کرکوک کے وسیع علاقہ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اس صوبہ میں عراقی فوج کی پیشقدمی جاری ہے۔ عراقی فوج کی سیکڑوں بکتر بند گاڑیاں اور ہزاروں فوجی کرکوک میں تعینات ہو گئے ہیں۔ عراقی فوج کرد پیشمرگہ کے زیر انتظام ہوائی اڈے کا انتظام سنبھالنا چاہتی ہے ۔ عراقی فوج کے مطابق اس نے بغیر کسی جھڑپ کے کرکوک کے وسیع علاقہ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ عراقی ٹی وی نے عراقی فورسز اور کرد پیشمرگہ کے درمیان لڑائی کی خبروں کی تردید کی ہے۔ عراق کے وزیر اعظم نے عراقی فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ کرکوک کے تمام شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کرے۔اس سے قبل عراقی حکومت نے کہا تھا کہ علیحدگي پسند کرد تنظیم پ ک ک کی کرکوک میں موجودگی جنگ کا اعلان تصور کی جائے گی۔