Thursday, 19 October 2017

آیت اللہ خامنہ ای اور ایرانی حکومت کے شکرگزار ہیں بشار اسد

شامی صدر بشار الاسد نے شام میں دہشت گردوں کے خاتمے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایرانی حکومت اور خاص کر امام خامنہ ای کا شکریہ ادا کیا۔
جنرل باقری نے دہشتگردی کے خلاف شامی مسلح افواج کی حالیہ فتوحات پرمبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ شام میں مکمل دہشت گردوں کے خاتمے تک شامی حکومت کی حمایت جاری رہے گی۔
اس موقع پر شامی صدر بشار الاسد نے دہشتگردوں کے خلاف شام کی بھرپور حمایت کرنے پر قائد اسلامی انقلاب حضرت آیت اللہ خامنہ ای، ایرانی قوم اور حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ شامی فوج ملک بھر سے دہشت گردوں کا صفایا کرکے ہی دم لے گی۔
خیال رہے کہ ایرانی مسلح افواج کے سربراہ بروز منگل شام کے دورے پر دمشق پہنچے تھے اور انہوں نے شامی ہم منصب اور وزیر دفاع کے ساتھ بھی اہم ملاقاتیں کیں۔

حزب اللہ لبنان کے سربراہ سے آئی آر آئی بی کے سربراہ کی ملاقات

ایران کے سرکاری ریڈیواور ٹی وی کے ادارے آئی آر آئی بی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالعلی علی عسکری نے بیروت میں حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ سے ملاقات میں شام، عراق اور لبنان میں دہشتگردوں کے خلاف جنگ کی صورت حال کا جائزہ لیا اور استقامتی محاذ کی حالیہ کامیابیوں کے بارے میں صلاح و مشورے کئے- آئی آر آئی بی اور حزب اللہ کے سربراہوں نے اس ملاقات میں استقامتی محاذ کے ذرائع ابلاغ کے کردار کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ میدان جنگ میں مجاہدین کے ساتھ ہی استقامتی محاذ کے ذرائع ابلاغ کی موجودگی نے حالیہ کامیابیوں میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے- آئی آر آئی بی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالعلی علی عسکری، شام کا دورہ اور شامی حکام سے ملاقات کے بعد پیر کو بیروت پہنچے تھے- ڈاکٹرعلی عسکری نے بیروت میں اسلامی ریڈیو ٹی وی یونین کے بعض عہدیداروں سے ملاقات میں کہا کہ دنیا کے مختلف علاقوں میں ایران کے اسلامی انقلاب کی وفادار انقلابی طاقتوں کی کوششوں سے استقامی محاذ اور استقامتی محاذ کے ذرائع ابلاغ روز بروز پیشرفت کی جانب گامزن ہیں- انھوں نے کہا کہ امریکہ سمیت تسلط پسند نظام، ہمیشہ ایران کے اسلامی انقلاب کو ختم کرنے کے درپے رہا ہے تاہم اس کی کوششیں ہمیشہ ناکامی پر منتج ہوئی ہیں- آئی آر آئی بی کے سربراہ نے کہا کہ اللہ تعالی کے لطف و کرم ، حزب اللہ لبنان کے سربراہ اور استقامتی طاقتوں اور مجاہدین کی کوششوں سے صیہونی حکومت کی سازشیں ناکام رہی ہیں - انھوں نے اس محاذ کی پیشرفت میں استقامتی محاذ کے کردار کو ناقابل انکار قرار دیا اور کہا کہ ایران کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کا ادارہ استقامتی محاذ کے ایک چھوٹے سے رکن کی حیثیت سے ہمیشہ استقامتی محاذ کے ذرائع ابلاغ کے ساتھ کھڑا رہے گا- ڈاکٹر علی عسکری نے غرب اردن میں آٹھ نشریاتی اداروں کو بند کئے جانے کے صیہونی حکومت کے اقدام کی مذمت کی اور کہا کہ اس اقدام سے پتہ چلتا ہے کہ صیہونی حکومت کو استقامتی محاذ کے اثرات سے سخت تشویش لاحق ہے- ایران کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ادارے آئی آر آئی بی کے سربراہ نے صیہونی حکومت کے اقدامات کے سلسلے میں اس کے حامیوں خاص طور سے امریکہ کی خاموشی کو آزادی بیان کے بارے میں ان کے دعؤوں کے جھوٹے ہونے کی علامت قرار دیا اور کہا کہ امریکہ اور صیہونی اتحاد، استقامت و پائداری کی ثقافت کو ترویج دینے والے ذرائع ابلاغ کے خلاف ہیں - آئی آر آئی بی کے سربراہ نے بیروت میں لبنان کے صدر میشل عون اور لبنانی پارلیمنٹ کے انفارمیشن کمیشن کے سربراہ حسن فضل اللہ سے ملاقات کی اور لبنان کے المنار ٹی وی کے ہیڈآفس کا بھی دورہ کیا - ایران کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ادارے کے سربراہ ڈاکٹر علی عسکری کے اس دورے کے موقع پر آئی آرآئی بی اور حزب اللہ لبنان کے درمیان صحافتی اور ثقافتی تعاون کے معاہدے پر بھی دستخط ہوئے ہیں-

Wednesday, 18 October 2017

محمد بن سلمان اپنی پسند کی وہابیت کی بنیاد رکھنے کے درپے؛ کیا وہابیت کا نیا ورژن آرہا ہے؟

سعودی حکومت کی داخلی سیاست میں دین کا باہم ربط اور حکومت آل سعود اور آل الشیخ کی صورت میں سنہ 1158 ہجری سے قائم ہے۔ آل سعود کے تشدد پسندانہ اور دقیانونسی اصول ہر نئی بادشاہت میں اعتدال، اصلاح اور تبدیلی کی جانب بڑھتے آئے ہیں اور وہابی فرقہ ـ جس کو ایک سیاسی / استعماری / درباری فرقہ کہنا زیادہ مناسب ہے ـ ایک اعتقادی یا فقہی فرقے سے آل سعود کی حکمرانی کا راستہ ہموار کرنے والے ادارے (اور ربڑ اسٹیمپ) میں بدل چکا ہے۔
بایں وجود وہابیت کی جڑیں آج بھی سعودی عرب کی داخلی سیاست میں گہری اور مستحکم ہیں تاہم محمد بن سلمان کے ولیعہد بننے کے بعد آج اس فرقے کو مختلف چیلنجوں کا سمانا ہے۔ محمد بن سلمان کی فردی خصوصیات اور عادات و اطوار کے پیش نظر اور معاشرت اور قومی سلامتی کے حوالے سے اس کی پالیسیاں ویسے ہی بہت سوں کے لئے فکرمندی کا سبب ہوئی تھیں، لیکن چونکہ وہابیت کے لئے بھی اس کے اپنے خاص نظریات ہیں جن کی بنا پر کہا جاسکتا ہے کہ وہابیت کے لئے اس کی طرف سے پیدا کردہ مسائل بجائے خود بہت اہم ہیں۔
آل سعود کی تیسری حکومت کے جزیرہ نمائے عرب پر مسلط ہونے کے آٹھ عشرے گذر رہے ہیں اور اب محمد بن سلمان اس حکومت کی سماجی و سیاسی تعمیر نو پر زور دے رہا ہے۔ وہ سرکش وہابی فرقے میں اصلاح کرکے ایسا مطلوبہ نسخہ (Version) منظم کرنے کے درپے ہے جو اس کے مقاصد کے حصول کے لئے مفید ہو۔ یہاں اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ "محمد بن سلمان کے نزدیک وہابیت کے مطلوبہ نسخے کی خصوصیات کیا ہیں؟
محمد بن سلمان اپنے مشیروں کی مدد سے جزیرۃ العرب کی معاشرتی ذہنیت بدل کر روایتی، قبائلی اور آرتھوڈاکسی معاشرے کو ایک ترقی پسند، کھلے قوم پرستی معاشرے میں تبدیل کرنا چاہتا ہے جس کے بموجب وہ جزیرۃ العرب کے روایتی مذہب میں تبدیلی لا کر اسے "نو وہابیت" (Neo-wahhabism) کی صورت میں لانا چاہتا ہے۔ اسی رو سے بن سلمان کے دور میں یوں لگتا ہے کہ سیاست کے اصلی مرکزے [یعنی بادشاہ اور دربار) اور مذہبی قوت (ملکی مفتی کے زیر قیادت کام کرنے والی "وہابیت") کے درمیان ربط و تعلق میں بھی ڈرامائی تبدیلیاں نمودار ہونگی۔
1۔ محمد بن سلمان اور ویژن 2030 کے ضمن میں ثقافتی انقلاب
سعودی معاشرے کے اندرونی بحرانوں نیز محمد بن سلمان کے اہداف و مقاصد کا صحیح ادراک ان راستوں میں سے ایک ہے جن سے گذر کر بن سلمان کی مطلوبہ وہابیت کی شناخت ممکن ہوجاتی ہے۔ بہت سے مفکرین کا خیال ہے کہ سعودی عرب میں تشخص کے سرچشمے تیزی سے بدل رہے ہیں۔ ان تبدیلیوں کی رفتار میں حالیہ چند برسوں کے دوران تیزتر ہوچکی ہے اور یہ تبدیلیاں رسمی کیلنڈر، خط، سرزمین وغیرہ جیسے شعبوں میں زیادہ عیاں ہیں۔ (1) سعودی عرب میں وہابی علماء نے دین کی تشریح کا شعبہ اپنے اختیار میں لے رکھا ہے؛ چنانچہ نوجوان نسل کو ایک طرح سے وہابی تشخص کا سامنا ہے اور وہابی تشخص جدید ٹیکنالوجی کے منظر عام پر ‏آنے، عربی اشرافیہ عادات و اطوار کے فروغ اور نئے تشخص کے نمودار ہونے جیسی چیلنجوں کا سامنا کررہا ہے۔
سعودی عرب میں وہابی تشخص کے معرض وجود میں آنے اور ظہور پذیر ہونے کے ساتھ، معاشرتی تشخص کئی عشروں تک بدل گیا اور سعودی معاشرے نے "وہابیت و عربی اشرافیہ" کے دوہرے تشخص کو اپنا لیا۔ وہابی مفتیوں کے متضاد اور غیر معقول (اور عقلیت سے دور) نیز یکطرفہ رویئے جزیرۃ العرب کے عوام نیز بین الاقوامی اداروں کی شدید تنقید پر منتج ہوئے ہیں۔ (2) حالیہ ایک عشرے کے دوران سعودی عرب کے قبائلی اور فرقہ وارانہ جذبات کی بنا پر محمد بن سلمان [کے اندرونی و بیرونی مشیر] بھانپ گئے کہ وہابی تشخص کو ملک کے نوجوانوں کے تشخص کے بنیادی اصول کے طور پر مزید آگے نہیں بڑھایا جاسکتا۔ چنانچہ اس نے وہابیت میں تبدیلی لاکر نئے سعودی عرب کے لئے نیا مذہبی تشخص متعارف کرنے کی کوشش کی ہے۔ بن سلمان نے ویژن 2030 نامی پروگرام کا اعلان کرکے سعودی عرب کے لئے نئی اور لچکدار وہابیت متعارف کرانے کو اپنا مطمع نظر بنایا جس کے لئے تین اصول قرار دیئے گئے: "متحرک معاشرہ، پنپتی معیشت، اولوالعزم قوم"۔ (3) (3.1) وہ ان تین اصولوں کی تشریح کرتے ہوئے کہتا ہے: اسلام کے اصول اعلی مقاصد کے حصول کی طرف ہمارے محرک ہیں۔ اعتدال پسندی، بردباری، نظم و ضبط، مساوات اور شفافیت ہماری کامیابی کے لئے سنگ بنیاد ہیں۔ (4)
ویژن 2030 کے متن میں مذکورہ ان باتوں کو مد نظر قرار دے کر ہم سعودی عرب کے آرزمندانہ اہداف اور جدیدیت پر مبنی خواہشات کو بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔ تاہم ان اہداف کا حصول چنداں آسان بھی نہیں ہے۔ وہابیت کے بہت سے علماء اور دینی مراکز ـ حتی کہ مغربی ممالک کے فکری مراکز ـ "معاشی اصلاحات" کے بھیس میں محمد بن سلمان کا "ثقافتی انقلاب" سمجھتے ہیں۔ (5)
2۔ متشدد وہابیت کو درپیش چیلنجیں اور اسے کمزور کرنے کے لئے بن سلمان کے اقدامات
وہابیت کے مقابلے میں محمد بن سلمان کو درپیش اہم ترین چیلنجیں خواتین، نوجوان اور دینی اقلیتیں ہیں۔ یہ وہ چیلجنیں ہیں جن کا سامنا سعودی عرب کے سابقہ بادشاہوں کو کرنا پڑا ہے اور ہر ایک نے ان تین شعبوں میں اپنے آپ کو مصلح ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔
بن سلمان کی مطلوبہ وہابیت؛ خصوصیات اور چیلنجیں
1۔2۔ خواتین
سعودی معاشرے میں موجودہ معاشرتی اختلافات اور تعطل کے درمیان کوئی بھی خواتین کے کردار اور مستقبل سے زیادہ زیر بحث نہیں ہے۔ یہ بحث و جدل ایسی جنگ ہے جو قدامت پسندوں اور جدت پسندوں کے درمیان جاری ہے اور جنگ اس بات پر ہے کہ خواتین کس قسم کے ماحول میں زندگی بسر کریں اور کس حیثیت سے کردار ادا کرنا چاہئے۔ (6) معاشرے میں کردار ادا کرنے کے سلسلے میں خواتین کے مطالبات میں روز بروز شدت آرہی ہے اور حالیہ مہینوں کی سرکاری پالیسیوں نے اس موضوع کو ثابت کیا کہ محمد بن سلمان اس سلسلے میں قدیم وہابیت کے مد مقابل کھڑا ہے جبکہ طویل عرصے سے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خواتین کی طرف سے کردا ادا کرنے کی کوششوں کو وہابیت سے وابستہ اداروں کی شدید مختلفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ (7)
وہابیت کے دینی اداروں کی انتہا پسندی اور خواتین کے مسلسل مطالبات کی وجہ سے ہی سابق سعودی بادشاہ "شاہ عبداللہ" نے عورتوں کے امور میں کچھ فراخی کے اسباب فراہم کئے۔ بطور مثال شاہ عبداللہ نے 2011 میں [عرب سپرنگ کے آغاز کے بعد] ایک فرمان جاری کیا جس کے تحت خواتین 2015 تک انتخابات میں شرکت کرسکتی ہیں اور امیدوار بن سکتی ہیں (8) [گوکہ سعودی عرب میں صرف بلدیاتی انتخابات ہی منعقد ہوتے ہیں]۔ محمد بن سلمان نے اقتدار میں حصہ حاصل کیا تو اس سلسلے میں شدت آئی۔ یہاں تک کہ خواتین نے پہلی بار تصویروں کے حامل شناختی دستاویزات بنوائیں اور انہیں نکاح نامے کی ایک نقل اپنے پاس رکھنے کا حق دیا گیا اور حتی کہ الی ترین سطح پر مسند افتاء پر براجماں ہوئیں۔ اسی سلسلے میں بن سلمان نے بلوم برگ چینل کے ساتھ اپنے مکالمے میں بیان کیا: یہ ممکن نہیں ہے کہ سعودی معاشرہ ترقی کرے جبکہ اس کی نصف آبادی کے حقوق کو نظرانداز کیا جارہا ہو۔ چنانچہ ہم آزادیوں کی دوہری حمایت کرتے ہوئے عورتوں کو ـ ان کے لئے اسلام میں مقررہ حقوق ـ پلٹا دیں گے اور عورتوں پر مسلطہ کردہ پابندیوں اور بندشوں کی زنجیروں کو ان سے دور کریں گے۔ (9)
دوسری طرف سے بن سلمان نے سرگرم مقامی افرادی قوت کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی آڑ میں، ویژن 2030 میں ایک منصوبہ پیش کیا ہے جس کے تحت اجنبی ممالک کی افرادی قوت کے بجائے بعض شعبوں میں مقامی خواتین کی خدمات سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔ اس منصوبے کو سعودی عرب کے مفتی اعظم عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور اس نے اس منصوبے کو "مجرمانہ اور حرمت شکنانہ" قرار دیا (10) تاہم بالآخر روایتی وہابیت کو ـ خواتین کے سلسلے میں بن سلمان کی پالیسیوں کے سامنے ـ پسپائی اختیار کرنا پڑی۔
2۔2۔ نوجوان
موجودہ زمانے میں سعودی معاشرے کو درپیش ایک مسئلہ ـ جس کی وجہ سے بن سلمان کو وہابیت کا شدید مقابلہ کرنا پڑا ـ نوجوانوں اور ان کے مطالبات کا مسئلہ ہے۔ نوجوانوں اور انتہاپسند وہابیت کے مطالبات میں تضاد کو ایک طرح سے روایت اور جدیدیت (11) کے درمیان چپقلش کا نام دیا جاسکتا ہے۔ جدید دنیا کی سطح پر ـ بالخصوص مواصلات کے میدان میں ـ مغربی اقدار اور تعلیمات کے فروغ کے زیر اثر رونما ہونے والی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، سعودی نوجوان بھی مغربی اقدار یا جدیدیت کے ساتھ ساتھ اسی طرز کی عالمگیریت کی طرف مائل و راغب ہوچکے ہیں۔ سعودی نوجوانوں کو آج اپنی شناخت اور تشخص کی الجھن کا سامنا ہے اور آج سعودی عرب کی نوجوان نسل روایت اور جدیدیت میں سے ایک کے انتخاب میں سرگردان ہے۔ محمد بن سلمان کی داخلی پالیسیوں میں کوشش کی جارہی ہے کہ سلامتی اور مذہب سے متعلق اداروں ـ بالخصوص امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کمیٹی [هیئة الأمر بالمعروف والنهی عن المنکر] ـ کی سرگرمیوں کو محدود کیا جائے۔ جس کی وجہ سے وہابی علماء کے زیر انتظام چلنے والے ان اداروں کے اختیارات بھی محدود ہوچکے ہیں۔ (12) لہذا روایت اور جدیدیت کے درمیان تضاد و تنازعہ آج کے سعودی معاشرے کی اہم ترین دینی اور معاشرتی چیلنجوں میں شامل ہے اور بن سلمان کے نقطۂ نگاہ کی وجہ سے یہاں بھی انتہاپسند وہابیت کمزور ہوگئی۔ اور یوں ثقافتی علمانیت [یا ثقافتی لادینیت] (13) کی جانب بڑھتے ہوئے جدیدیت اور دینی تشخص کی نئی تعریف کے لئے راستہ ہموار ہوا۔
3۔2۔ شیعہ اور دینی اقلیتیں
ویژن 2030 اور اس کے تحت مجوزہ معاشی منصوبوں کا نفاذ ـ جو دینی کثرتیت (14) پر استوار کئے گئے ہیں ـ لامحالہ انتہاپسند وہابیت اور دینی اقلیتوں کے درمیان ـ جنہیں آج تک وہابی علماء نے تسلیم ہی نہیں کیا ہے ـ تصادم پر منتج ہوگا جس کے نتیجے میں ـ بن سلمان کے اقدامات کو مد نظر رکھتے ہوئے ـ آل سعود اور آل الشیخ کے درمیان تقابل کے اسباب فراہم ہونگے یا یوں کہئے کہ طاقت کا نظام دینی نظام پر غلبہ پائے گا۔ کیونکہ ویژن 2030 سے معاشی شعبے میں قومی آمدنی میں اضافہ اور اوسط طبقے کا سماجی ارتقاء مقصود ہے؛ اور سعودی معاشرے میں اوسط طبقے کی تشکیل کی صورت میں اس کے مطالبات اور زندگی کے ملزومات ـ منجملہ زیادہ سے زیادہ آزادیاں، سوشل سوسائٹی کی ترقی، بڑھتی ہوئی سیاسی شراکت داری، نیز ثقاقتی کثرتیت کی طرف حرکت ـ بھی معرض وجود میں آئیں گے۔ جبکہ وہابی علماء ـ وہابی تعلیمات کے مطابق ـ ان تبدیلوں کو تسلیم نہیں کرسکیں گے۔
بایں حال سعودی عرب کی عظیم ترین دینی اقلیت ـ یعنی شیعیان اہل بیت(ع) ـ کے ساتھ تشدد آمیز رویہ جاری رہے گا کیونکہ شیعہ مکتب کے پیروکاروں کے ساتھی امتیازی سلوک اور متشددانہ رویہ، وہابیت کے پیشرو اور حال حاضر کے علماء کی مکتوبات پر استوار ہے۔ مثال کے طور پر ابن تیمیہ نے اپنی کتب و رسائل میں بارہا اس موضوع پر زور دیا ہے کہ "شیعہ، خوارج سے کہیں زیادہ، قتل کے لائق ہیں" (15) اور وہابیت کے بانی محمد بن عبدالوہاب نے بھی ابن تیمیہ کے افکار کو دوبارہ شائع کرکے زور دیا ہے کہ "چونکہ شیعہ ائمہ طاہرین علیہم السلام سے تقرب جوئی کرتے ہیں اور انہیں اللہ کی بارگاہ میں شفیع قرار دیتے ہیں چنانچہ ان خون مباح اور ان کا قتل جائز ہے"۔ معاصر وہابی مفتیوں کا موقف بھی بعینہ یہی ہے۔ بطور مثال معاصر وہابی مفتیوں میں انتہاپسندترین شخص "ناصر العمر" ہے جس نے شیعیان اہل بیت(ع) کے قتل کو جائز قرار دیتے ہوئے اپنی خونخواری کا ثبوت ان جملوں میں پیش کیا ہے: "کیا بدیع ہے وہ منظر، جب تو دیکھتا ہے کہ شیعوں کی لاشیں خون کے سمندر میں غوطہ ور ہیں اور رافضی کے خون کی لہریں تیری سماعتوں کو نوازتی ہیں اور ان کی لاشیں تیری آنکھوں کو وجد میں لاتی ہیں"۔ (16)
[سعودی ـ وہابی پالیسیوں پر شیعیان اہل بیت(ع) کی تنقید اظہر من الشمس ہے] لہذا محمد بن سلمان کو درپیش چیلنجوں میں سے ایک معترض اور منتقد شیعہ اقلیت کے ساتھ اس کا تعامل ہے جو آل سعود کے مد مقابل سب سے زیادہ طاقتور اور منظم معترض قوت سمجھی جاتی ہے۔ محمد بن سلمان نے شیعہ آبادی ـ اور سماج اور سلامتی کے میدان میں در پیش اس اہم چیلنج ـ کے ساتھ اپنائے جانے والے رویئے کی کیفیت کے بارے میں آج تک اظہار خیال نہیں کیا ہے۔ جس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ وہ بھی اپنے پیشرو حکمرانوں کے طرح شیعہ آبادی کو نظر انداز کرکے اس کے ساتھ وہی امتیازی سلوک روا رکھنا چاہتا ہے یا پھر یہ جتانا چاہتا ہے کہ گویا سعودی عرب کے عوام کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے، بالفاظ دیگر وہ ایک جھوٹی قومی یکجہتی ظاہر کرکے ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ شیعوں اور وہابیوں کے درمیان کسی قسم کا کوئی اختلاف و تقابل نہیں پایا جاتا! [جس کے لئے البتہ اس کو موجودہ سینسرشب اور شیعیان آل رسول(ص) کے ابلاغی مقاطعے کی پالیسی پر بھی کاربند رہنا پڑے گا جو کہ اس کی مبینہ معاشرتی آزادی پر مبنی پالیسی کے منافی ہوگی]۔
اس وقت امریکہ، اسرائیل اور آل سعود نے مغربی ایشیا میں دو قطبی تضاد کا ماحول قائم کررکھا ہے جس کی وجہ سے سعودی عرب سمیت مختلف ممالک کے شیعیان اہل بیت(ع) خطرہ محسوس کررہے ہیں، اور بن سلمان نے شیعیان اہل بیت(ع) کے مقابلے میں استبدادی رویہ اپنا کر انہیں کچلنے اور خوفزدہ کرنے کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ چنانچہ مذکورہ بالا دو موضوعات میں بن سلمان کے مختلف موقف کے برعکس، کم از کم مستقبل قریب میں شیعیان اہل بیت(ع) کے مقابلے میں محمد بن سلمان اور وہابیت کے مذہبی اداروں کے نقطۂ نظر اور پالیسیوں میں کسی قسم کی مغایرت کی امید نہیں رکھی جاسکتی اور ان کا سلوک ماضی کی طرح یکسان رہنے کا خدشہ باقی ہے۔
نتیجہ
گوکہ محمد بن سلمان کے ولیعہد بننے پر سعودی مفتی اعظم عبدالعزیز آل الشیخ اور بعض دیگر سعودی درباری مفتیوں نے اس کو مبارک باد دی اور اس کے ہاتھ پر بیعت کی اور باضابطہ طور پر اس کی حمایت کا اعلان کیا لیکن اس نوجوان شہزادے کے موقف اور مختلف بیانات سے بآسانی سمجھا جاسکتا ہے کہ وہابیت کے ساتھ اس کا تعلق دوستانہ نہیں ہے۔
اس حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ جزیرۃ العرب کی جدید سازی بن سلمان کے اہم ترین مقاصد میں شامل ہے اور ویژن 2030 میں بھی اس کو اہم حیثیت حاصل ہے، سعودی ولیعہد نے روایتی انتہاپسند وہابیت کی حیثیت کو ـ بطور سرچشمۂ مشروعیت (17) ـ محدود کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور اس کی کوشش ہے کہ وہابیت کے رتبے کو سعودی بادشاہت کے سرچشمۂ مشروعیت سے گھٹا کر اس کو ایک شخصی مذہب و عقیدے کی حد تک گرا دے۔ اس کا نظریہ یہ ہے کہ وہابیت اس کی آج کی بلندپروازیوں اور منصوبوں کا تحمل نہیں رکھتی۔ محمد بن سلمان متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں کی پالیسیوں سے متاثر ہے اسی بنا پر وہ وہابی علماء اور ملک کے دینی اداروں کے اثر و رسوخ کی سطح کم کرکے ایک ایسی وہابیت کی بنیاد رکھنا چـاہتا ہے جو ہیومینزم (18) پر مبنی، محدود اور شخصی و ذاتی ہو اور یہ نئی وہابیت "اعتدال پسندی، بردباری، مساوات اور شفافیت" کے چار اصولوں پر استوار ہوگی۔ [آج تک آل سعود کی حکمرانی کے قانونی جواز اور مشروعیت کا سرچشمہ وہابیت ہے] بن سلمان ایسی وہابیت کی بنیاد رکھنے درپے ہے جس کے قانونی و شرعی جواز کا سرچشمہ آل سعود کا سیاسی نظام ہو۔ یہ وہی موضوع ہے جو حقوق نسوان کے بارے میں "ہیئت کبارالعلماء" کے حالیہ فتوے کے ضمن میں بیان کیا گیا ہے کہا گیا ہے کہ "سعودی بادشاہ معاشرے کی تمام مصلحتوں اور اعمال کا واحد مرجع (19) ہے"۔
اس نقطۂ نظر کے تحت، بن سلمان کی پسندیدہ وہابیت ایک انتہائی فردی اور شخصی فرقہ ہے سعودی عرب کے سیاسی دائرے کے باہر کسی قسم کی معاشرتی نقل و حرکت کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ بن سلمان کی پسندیدہ وہابیت کے نسبتا شخصی [ذاتی] (20) ہوجانا، سبب بنے گا کہ اس فرقے اور اس کے دینی علماء کے اثر و رسوخ کا دائرہ محدود ہوجائے اور محدود ہونے کے اس عمل کا نتیجہ اسلامی مذاہب اور دوسرے ادیان کے ساتھ اعتدال پسندانہ اور لچکدار رویے کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا۔ وہابی مفاہیم میں دفاع اور جوابدہی کی عدم قابلیت اور عقلی اصولوں کی عدم موجودگی اس فرقے کے علماء کو مجبور کرے گی کہ سیاسی موقف اپنانے کے اپنے موجودہ رویے کو ترک کریں اور اپنے فرقے کی بقاء کی خاطر آل سعود کے حکمرانوں کے معین کردہ دائرے کے اندر محدود ہوجائیں۔ کہ اس صورت میں ان علماء کو صرف سرکاری اقدامات کو شرعی لبادہ پہنانے کے لئے بروئے کار لایا جائے گا۔ [جبکہ اس سے پہلے وہ آل سعود کے اقدامات کی شرعی توجیہ کے ساتھ ساتھ اندرونی اور بیرونی پالیسیوں کے سلسلے میں بھی فتوی دیا کرتے تھے اور اب ان کی ذمہ داری سرکاری اقدامات کو شرعی توجیہ پیش کرنے تک محدود ہوجائے گی]۔

سعودی عرب میں ہولناک آتشزدگی10، افراد ہلاک

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے علاقے بدر میں ایک بڑی ورک شاپ میں آگ لگ گئی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری جگہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور انسانوں سمیت اندر موجود ہر شئے کو جلا کر خاکستر کردیا۔ ورک شاپ میں لکڑی کی اشیا بنائی جاتی تھیں جس کی وجہ سے آگ بہت تیزی سے پھیلی اور اندر موجود لوگوں کو جان بچانے کے لیے باہر نکلنے کا موقع ہی نہ مل سکا۔
سعودی شہری دفاع کے محکمے نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ بیان میں واقعے کے بارے میں بتایا اور 10 افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق کی۔ سعودی حکام نے تاحال جاں بحق اور زخمی ہونے والے کی قومیت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ہے کہ آیا وہ مقامی تھے یا تارکین وطن محنت کش تھے۔

امیرکویت سعودی بادشاہ کو منانے ریاض پہنچ گئے

امیر کویت «شیخ صباح الاحمد الصباح» آج بروز پیر علی الصبح محض چند گھنٹوں کے دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔
امیر کویت سعودی حکام کو قطر کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیاں اٹھانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے۔
سعودی ذرائع کا کہنا ہے کہ امیر کویت دوحہ-ریاض تعلقات کے فروغ پر سعودی حکام سے تبادلہ خیال کریں گے۔
واضح رہے کہ دو ہفتے بعد کویت میں خلیجی تعاون کونسل کا اجلاس منعقد ہونے والا ہے۔
خیال رہے کہ پہلے بھی قطر اور سعودی عرب کے معاملات خراب ہونے پر کویت نے ہی ثالثی کا کردار ادا کیا تھا اور دونوں کے درمیان صلح کروائی تھی جبکہ اس بار بھی کویت ہی دونوں ملکوں کے تعلقات کا خیرخواہ نظر آتا ہے، البتہ اس مرتبہ صورتحال کافی کشیدہ ہے اور پہلے سے مختلف ہے اور قطر پر دہشتگردی کا بھی الزام ہے۔
یاد رہے کہ بحرین، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور مصر نے قطر کیساتھ روابط منقطع کئے ہیں۔
ان ممالک کا قطر پر الزام ہے کہ یہ ملک دہشتگردی کی معاونت کررہا ہے۔
ان ممالک نے قطر پر زمینی، فضائی اور سمندری راستے بھی بند کردئے ہیں اور دوحہ کا محاصرہ کیا ہوا ہے۔