Thursday, 19 October 2017

جیل بھرو تحریک تیسرا مرحلہ: مولانا ناظم مسجد دربار حسینی ملیر سے گرفتاری دیں گے

شیعیت نیوز: شیعہ مسنگ پرسنز ریلیز کمیٹی کی جانب سے کل بروز جمعہ 20اکتوبر 2017ء کو مسجد دربار حسینی ملیر سے بعد از نماز جمعہ احتجاً شیعہ ایکشن کمیٹی کے رہنما مولانا ناظم اپنی گرفتاری پیش کریں گے۔
واضح رہے کہ لاپتہ شیعہ افراد کی بازیابی کے لئے علامہ حسن ظفر نقوی نے جیل بھرو تحریک کا آغا کیا تھا، اس سلسلے کے تیسرے مرحلے میں کل شیعہ ایکشن کمیٹی کے رہنما مولانا ناظم علی آزاد گرفتاری پیش کریں گے۔

علامہ حسن ظفر نقوی نے لاپتہ شیعہ عزاداروں کی بازیابی تک بھوک ہڑتال کا اعلان کردیا

شیعیت نیوز:بغدادی تھانے میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے علامہ حسن ظفر نقوی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات کی سخت مذمت کرتے ہیں، جن میں کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے افراد، پولیس کے جوان، اور کرم ایجنسی میں فوج کے جوان شہید ہوئے ۔علامہ حسن ظفر نقوی کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئ ماہ سے ہم نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے ہر سطح پر آواز اٹھائ اور پھر 6 اکتوبر سے از خود گرفتاری پیش کرنے کی تحریک کا آغاز بھی کیا ، لیکن آج دو ہفتے گزرنے کے باوجود حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی ۔ کیونکہ ان لاپتہ افراد میں کسی کا باپ نواز شریف نہیں ہے، کسی کا بیٹا حسن نواز اور حسین نواز نہیں ہے، کسی کی بیٹی مریم نواز نہیں ہے، کسی کا داماد کیپٹن صفدر نہیں اور کسی کا سمدھی اسحاق ڈار نہیں کہ جن کے لئے ساری حکومت اور حکومتی مشنری مدد کرنے کے لئے میدان میں اتری ہوئی ہے ۔ انھیں بچانے کے لیے پرانے قوانین بدلے جا رہے ہیں اور نئے قوانین بنائے جا رہے ہیں اور آئین کی دھجیاں اڑائ جا رہی ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ لاپتہ افراد تو وہ غریب اور عام پاکستانی ہیں جن کی فریاد سننے کا وقت کسی کے پاس نہیں ہے۔ ان لاپتہ افراد کے بوڑھے ماں باپ، اور بیوی بچے در در مارے مارے پھر رہے ہیں مگر حکمرانوں کے کانوں میں سیسہ پڑا ہوا ہے، انھیں سوائے اپنے مفادات کے تحفظ کے کوئ آواز سنائ نہیں دیتی ۔ہم نے پر امن جدوجہد کے ذریعے پیغام دیا اور دے رہے ہیں کہ ہم صرف اپنا آئینی اور قانونی حق مانگ رہے ہیں، مگر وہ حق ہمیں نہیں دیا جا رہا ۔
یہ گرفتاریوں کی تحریک تمام شیعہ تنظیموں کے فیصلوں کے ساتھ آگے بڑھتی رہے گی ۔ مگر میں اس موقع پر اعلان کر رہا ہوں کہ میں نے گزشتہ روز سے بھوک ہڑتال شروع کر دی ھے ۔اور یہ بھوک ہڑتال نتائج کے حصول تک جاری رہے گی چاہے میری جان ہی چلی جائے ۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نہیں کہتے کہ اگر ان جوانوں پر کوئی کیس ہے تو انہیں آزاد کردو بلکہ ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمیں ائین و قانون کے مطابق انصاف دو،ہمیں بتاو کہ وہ لاپتہ افراد زندہ ہیں یا نہیں، اگر وہ قانون شکنی میں ملوث رہے ہیں تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائےمگر ملک کے افراد کو لاپتہ کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔
علامہ حسن ظفر نقوی کا کہنا تھا کہ میرے پاس لاپتہ افراد کے مظلوم وارثوں سے یک جہتی کا جو بھی راستہ ہے اختیار کروں گا ۔ انتہائ افسوس کے ساتھ اس بھوک ہڑتال کا اعلان کر رہا ہوں کہ " یہ کیسا نظام ھے کہ جہاں اپنے بنیادی انسانی حق کے حصول کے لئے بھی اپنی جان پر کھیلنا پڑتا ھے ۔"
مجھے معلوم ہے کہ میری بھوک ہڑتال سے بھی حکمرانوں بے حسی اور ڈھٹائ پر کوئی اثر پڑنے والا نہیں ھے، مگر کم از کم جہاں جہاں ابھی ضمیر انسانی زندہ ہے وہاں ضرور میری آواز پہنچے گی۔

فلسطین میں ذرائع ابلاغ کے دفاتر پر صیہونی فوجیوں کے حملوں کی مذمت

اسلامی ریڈیو اور ٹیلی ویژن چینلوں کی یونین نے بدھ کو اپنے ایک بیان میں فلسطینی سیٹلائٹ ٹی وی چینلوں کے دفاتر پر اسرائیلی فوجیوں کےحملوں اور ان کے کارکنوں کوگرفتار کئے جانے کی مذمت کی ہے۔
مذکورہ یونین نے غرب اردن کے شہروں الخلیل، رام اللہ، نابلس اور بیت لحم میں ٹرانس میڈیا، پال میڈیا اور رامسات جیسی میڈیاسروس کی کمپنیوں اور کئی بین الاقوامی سیٹلائٹ ٹی وی چینلوں منجملہ فلسطین الیوم، القدس، الاقصی اور المنار ٹی وی کے دفاتر پر حملے اور انہیں بند کئے جانے کو فلسطینی ذرائع ابلاغ کے خلاف اسرائیل کی کھلی جنگ قراردیا۔
اسلامی ریڈیو اور ٹی وی چینلوں کی یونین کےبیان میں کہا گیا ہے کہ صیہونی فوجیوں کے حملوں فلسطین الیوم، القدس، الاقصی اور المنار ٹی وی چینلوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو اس یونین کے ممبر ہیں۔
بیان میں اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ صیہونی حکومت ہر اس قومی اور آزادی پسندی کی آواز کو دبانے کی کوشش کررہی ہے جو غاصب اسرائیل کے ماہیت اور حقیقت کو آشکارہ کرتی ہے، کہا گیا ہے کہ صیہونی حکومت اس سے پہلے بھی اسی طرح کے اقدامات کا ارتکاب کرچکی ہے لیکن وہ فلسطینی ذرائع ابلاغ کی آواز کو دبانے میں ناکام رہی ہے۔
فلسطین میں اسلامی ریڈیو اور ٹیلی ویژن چینلوں کی یونین نے صیہونی حکومت کے اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین اور معاہدے کے منافی بتایا اور عالمی اداروں سے کہا ہے کہ صیہونی حکومت پر دباؤ ڈالے تاکہ میڈیا کےخلاف وہ اپنے اقدامات کو بند کرے۔
دوسری جانب فلسطینی گروہوں نے بھی الگ بیانات جاری کرکے فلسطین کے ٹی وی چینلوں اور میڈیا کے دفاتر کو بند کرنے کے صیہونی فوجیوں کے اقدام کی مذمت کی ہے۔
فلسطین کی تحریک جہاد اسلامی نے بدھ کو ایک بیان جاری کرکے کہا ہے کہ فلسطین کے سیٹلائٹ ٹی وی چینلوں اور میڈیا کے دفاتر پر صیہونی فوجیوں کے حملے فلسسطینی بچوں خواتین اور بوڑھوں کے خلاف غاصب صیہونیوں کے حملوں کے جرائم کو افشا کرنے میں فلسطینی میڈیا کی طاقت کے مقابلے میں اسرائیلی حکومت کی بے بسی کی علامت ہے۔
عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین اور فتح الانتفاضہ جیسی تنظیموں نے بھی صیہونی فوجیوں کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی ذرائع ابلاغ تمام تر مشکلات اور چینلجوں کے باوجود اپنا مشن جاری رکھیں گے۔

آیت اللہ خامنہ ای اور ایرانی حکومت کے شکرگزار ہیں بشار اسد

شامی صدر بشار الاسد نے شام میں دہشت گردوں کے خاتمے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایرانی حکومت اور خاص کر امام خامنہ ای کا شکریہ ادا کیا۔
جنرل باقری نے دہشتگردی کے خلاف شامی مسلح افواج کی حالیہ فتوحات پرمبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ شام میں مکمل دہشت گردوں کے خاتمے تک شامی حکومت کی حمایت جاری رہے گی۔
اس موقع پر شامی صدر بشار الاسد نے دہشتگردوں کے خلاف شام کی بھرپور حمایت کرنے پر قائد اسلامی انقلاب حضرت آیت اللہ خامنہ ای، ایرانی قوم اور حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ شامی فوج ملک بھر سے دہشت گردوں کا صفایا کرکے ہی دم لے گی۔
خیال رہے کہ ایرانی مسلح افواج کے سربراہ بروز منگل شام کے دورے پر دمشق پہنچے تھے اور انہوں نے شامی ہم منصب اور وزیر دفاع کے ساتھ بھی اہم ملاقاتیں کیں۔

حزب اللہ لبنان کے سربراہ سے آئی آر آئی بی کے سربراہ کی ملاقات

ایران کے سرکاری ریڈیواور ٹی وی کے ادارے آئی آر آئی بی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالعلی علی عسکری نے بیروت میں حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ سے ملاقات میں شام، عراق اور لبنان میں دہشتگردوں کے خلاف جنگ کی صورت حال کا جائزہ لیا اور استقامتی محاذ کی حالیہ کامیابیوں کے بارے میں صلاح و مشورے کئے- آئی آر آئی بی اور حزب اللہ کے سربراہوں نے اس ملاقات میں استقامتی محاذ کے ذرائع ابلاغ کے کردار کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ میدان جنگ میں مجاہدین کے ساتھ ہی استقامتی محاذ کے ذرائع ابلاغ کی موجودگی نے حالیہ کامیابیوں میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے- آئی آر آئی بی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالعلی علی عسکری، شام کا دورہ اور شامی حکام سے ملاقات کے بعد پیر کو بیروت پہنچے تھے- ڈاکٹرعلی عسکری نے بیروت میں اسلامی ریڈیو ٹی وی یونین کے بعض عہدیداروں سے ملاقات میں کہا کہ دنیا کے مختلف علاقوں میں ایران کے اسلامی انقلاب کی وفادار انقلابی طاقتوں کی کوششوں سے استقامی محاذ اور استقامتی محاذ کے ذرائع ابلاغ روز بروز پیشرفت کی جانب گامزن ہیں- انھوں نے کہا کہ امریکہ سمیت تسلط پسند نظام، ہمیشہ ایران کے اسلامی انقلاب کو ختم کرنے کے درپے رہا ہے تاہم اس کی کوششیں ہمیشہ ناکامی پر منتج ہوئی ہیں- آئی آر آئی بی کے سربراہ نے کہا کہ اللہ تعالی کے لطف و کرم ، حزب اللہ لبنان کے سربراہ اور استقامتی طاقتوں اور مجاہدین کی کوششوں سے صیہونی حکومت کی سازشیں ناکام رہی ہیں - انھوں نے اس محاذ کی پیشرفت میں استقامتی محاذ کے کردار کو ناقابل انکار قرار دیا اور کہا کہ ایران کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کا ادارہ استقامتی محاذ کے ایک چھوٹے سے رکن کی حیثیت سے ہمیشہ استقامتی محاذ کے ذرائع ابلاغ کے ساتھ کھڑا رہے گا- ڈاکٹر علی عسکری نے غرب اردن میں آٹھ نشریاتی اداروں کو بند کئے جانے کے صیہونی حکومت کے اقدام کی مذمت کی اور کہا کہ اس اقدام سے پتہ چلتا ہے کہ صیہونی حکومت کو استقامتی محاذ کے اثرات سے سخت تشویش لاحق ہے- ایران کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ادارے آئی آر آئی بی کے سربراہ نے صیہونی حکومت کے اقدامات کے سلسلے میں اس کے حامیوں خاص طور سے امریکہ کی خاموشی کو آزادی بیان کے بارے میں ان کے دعؤوں کے جھوٹے ہونے کی علامت قرار دیا اور کہا کہ امریکہ اور صیہونی اتحاد، استقامت و پائداری کی ثقافت کو ترویج دینے والے ذرائع ابلاغ کے خلاف ہیں - آئی آر آئی بی کے سربراہ نے بیروت میں لبنان کے صدر میشل عون اور لبنانی پارلیمنٹ کے انفارمیشن کمیشن کے سربراہ حسن فضل اللہ سے ملاقات کی اور لبنان کے المنار ٹی وی کے ہیڈآفس کا بھی دورہ کیا - ایران کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ادارے کے سربراہ ڈاکٹر علی عسکری کے اس دورے کے موقع پر آئی آرآئی بی اور حزب اللہ لبنان کے درمیان صحافتی اور ثقافتی تعاون کے معاہدے پر بھی دستخط ہوئے ہیں-