Saturday, 16 September 2017

فیشن محرم



فیشن محرم محرم قریب ہے میں پہنچا بازار سادہ سا لباس لانے کے لئے پتہ چلا فیشن غم کی ہے بھرمار غم شہہ ابرار منانے کے لئے غم میں افسردگی ۔میں کیا ہوگیا یہ معاشرہ میرا سارا کہاں کھوگیا محرم بھی فیشن میں سمو گیا سوچتا میں رہا کیا کوئی بیدار ہے اک گھڑی سوچنے میں لگا کس جگہ میں ہوں کھڑا میں کہاں ان سب سے جدا خریدنے کے لئے خود بھی تیار ہے خدارا غم میں فیشن کو نا اپناو خدارا دین پر نا کیچڑ کو گراو خدارا سادہ لباس پہنو پہناو کٹ رہا علمدار ہے فیشنی کردار ہے چوڑیاں کالی کالی کہیں پر دکھی ملبوسات پر نقش سیاہ تھی سجی خوشی سے مزاق تھا کوش یزیدی قتل میرا سردار ہے روپ کا انبار ہے چھوڑ دو یا کہ تم اس غم کو منانا یا مگر دیکھ لو کیسے ہے اشک بہانا خود سے تم پوچھ لو نا کہ سارا زمانہ تیر کی بوچھاڑ ہے کس سے ہمیں پیار ہے

No comments:

Post a Comment