تحریر:اعجاز حسین بہشتی
''دین اسلام ''عالم انسانیت کے لئے لازوال تحفہ اور عظیم عطیۂ خدا وندی ہے 'یہ عظیم عطیۂ خدا وندی اس وقت عطا ہوا جب ساری کائنات پر جہالت و تاریکی کے بادل چھائے ہوئے تھے اور جس طرح مردہ زمین اپنی زندگی کے لئے بارش کی بھیک مانگتی ہے اسی طرح مردہ اور تباہ حال انسانیت ایک حیات بخش نظام زندگی کے لئے نہایت بے قراری کے ساتھ آسمانوں کی طرف نگاہیں اٹھا اٹھا کر دیکھ رہی تھی انسانیت کا سب سے بڑا ہمدرد اور شفیق ترین انسان غار حرا کی خلوتوں میں اسی بات پر غور و فکر رہا تھا کہ بد اخلاقیوں اور بد سلوکیوں کے گرداب میں پھنسی ہوئی انسانیت کو کیونکر اس کے اصل مقام و مرتبہ سے آشنا کیا جائے کہ اچانک آواز گونجی:" أقرأباسم ربک..."۔ یہ ایک نیا پیغام 'نئی تہذیب'نئے تمدن کا ایک حیات بخش نظام یعنی خدا وند عالم کے کلام''قرآن کریم''کا آغاز ہوا ۔قرآن کا نزول کیا ہوا کہ عرب بددؤں کو انسانیت ساز اصولوں کا ذخیرہ مل گیا خدا نے اس ابد آثار کتاب میں اپنے محبوب دین اسلام کے ان تمام اصولوں کو بیان کر دیاجو حیات بشر کے تکامل میں خشت اول کی حیثیت رکھتے ہیں ۔اسلام قیامت تک کی آنے والی انسانیت کے لئے ایک جامع دین ہے 'لہٰذا اسلام کی اس جامعیت کو لوگوں پر آشکار کر نے کے لئے رسول خدا(ص)نے اس دور کے گوشہ و کنار میں بسے ہوئے انسانوں کو اس دین سے آگاہ کیا اور اس کی تبلیغ فرمائی 'کبھی قاصد بھیج کر دعوت دی تو کبھی خطوط کے ذریعہ لوگو ں کو دین اسلام کی جھلک دکھائی۔
مختصر واقعۂ مباہلہ
''نجران''یمن میں ایک مقام ہے جہاں عیسائی رہتے تھے اور وہاں ایک بہت بڑا کلیسا تھا 'آنحضرت نے انھیں بھی ایک خط روانہ کیا اور اسلام قبول کرنے کی دعوت دی 'انھوں نے حالات کی تحقیق کے لئے ایک قافلہ عبد مسیح 'عاقب اور ابو حارثہ کی قیادت میں مدینہ روانہ کیا 'یہ قافلہ عصر کے وقت مدینہ میں داخل ہوا 'جسم پر ریشمی کپڑوں کی زیبائش تھی تو ذہن ودل افتخار آفریں احساسات کی آماجگاہ بنے ہوئے 'وہ لوگ جیسے ہی رسول اکرم(ص) کی خدمت میں پہونچے آپ نے منھ پھیر کراپنی بے رخی کا اظہار کیا۔
حضرت علیؑ کی رہنمائی پر وہ لوگ دوسرے دن ظاہری زیبائش سے آزاد ہو کر ایک سادہ لوح انسان کی طرح آئے'رسول نے خندہ پیشانی سے ملاقات کی اور کہا:قسم ہے اس خدا کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے کل جب یہ لوگ میرے پاس آئے تھے تو ان کے ہمراہ شیطان تھا 'اسی لئے میں نے ان کے سلام کا جواب نہ دیا ۔
تھوڑی دیر بعد مناظراتی جلسہ تشکیل دیا لوگوں نے سوال پر سوال کئے اور آپ نے ان کے دندان شکن جواب دیکر ان کا منھ بند کر دیا'ایک عالم نے سوال کیا حضرت عیسیٰ کے متعلق آپکا کیا خیال ہے؟
آنحضرت نے جواب دیا :وہ خدا کے بندے اوراس کے رسول تھے ۔انھوں نے کہا:کیا کہیں دیکھا ہے کہ کوئی بچہ بغیر باپ کے پیدا ہوا ہو؟خدا وند عالم نے ان کے جواب میں ایک آیت نازل فرمائی:إِنَّ مَثَلَ عيسى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرابٍ ثُمَّ قالَ لَهُ كُنْ فَيَكُون"عیسی علیہ السلام کی مثال اللہ کے نزدیک آدم علیہ السلام جیسی ہے کہ انہیں مٹی سے پیدا کیا اور پھر کہا ہوجااور وہ ہوگیا"۔(آل عمران/59)
قرآن مجید کی اتنی واضح نص اوررسول خدا(ص) کی دندان شکن دلیلوں کے با وجود انھوں نے اسلام قبول نہ کیا 'تو بات مباہلہ تک آگئی یعنی جب دونوں فریق اپنے آپ کو حق اور دوسرے کو باطل قرار دیں تو اپنے عزیزوں کو ہمراہ لیکر خدا کے حضور بد دعا کریں 'جو باطل پر ہوگا خدا اسے اپنے قہر کے حصار میں لیکر صفحۂ ہستی سے مٹادے گا۔
قرآن نے اس کی تشریح ایک آیت میں کی ہے: فَمَنْ حَاجَّكَ فيهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعالَوْا نَدْعُ أَبْناءَنا وَ أَبْناءَكُمْ وَ نِساءَنا وَ نِساءَكُمْ وَ أَنْفُسَنا وَ أَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكاذِبين"اے رسول !علم آجانے کے بعد جو لوگ تم سے کٹ حجتی کریں ان سے کہہ دیجئے کہ آؤ ہم لوگ اپنے اپنے فرزند ، اپنی اپنی عورتوں اور اپنے اپنے نفسوں کو بلائیں اور پھر خدا کی بارگاہ میں دعا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت کریں "۔ (آل عمران/٦١)
رسول خدااپنے اہلبیت کے ہمراہ میدان مباہلہ میں تشریف لائے لیکن تمام تاریخی منابع سے یہ بات ثابت ہے کہ نجران کے مسیحی علماء نے رسول خدا کے اس نورانی قافلہ کو دیکھ کر اس کی روشنی کے آئینہ میں اپنی نا بودی کا چہرہ دیکھ لیااور لوگ سمجھ گئے کہ اگر مباہلہ ہوا تو تمام عیسائی صفحۂ ہستی سے مٹ جائیں گے 'لہٰذا اپنی شکست کایقین کرتے ہوئے سپر ڈالدی اور خراج دینے کی بات رکھی 'رسول خدا نے بھی اپنی رحمت و عطوفت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی پیش نہاد قبول کی۔
واقعہ مباہلہ کے اھم نکات
مفسرین و محدثین نے آیۂ مباہلہ میں موجود معارف و حقائق کے بہت سے گوہر آبدار کی نشاندہی کی ہے اور تقریباََ ہر مفسر نے اپنی اپنی تفسیروں میں آیۂ مباہلہ کے سلسلہ میں بحث کی ہے لیکن اگر خود واقعہ ٔ مباہلہ کے ظواہر پر غور و فکر کریں گے تو آپ کو بہت سے نکات نظر آئیں گے ۔
١۔اصل میں اختلاف 'رسول خدااور نجران کے مسیحی علماء کے درمیان تھالیکن فرزندوں'عورتوں اور اپنے کوہمراہ لانے کا حکم دینا اس بات کی دلیل ہے کہ صاحب ادعا اپنے دعوے کو مکمل اطمینان کے ساتھ ثابت کر سکے 'اس لئے کہ فطری اعتبار سے ہر انسان فرزندوں اور عورتوں پر بے پناہ شفقت اور محبت کا قائل ہے 'اس کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ ان سے ہر طرح کی مصیبتوں کو دور رکھے 'خود ان کی مصیبتوں کی ڈھال بن کر ان کی حفاظت کرے ۔
٢۔اسلامی آئین و معارف میں فضیلت و برتری کا معیار ظاہری زیبائش اور افتخار آفریں احساساست نہیں ہیں بلکہ اسلام کی نظر میں اسی کو برتری حاصل ہے جو خدا پر مکمل ایمان رکھتا ہو اور تقویٰ اس کی زندگی کا نصب العین ہو۔
٣۔رسول خدا(ص)نے آیت کے مصداق اہلبیت کو قرار دیکر آنے والی تمام نسل بشر کو یہ باور کرایا کہ میرے بعد اہلبیت ہی تمام انسانوں سے افضل ہیں 'اور جب بھی دین کو ض
No comments:
Post a Comment