Wednesday, 22 October 2025

Sick New World 2026 Complete Guide

Sick New World 2026 Complete Guide Sick New World returns in 2026 as two single-day heavy-music festivals designed for fans of aggressive, emotionally charged rock and metal. This guide covers dates, lineups, tickets, travel and lodging advice, day-of planning, safety and practical tips so you can experience the festival with confidence. Event summary Sick New World 2026 takes place as two separate one-day events. The Las Vegas edition occurs April 25, 2026 at the Las Vegas Festival Grounds. The Fort Worth edition occurs October 24, 2026 at Texas Motor Speedway. Each date features a major headliner and a curated roster of supporting acts spanning metal, alternative, industrial, and heavy-influence crossover styles. Lineup and musical highlights Headliners: System of a Down headlines both dates. Supporting acts: A rotating slate of well-known and genre-defining bands appear across the two events, giving each date a unique energy. Expect a mix of nu-metal, alternative metal, industrial, post-hardcore, and melodic heavy acts. Musical variety: Programming balances legacy acts with contemporary heavy artists to satisfy longtime fans and newer audiences, with high-energy sets and dynamic production values. Tickets and packages Ticket types: General admission, premium/elevated zones, VIP passes, parking passes, and hotel+ticket bundles are offered. Presales and public on-sale: Presale windows and partner offers are typical; VIP and bundled packages sell out fastest. Purchasing advice: Buy through official festival channels and authorized ticketing partners to avoid scalping issues. Use payment plans if available to spread cost. Travel and lodging Hotels: Book as early as possible for proximity and better rates. Las Vegas offers extensive nearby hotel options; Fort Worth’s immediate vicinity around the speedway has fewer choices so reserve early. Arrival timing: Arrive at least one day early to avoid travel delays and to acclimate before the event. Transport at the venue: Purchase parking passes in advance or use official shuttle services to avoid long lines and congestion. Confirm shuttle schedules and pickup locations before departure. Day-of planning and what to bring Schedule planning: Mark must-see sets immediately when the daily schedule is released and plan movement between stages to maximize key performances. Essentials to pack: Lightweight comfortable clothing, sun protection, refillable water bottle or hydration plan, portable charger, valid ID, cash and card. Health and stamina: Hydrate regularly, pace yourself between sets, and use shaded or lower-energy zones to recover between high-intensity performances. Recording and camera policy: Check the festival’s camera and recording policy before bringing professional equipment; respect artist and venue rules. Safety, navigation, and on-site services Security and entry: Expect bag checks and security screening at entry. Arrive early to allow time for lines. Medical and emergency services: Note the location of medical tents, lost-and-found, and information booths as soon as you enter the venue. Group logistics: Set meetup points and contingency plans for lost phones, battery drain, or separation from your group. Accessibility: Accessibility services and accommodations are provided; contact the festival’s guest services in advance for specific needs. Practical tips to maximize the experience Prioritize comfort: Wear supportive shoes and dress in layers for temperature swings. Money and valuables: Protect valuables and carry both a small amount of cash and card; use hotel safes when possible. Food and hydration: Identify food vendor locations and schedule breaks to keep energy levels stable. Respect and crowd etiquette: Be mindful of those around you, follow staff instructions, and report unsafe behavior to security immediately.

Saturday, 21 October 2017

داعش اور القاعدہ کی نائن الیون طرزکے حملوں کی منصوبہ بندی

امریکہ کی سکریٹری برائے سلامتی الین ڈیوک نے کہا ہے کہ وہابی دہشت گرد تنظیمیں داعش اور القاعدہ نائن الیون طرزکے حملوں کی منصوبہ بندی کررہی ہیں ان دونوں تنظیموں کی تشکیل میں امریکہ اور سعودی عرب نے اہم کردار ادا کیا تھا اور ان دونوں دہشت گرد تنظیموں کو انھوں نے دوسرے ممالک کے لئے بنایا تھا۔ الین ڈیوک کے مطابق 11ستمبر2001 میں القاعدہ نے مسافر جہاز کو جس طرح دہشت گردی کےلئے استعمال کیا وہ ناقابل فراموش ہے اس حملے میں تقریبا 3 ہزار سے زائد افراد مارے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد گروپ اپنی شناخت برقرار رکھنے کےلئے مختلف علاقوں میں چھوٹے چھوٹے حملے کررہے ہیں یہ چھوٹے حملے کسی بھی وقت بڑے حملوں میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔امریکی وزیربرائے سلامتی کا کہناتھا کہ دہشت گرد دنیا میں دہشت کا ماحول قائم رکھنا چاہتےہیں جس کے لئے نائن الیون طرز کے حملے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

عراق میں داعش دہشت گردوں نے ایک عورت اور اس کے 2 بیٹوں کے سر کاٹ دیئے

عراق کے صوبہ نینوا اور موصل کے جنوب میں وہابی دہشت گرد تنظیم داعش نے ایک عورت اور اس کے 2 بیٹوں کے سر کاٹ دیئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہابی دہشت گردوں نے حمام العلیل علاقہ میں ایک عراقی عورت اور اس کے دو بیٹوں کو اغوا کرنے کے بعد ان کے سرکاٹ دیئے ہیں۔ عراقی عورت اسپتال میں نرس کا کام کرتی تھی۔

داعش کا یورپ میں کیمیائی ہتھیاروں سے حملوں کا خطرہ؛ انٹیلی جنس اداروں نے خبردار کر دیا

جرمن روزنامہ "دی ولٹ" نے قومی سلامتی اجلاس کے حوالے سے لکھا ہے کہ اسلامی شدت پسند ممکن ہے کہ یورپ میں زہریلی گیس کے ذریعے حملوں کی منصوبہ بندی کریں۔
روز نامہ دی ولٹ نے کہا ہے کہ ایک غیر ملکی انٹیلیجنس ایجنسی نے یورپ کی سیکورٹی حکام کو خبردار کیا ہے کہ داعش اس طرح کے حملوں کے لیے اپنے کارکنوں پر زور دے رہی ہے کہ حملے سولفیڈ ھائڈروجن یا زہریلی گیس کہ جس کے ہوا میں منتشر ہوتے ہی ہزاروں افراد ہلاک ہو سکتے ہیں، سے استفادہ کریں۔
جرمن روزنامہ کے مطابق آسٹریلوی پولس نے جولائی کے مہینے میں داعش کے ساتھ تعلق کے شبہے میں چند افراد کو گرفتار کیا تھا جنہوں نے زہریلی گیس کے ساتھ حملوں کا پرگرام بنا رکھا تھا۔
دوسری جانب یورپی کمیشن نے بھی خبردار کیا ہے کہ یورپ کے شہر اور ریاستیں ان حملوں کے مقابلے کی تیاری نہیں کی ہے۔
اس وجہ سے یورپی کمیشن نے عمومی مقامات کو دہشتگردانہ حملوں کے مقابلے کی تیاری کا جامع پرگرام بنا یا ہے جو اگلے ڈیڑھ سال بعد لاگو ہو گا۔

شیعوں کو لشکر جھنگوی نے نہیں مارا وہ محب وطن گروہ ہے، دہشتگرد ایران ہے، زید حامد

شیعیت نیوز: زید حامد نامی ذہنی مر یض جو خود کو دفاعی تجزیہ کار اور صحافی سمجھتا ہے کہ اسکی ذہنی اور علمی سطح اس قدر پست ہوگئی ہے کہ اسکے تجزیوں اور تحریروں میں کالعدم دہشتگرد تکفیری جماعتوں کی رنگ بو واضح دیکھی جاسکتی ہے۔
پاکستان میں جب کبھی شیعہ مسلمانوں پر حملہ ہوتا تو دہشتگرد جماعتوں کے سرغنہ اسے ایران پر ڈال دیتے اور ثابت کرنے کی کوشیش کرتے ایران پاکستان میں شیعوں کو قتل کروارہا ہے، اس پروپگنڈے کا ایک ہی مقصد ہوتا تھا اور وہ تھا قاتل کو مقتول بناکر پیش کرنا۔
آج نام نہاد دفاعی تجزیہ نگار جوکہ اب ذہنی مریض ہے یہی بات کہہ رہا ہے جو کوئی نئی بات نہیں بلکہ مکتب اہلیبت علیہ السلام کئی عرصہ سے یہ بکواس کالعدم دہشتگرد جماعتوں کے سرغنوں سے کئی بار سن چکے ہیں ، بس اب کی بار لبرل اور صحافت کے لبادے میں چھپے اس زید حامد کی زبان سے من و عن وہی بات سن کر حیرت زدہ نہیں، دہشتگرد جماعتوں کے سرغنوں کی زبان سے جاری بیانات اور زید حامد کے تجزیے اس بات پر دلیل رکھتے ہیں کہ زید حامد اور کالعدم دہشتگرد جماعت لشکر جھنگوی، داعش اور طالبان خوارج کے سرپرست ایک ہی ہیں اور انکا ہد ف ملت جعفریہ اور انقلاب اسلامی ہے۔
اس بھونڈے تجزیے کے بعد یہ بات خوب سمجھ آتی ہے کہ زید زمان حامد نامی دفاعی تجزیہ کار کی نظر میں لشکر جھنگوی سمیت دیگر تکفیری قوتیں جو ملک بھر میں شیعہ مسلمانوں کی تکفیر کرتی ہیں اور پھر انہیں قتل کرتی ہیں پاک صاف اور پرامن محب وطن جماعتیں ہیں، جبکہ شیعہ مسلمانوں ۲۰ ہزار اپنے شہداء گوانے کے بعد بھی ناک و پلید دہشتگرد ہیں۔
دوسری جانب زید حامد کی جانب سے شیعہ مسلمانوں کو ناک پلید اور ایڈیٹ جیسے القابات سے نوازنے پر ملت جعفریہ میں شدید غم و غصہ پایا جارہا ہے اور ملت جعفریہ نے آرمی چیف سے مطالبہ کیا ہے کہ اور را اور موساد کے ایجنٹ کےخلاف فوری کاروائی کریں ۔
واضح رہے کہ گراونڈ لیول اور رکشوں اور بسوں میں ہونے والے لیول کے تجزیے زید حامد کی جانب سے سعودی جیل سے واپس آنے کے بعد سے شروع ہوئے ہیں۔
نوٹ : زید حامد  کی نئی تحریر بہت جلد آئیگی جس میں وہ یہ لکھے گا کہ اس نے پورے ایران کو دہشتگرد نہیں کہا۔

زید حامد شیعہ دشمنی میں پاگل ہوگیا : وہابی اسماعیلی علاقہ کو شیعہ علاقہ بنادیا

شیعیت نیوز: شیعیت نیوز کی جانب سے ذہنی مریض زید حامد کو ایکپسو کیا گیا ہے اور اسکی جھوٹی اور بے بنیاد باتوں کو جب پاکستانی قوم کے سامنے آشکار کیا گیا تو یہ پاگل مزید پاگل ہوکر ایک جھوٹ کو صیح ثابت کرنے کے لئے کئی جھوٹ کے پہاڑ کھڑے کررہا ہے۔
واضح رہے کہ بدھ کے روز سیکورٹی اداروں نے بالاورستان نیشنل فرنٹ کے 12 ورکرز کو گرفتار کیا ہے جن پر سی پیک کےخلاف سازش کرنے کا الزام ہے ،بالاورستان ایک قوم پرست پاکستان مخالف جماعت ہے جس سے گلگت بلستان کے شیعہ شہری بھی خائف ہیں ، اور جس علاقہ سے یہ دہشتگرد گرفتار کیئے گئے ہیں یعنی غذرکا علاقہ جہاں 60 فیصد اسماعیلی، 35 فیصد اہلسنت اور 5 فیصد شیعہ ہونگے، اس علاقہ کو زید حامد نے شیعہ علاقہ قرار دیدیا تاکہ اپنے جھوٹے بھونڈے تجزیہ کو صیح ثابت کرسکے۔
اس جاہل کو جو خود کو دفاعی تجزیہ کار کہتا ہے پاکستان کی صیح ڈویموگرافی تک نہیں پتہ اور پاکستان کی پرامن محب وطن ملت جعفریہ کےخلاف پروپگنڈا کررہا ہے جو اسکے ذہنی مریض ہونے کی دلیل ہے۔
لہذا ہم ایک بار پھر پاکستان کے مقتدر حلقوں، آرمی چیف سے مطالبہ کرتے ہیں وہ اس پاگل انسان کو لگام دیں جو دشمن خفیہ ایجنسیوں کی ایماء پر پاکستان کی 30 فیصد پرامن محب وطن شیعہ قوم کےخلاف نفرت آمیز مہم چلاکر پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات کو بھڑکانے کی کوشیش کررہا ہے۔

زید حامد کی کذاب کی اصلیت آشکار کرنے پر لاکھوں لوگوں کا شیعیت نیوز کو خراج تحسین

شیعیت نیوز: بزرگ کیا خوب کہتے تھے کہ ایک جھوٹ چھپانے کے لئےہزاروں جھوٹ بولنا پڑتے ہیں، اور مشاء اللہ زید حامد کی جانب سے پاکستان دشمن غیر ملکی عناصر کی ایماء پر پاکستان میں فرقہ واریت پھیلانے کی سازش کو شیعیت نیوز نے جب آشکار کیا تو یہ جھوٹاتلملااُٹھا اور گھبراہٹ میں کئی من گھڑت کہانیاں بنانے لگا اور اسی بغض وعناد میں زید حامد نے شیعیت نیوز کو پاکستان دشمن تنظیم را "جسکے لئے زید حامد کام کررہا ہے" سے شیعیت نیوز کے تعلقات جوڑنے کی ناکام کوشیش بھی کی،لیکن اس جاہل کو یہ نہیں پتہ جس زمانے میں وہ زندگی گذار رہا ہے وہ انفارمیشن کا دور ہے اور انفارمیشن سیکنڈ ز میں انسان کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔
ایسے میں اس جاہل نے جوکہ خود کو" سیکورٹی ماہر " سمجھتا ہے شیعیت نیوز کی رجسٹریشن کی جھوٹی معلومات ایڈیٹ کرکے اپنے اندھے مقلدین کے لئے سوشل میڈیا پر جاری کی جس میں اس نے یہ ثابت کرنے کی کوشیش کی کہ شیعیت نیوز انڈیا"زید حامد " کے ملک میں رجسٹر ڈ ہے۔
لیکن جناب اللہ کا بھی کیا خوب نظام ہے جب وہ کسی کو ذلیل کرنا چاہتا ہے اور اسکو اپنے ہی ہاتھوں سے ذلیل کروادیتا ہے اور زید حامد کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہوا، جھوٹوں کے سردار زید حامد کا یہ جھوٹ بھی دنیا کے سامنے آشکار ہوگیا۔
حیرت کی بات ہے کہ زید حامد خود کو دفاعی تجزیہ کار سمجھتا ہے لیکن اس جاہل کو یہ تک نہیں پتا کہ .org,.comاور دیگر ڈومین امریکہ ہی میں رجسٹر ہوسکتے ہیں نہ انڈیا میں اور نہ ہی پاکستان اور نہ ہی کسی دوسرے ملک میںاورجو ڈومین جس کے نام رجسٹر ہیں اس میں ردو بدل نہیں ہو سکتا ، کسی بھی سائٹ سے کسی بھی ڈومین کے مالک کی معلومات تک رسائی ہر ایک کو حاصل ہےشیعت نیوز کے ڈومین کی ملکیت کی معلومات میں جس کمپنی کانام زبردستی جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے نہ تو وہ ڈومین رجسٹر کرتی ہے اور نہ اسکے پاس اختیارہے اور نہ ہی وہ انڈین کمپنی ہے بلکہ وہ امریکن کمپنی ہے اور نہ ہی اسکا کام ڈومین رجسٹر کرنا ہے۔

ایران کی افغانستان میں ہونے والی دہشت گردی کی شدید مزمت

افغانستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والی تازہ ترین دہشت گردانہ کارروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے غیراسلامی اور غیرانسانی فعل قرار دیا ہے۔
بہرام قاسمی نے افغان حکومت، عوام اور دہشت گردانہ حملوں سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوری ایران دہشت گردوں کے خاتمے تک افغان حکومت اور افغان عوام کے ساتھ ہے۔

Thursday, 19 October 2017

سابق سینیٹر اور جعفریہ الائنس کے سربراہ علامہ عباس کمیلی کی شاہراہ فیصل تھانے میں علامہ احمد اقبال سے ملاقات

شیعیت نیوز: شیعہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے چلائی جانے والی جیل بھرو تحریک کے دوسرے مرحلہ میںرضاکارانہ طور پر گرفتاری پیش کرنے والے علا مہ احمد اقبال سے سابق سینیٹر اور جعفریہ الائنس کے سربراہ علامہ عباس کمیلی نے شاہر اہ فیصل تھانے میں ملاقات کی اور جیل بھرو تحریک کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔
انہوںنے کہا کہ غیر قانونی طور پر شیعہ جوانوں کو لاپتہ کرنا ملکی آئین کی خلاف ورزی ہے اگر انکا کوئی جرم ہے تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے، علامہ عباس کمیلی نے علامہ احمد اقبال رضوی اور علامہ حسن ظفر نقوی کی جانب سے لاپتہ شیعہ افراد کی بازیابی کے لئے چلائی جانے والی جیل بھرو تحریک کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگرہمارے مطالبات تسلیم نا کیئے گئے تو ملت جعفریہ سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوجائینگے۔
شاہراہ فیصل تھانے میں مختلف تنظیموں اور اداروں کے وفود علامہ احمد اقبال رضوی سے ملاقات کے لئے تشریف لارہےہیں،علاوہ ازین علامہ نثار قلندری، علامہ عقیل موسیٰ سمیت آئی ایس او، بلتستان اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سمیت مختلف قومی شخصیات نے علامہ احمد اقبال سے ملاقات کی ہے، جبکہ شہاد ت امام زین العابدین علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے تھانے میں ہی مجلس عزا منعقد کی گئی جہاں دستہ امامیہ نے نوحہ خوانی بھی کی۔

جیل بھرو تحریک کے ثمرات آنا شروع :لیہ سے لاپتہ دو سگے بھائی گذشتہ رات بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے

شیعیت نیوز: لاپتہ شیعہ افراد کی بازیابی کے لئے چلائی جانے والی جیل بھرو تحریک کے ثمرات آنا شروع ہوگئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق گذشتہ پانچ ماہ سے پنجاب کے علاقہ لیہ سے تعلق رکھنے والے لاپتہ سگے بھائی نسیم عباس اور شاہین عباس گذشتہ رات اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔
واضح رہے کہ نسیم عباس کو کراچی جبکہ شاہین عباس کو لاہور سے سادہ لباس اہلکاروں  نے 2 جنوری 2017 کو اغوا کیا تھا جو گذشتہ رات اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔
ان دونوں بھائیوں کی بوڑھی ماں ہے جو اپنے بچوں کی بازیابی پر خوشی کے آنسو وں پر قابونہیں پا سکیں ، ان لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے جوانوں کی بازیابی کے لئے چلائی جانے والی تحریک کے قائدیں اور پوری ملت جعفریہ کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ پاک فو ج کے سربراہ جنر ل باجوہ کا بھی شکریہ ادا کیا کہ وہ مظلومین کی فریاد ی بنے ۔ بازیاب ہونے والے جوانوں کی بوڑھی ماں نے کہا کہ انشاٗ اللہ سارے لاپتہ جوان جلد اپنے گھروالوں کے ہمراہ ہونگے۔
دھیاں رہے کہ تمام لاپتہ شیعہ افراد کی بازیابی کے لئے جیل بھرو تحریک کراچی سے شروع ہوئی ہے جسکے پہلے مرحلے میں علامہ حسن ظفر نقوی نے ساتھیوں سمیت گرفتاری پیش کی تھی اور آج علامہ احمد اقبال رضوی  نے بھی اپنے رفقاٗ کے ہمراہ از خود گرفتار ی دی ہے اور یہ سلسلہ تمام لاپتہ افراد کی بازیابی تک جاری رہے گا۔

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی شاہراہ فیصل و بغدادی تھانے میں علامہ حسن ظفرو احمد اقبال سے ملاقات

شیعیت نیوز: جیل بھرو تحریک کے سلسلے میں رضاکارانہ طور پر گرفتاری پیش کرنے والے ،علامہ حسن ظفر نقوی اور علامہ احمد اقبال رضوی سے مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے بغدادی اور شاہر اہ فیصل تھانے میں ملاقات کی۔
اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم کراچی کا وفد بھی موجود تھا، علامہ راجہ ناصر عباس نے لاپتہ شیعہ افراد کی بازیابی کے لئے چلائی جانے والی جیل بھرو تحریک کی مکمل حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ اس جرمت مندانہ اقدام سے مطالبات یقیناً پورے ہونگے، شہادت اور اسیر ی ہماری میراث ہے۔
واضح رہے کہ لاپتہ شیعہ افراد کی بازیابی کے لئے علامہ حسن ظفر نقوی نے جیل بھرو تحریک کا آغا کیا تھا، اس سلسلے کے تیسرے مرحلے میں کل شیعہ ایکشن کمیٹی کے رہنما مولانا ناظم علی آزاد گرفتاری پیش کریں گے۔

تشیع پاکستان اور استعماری فتنے

انیسویں اور بیسوی صدی عیسوی میں برطانوی استعمار نے اپنے مقبوضہ علاقوں میں بہت سارے فتنوں کی بنیاد رکھی۔ بوڑھے استعمار نے کہیں پر سرحدوں کا مسئلہ کھڑا کیا، کہیں پر لسانیت وقومیت کو ہوا دی، اور کہیں پر دین ومذہب اورفرقوں کے نام پر بت تراشے۔
انہیں فتنوں میں سے ایک فتنہ جو اہل تشیع کے درمیان بویا گیا وہ شیخیت اور خالصیت کا فتنہ ہے. اس فتنے کو بالخصوص عراق ، لبنان اور پاکستان میں نسبتا زیادہ ہوا دی گئی. پاکستان میں جب امریکی اور روسی نفوذ کی سرد جنگ جاری تھی اور امریکہ نے اپنے ہدف کے حصول کے لئے جہاں دیگر حربے استعمال کئے ان میں سے ایک حربہ اہل سنت بالخصوص دیوبندی مکتب فکر اور جماعت اسلامی کو روس کے خلاف استعمال کرنا تھا ۔ اور جب امریکا آخر کار روس نواز وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوا ، تو پھر مذکورہ بالا قوتوں کو ضیاء الحق کے دور اقتدار میں پاکستان میں مزید پالابوسا اور طاقتور بنایا۔
70 ء کے عشرے میں جب پاکستان میں یہ سازش جاری تھی تو اسی دوران بانیان پاکستان کے فرزندوں کو غافل رکھنے اور سیاسی منظر نامے سے دور رکھنے کے لئے انہیں داخلی اختلافات میں بری طرح الجھا دیا گیا۔ برطانیہ کے لگائے ہوئے پودے شیخیت اور خالصیت کے فتنے کو بہت ہوا دی گئی اور پوری ملت تشیع فکری طور پر دو حصوں میں بٹ گئی ، جس کے نتیجے میں مساجد وامامبارگاہوں میں مکتب اہل بیت علیہم السلام کے پیروکاروں کے مابین واضح تقسیم ہو گئی۔
ایک گروہ اپنے آپ کو موحد وملتزم اور مد مقابل کو نصیری اور غالی کہنے لگا. اور اسی طرح دوسرا گروہ اپنے آپ کو موالی وخوش عقیدہ اور مد مقابل کو وہابی و مقصر کہنے لگا. طرفین نے محراب و منبر کو اس مشن کے لئے خوب استعمال کیا اور بعض اوقات تو لڑائی جھگڑے تک نوبت آ جاتی تھی. اور ہر ایک اپنے تئیں دین ومذھب اور تشیع کا دفاع کر رہا تھا۔
شیعیان پاکستان اسی طرح ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں لگے رہے اور دوسری طرف اقلیتی دیوبندی فرقہ، ملک پر قابض ہو گیا. دیوبندی حضرات کو اس وقت، امریکہ، سعودی عرب اور حکومت وقت تینوں کی سپورٹ حاصل تھی۔
اس زمانے میں اہل تشیع کے اکابرین سیاست کو شجرہ ممنوعہ سمجھ بیٹھے تھے اور بانی پاکستان کے فرزند منبر اور محراب سے یہ کہتے تھے .کہ ہمیں معاویہ کی سیاست سے کوئی سروکار نہیں، یہ شریفوں کا پیشہ نہیں، ہمیں تو فقط رونے دو، ہمیں فقط مذھبی رسوم کی ادائیگی کے لئے آزادی چاہیے، تم لو اقتدار اور سنبھالو حکومت ، ہمیں تو فقط عزاداری چاہیے ۔
شیعہ سیاستدان بھی چونکہ شیعہ ووٹ کو اپنی جیب ڈیپازٹ سمجھتے تھے اور اب انہیں فقط سنی ووٹ درکار تھا. انھوں نے بھی اپنی اپنی کرسی بچانے اور سیاسی مفادات حاصل کرنے کے لئے تشیع کے حقوق کی کبھی بات نہ کی بلکہ اگر کوئی آواز اٹھتی تو عوامی پریشر اور اپنے نفوذ سے اسے دبا دیتے اور کہتے کہ ہم تو اقلیت ہیں اور غیر موثر ہیں۔
شیعہ عوام کو یہ باور کرایا گیا تھا کہ شیعہ نام سے سیاست میں جانا بے سود ہے. چنانچہ شیعیانِ پاکستان پر ظلم ہوتا رہا، بے بنیاد الزامات لگے ، حق تلفیاں ہوئیں ، مذھبی آزادی سلب ہوئی اور عزاداری کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں حتی کہ قتل و غارت اور قانون سازیاں تک ہوئیں. یہ تشیع کے ہمدرد سیاستدان نہ تو پارلیمنٹ میں کوئی دفاع کرتے اور جب کبھی کوئی گلہ شکوہ کرتا تو جواب میں کہتے کہ میں تو اہل سنت کے ووٹ سے اسمبلی میں پہنچا ہوں لہذا میں مذہب شیعہ کا دفاع نہیں کر سکتا۔
یوں ملک کے اکثریتی طبقات اہل سنت بریلوی اور شیعہ محکوم ہوتے گئے اور دیوبندی حضرات ملک کے تمام شعبوں میں سرایت کر گئے۔
یاد رہے کہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے بانی پاکستان کی آزادی واستقلال کی تحریک کی مخالفت کی تھی اور فتوے جاری کئے تھے. اور انہیں کافر اعظم تک کہا تھا. اور یہ لوگ پاکستان کے قیام اور ہندوستان سےعلیحدگی کے مخالف تھے۔
آج ایک بار پھر جب داعش کی شام وعراق میں ناکامی کے بعد امریکہ اور سعودیہ اسے افغانستان اور پاکستان منتقل کرنے میں مصروف ہیں تو بانیان پاکستان کے فرزندوں کے خلاف ایک بین الاقوامی سازش اپنے عروج پر ہے۔
وطن عزیز پاکستان ، پاکستانی مسلح افواج و عوام اور بالخصوص تشیع پاکستان سے عراق وشام کی ناکامی کا بدلہ لینے کے لئے امریکی صدر اپنی نئی پالیسی کا اعلان کر چکا ہے. جس کے تحت تکفیری مسلح گروہ مذھبی فتنوں کی آگ کے شعلے پورے ملک میں پھیلائیں گے اور اسے عراق وشام بنائیں گے ۔
دوسری طرف تشیع کی داخلی وحدت پر کاری ضربیں لگائی جا رہی ہیں. کچھ منحرف لوگ، امریکہ و برطانیہ کی ایما پر منبر و محراب سے فتنوں کو ھوا دینے کے لئے اپنی زبانیں بیچ چکے ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ ایک طرف ملکی اداروں اور ایوانوں میں بیٹھے ملکی مفادات کے دشمن اور متعصب افراد تشیع کو ہر لحاظ سے دبانے اور دیوار سے لگانے میں شبانہ روز مصروف ہیں. اور دوسری طرف ناعاقبت اندیش ہمارے اکثر قومی لیڈر ان تحولات اور سازشوں کو سمجھنے اور درست سمت میں قوم کی راھنمائی کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں ۔
ایسی صورتحال میں بشارت وولایت کے نام پر تشیع میں تقسیم ، اہل تشیع کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے. فقط بعض منحرف یا مخصوص عقائد ونظریات کے حامل افراد کی بنا پر عمومی حکم لگانا اور ایک صنف کو دوسری صنف کے مد مقابل لانا ، بلکہ ایک ہی صنف کے افراد کے مابین نفرتوں کی دیواریں کھڑی کرنا ، تشیع پر ہونے والے بیرونی حملوں سے کہیں زیادہ خطرناک ہے. حالات بتا رہے ہیں کہ اس وقت تشیع کا من حیث القوم وجود اور شیعوں کی عزت وناموس خطرے میں ہے۔
ہمیں کب احساس ہوگا کہ ہمارا وطن عزیز پاکستان اور شیعیان پاکستان ، اندرونی وبیرونی دشمنوں میں گھرے ہوئے ہیں. اس وقت باہمی وحدت واخوت اور مشترکہ دشمنوں کےخلاف متحد ہوئے بغیر ان مسائل سے نکلنا مشکل ہے۔
ہمیں مشکلات اور مسائل کے حل کے لئے متبادل راستے تلاش کرنے کی ضرورت ہے. ہمیں حکمت وبصیرت سے مسائل سلجھانے کی کوشش کرنی چاہیئے، ہرزی شعور سمجھ سکتا ہے ، کہ اس خالصیت وشیخیت یا ہدایت واصلاح کی موجودہ روش سے ناقابل تلافی نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔
امریکہ، سعودیہ، اسرائیل اور انکے اتحادیوں کی عراق وشام میں ذلت آمیز شکست وپسپائی در اصل ہماری رہبریت ومرجعیت اور مقاومت کی وجہ سے ہوئی ہے. اور آج انتقامی سازش کے تحت تشیع کے مابین اختلافات اور فتنوں کو ابھار کر ہمارے ایک بہت بڑے اور موثر طبقے کو رہبریت ومرجعیت اور مقاومت سے کاٹ کر الگ کیا جا رہا ہے۔ اور بہت سارے مخلص افراد لاشعوری طور پر دشمن کے معاون ومدد گار بن رہے ہیں۔
افسوس کی بات تو یہ ہے کہ منبرِ اہل بیتؑ پر آنے والے بعض افراد یہ تک بھول جاتے ہیں کہ آج اگر اھل بیت علیہم السلام کے مزارات اور حرمِ سیدہ ؑ کو دشمنان خدا منہدم نہیں کرسکے تو اس کا سبب یہی رہبریت ومرجعیت اور مقاومت ومدافعینِ حرم کا میدان میں موجود ہونا ہے۔ یہ اللہ تعالی کی عطا کردہ مرجعیت کی بصیرت، اجتھاد کا ثمر اور علمائے کرام کی قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ دشمن زلیل اور ناکام ہوا ہے۔
وگرنہ کون نہیں جانتا کہ بقیع کی طرح ایک بار پھر وھابیت اور آل سعود کربلا ونجف ، کاظمین و سامراء اور شام میں حرم مطہر حضرت زینب وحضرت رقیہ بنت حسین علیہما السلام اور دیگر سب مزارات کو شہید اور خراب کر نے کے درپے تھے۔
اس وقت منبر پر آنے والے افراد کی اوّلین زمہ داری بنتی ہے کہ وہ دشمن کے مقابلے کے لئے مرجعیت و اجتہاد کے مورچے کو مضبوط کریں اسی طرح مرجعیت و اجتھاد کے علمبرداروں کو بھی چاہیے کہ وہ کوئی ایسا کام نہ کریں جو ملت میں تقسیم اور تفرقے کا باعث بنے۔
ہمارا دشمن انتہائی تجربہ کار، مکار اور خبث باطن میں سر فہرست ہے لہذا ہم سب کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جو بھی ہمیں تقسیم کرنے کی کوشش کرے وہ در اصل شعوری یا لاشعوری طور پر دشمن کا آلہ کار ہے۔
تحریر: ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی

شام کا دفاعی میزائل سسٹم اسرائیلی جنگی طیاروں کے شکار کے لئے آمادہ

شام نے اسرائیل کے جنگي طیاروں کی طرف مسلسل فضائی خلاف ورزیوں کے پیش نظر اپنے دفاعی میزائل سسٹم کو اسرائیلی جنگي طیاروں کے شکار کے لئے آمادہ کرلیا ہے۔شام کے دفاعی میزائل سسٹم نے اسرائيل کے ایک جنگی طیارے کو نشانہ بنایا جس نے لبنان کی سرحد سے شام کی فضائي حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ شامی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے 16 اکتوبر کو حسب معمول شام کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا لیکن شام کے دفاعی میزائل سسٹم نے اسرائيل کے ایک جنگي طیارے کو نشانہ بنایا جبکہ باقی طیارے فرار ہونے پر مجبور ہوگئے۔ شامی فوج کے مطابق شام کا نیا میزائل سسٹم اسرائيلی طیاروں کو شکار کرنے کے لئے آمادہ ہے۔

!!وطن سے محبت شیعہ عقیدہ ھے آپ اس کا ادراک نہیں کر سکتے زید حامد صاحب

شیعیت نیوز: زید حامد صاحب ذراء یہ بتائیں ، آج سے پہلے جب آپ پاکستان کی بقاء کی بات کرتے تھے اور پاکستان دشمن قوتوں کی نشاندہی کرتے تھے تو کبھی شیعہ قوم نے آپ کے خلاف بات کی ؟ ملتِ مظلوم شیعان علی (ع) ہمیشہ حق کا ساتھ دیتی آئی ہے اور جب بھی آپ سمیت کسی بھی فرد نے پاکستان کی بقاء کی بات کی تو اس قوم نے اس کی بات کو سنا مگر جب سے آپ سعودی جیل سے برین واش ہو کر واپس آئے ہیں اور پاکستان کے محب وطن شیعہ قوم کے خلا ف زہر اُگلنا شروع کردیا تو ہم نے بھی ضروری سمجھا کہ حقائق کو سامنے لایا جائے ۔۔ شیعیت نیوز کا اپنے قیام سے ہی یہی مقصد رہا ہے کہ اسلام امریکی کہ مقابلے میں اسلام محمدی (ص) کا دفاع کرنا ، مکتب اہلییت (ع) کہ خلاف سازشوں اور جھوٹے پروپیگنڈے کو ناکام بنانا اور وطن عزیز پاکستان کہ خلاف سازشوں کو اشکار کرنا اور اسکا مقابلہ کرنا ۔۔۔۔
زید حامد صاحب !! اپنے نام کے ساتھ سید لگانے سے آپ شیعہ قوم کی ہمدری نہیں لے سکتے ۔ آپ یہ بتائیں کہ پاکستان میں بسنے والی شیعہ قوم نے کب پاکستان کیخلاف بات کی ؟ کب کسی شیعہ عالم دین نے پاکستان کی بقاء کے خلاف کوئی لفظ بھی ادا کیا ھوا؟؟؟
زید حامد صاحب !کیا آپ کو نہیں معلوم کہ شیعہ قوم نے پاکستان کے قیام سے ابتک اس ملک میں ۲۰ ہزار سے زائد لاشے اُٹھائے۔ ۲۰۱۳ میں کوئٹہ شہر۱۰۰ سے زائد شہداء کہ جنازے اُٹھانے کہ باوجودکبھی پاکستان کی سالمیت کہ خلاف آواز اٹھانا تو درکنار سوچنا بھی گوارا نہیں کیا ۔ کیا آپ نے پاکستان کہ جیّد شیعہ علماء کرام علامہ شیخ محسن نجفی، علامہ ساجدعلی نقوی ، علامہ ریاض حسین نجفی، علامہ راجہ ناصر عباس ، علامہ حسن ظفر نقوی ، علامہ امین شہیدی اور دیگر علماء کرام کو کبھی پاکستان کی سالمیت کہ خلاف بات کرتے ھوئے سنا ھے ؟؟؟آپ کو تو یہ بھی نہیں معلوم کہ سپاہ محمد کیوں وجود میں آئی ۔ جہاں تک ہم جانتے ہیں سپاہ محمد کا وجود بے گناہ شیعہ جوانوں کے قتل عام کے خلاف تھا مگر انہوں نے کبھی بھی پاکستان کی سالمیت پر کوئی حملہ نہیں کیا ۔ زید حامد صاحب ، کیا آپ نہیں جانتےکہ تحریک طالبان، انصار الشریعہ ، سپاہ صحابہ ، لشکر جھنگوی ، انصار الامہ ، جند اللہ اور دیگر دہشت گرد گروہ جو وطن عزیز پاکستان کے شہریوں اور ریاستی اداروں کے خلاف منظم کاروائیاں کرتے ہیں ان کا تعلق مکتب اھلبیت ( شیعہ ) سے نہین بلکہ دیو بند مسلک سے ھے ۔۔کیا آپ نہیں جانتے کہ یہ دہشت گرد گروہ پاکستان کی سالمیت کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں ۔ زید حامد صاحب آپ نے جو یہ پاراچنار کے شیعہ مومنین کو غداری کا سرٹیفیکٹ دینے کی ناکام کوشش کی ہےتو ذرا یہ جان لیں کہ گزشتہ ۱۰ ماہ میں پاراچنار کہ مومنین نے ۴۰۰ سے زائد اپنے پیاروں کو وطن عزیز پہ قربان کیا ھے اور جمعۃ الوادع کو ہونے والے دھماکہ میں شہادتوں کہ بعدپر امن دھرنا دیا اور مطالبہ کیا کہ ایف سی میں موجود کالی بھیڑوں کا صفایا کیا جائے ۔ اُس وقت بھی آپ نے ان غیور جوانوں کے خلاف ملک دشمن قوتوں کے ایماء پر زہر اُگلا تھا مگر آپ کی وہ سازش بھی ناکام ہو گئی تھی جب پاکستان کہ غیور سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاراچنار کا دورہ کر کے مظلوم شیعہ قوم کے مطالبات تسلیم کئے ۔ جناب یہ بات بھی ذہن نشین کر لیں کہ پاکستان کی مغربی سرحد پر خار دار باڑ لگانے کا سب سے پہلا مطالبہ بھی پاراچنار کے غیور شیعہ جوانوں نے کیا تھا ۔ زید حامد صاحب خدارا ہو ش کے ناخن لیں اور ملت جعفریہ پاکستان کے خلاف زہر اُگلنا بند کرو ورنہ ھم تو وہ قوم ھے جس نے ۱۴۰۰ سے یزید اور اسکی نسل کا تعاقب نہیں چھوڑا ۔۔۔ رھی بات مادر وطن پاکستان کی حفاظت و محبت کی تو یہ بات ذھن نشین کرلوُ " وطن سے محبت و اسکی حفاظت مکتب تشیع ( شیعہ مسلمانوں ) کہ عقیدہ ہے۔ اس کہ لیے ھمیں تم جیسے " امریکی و را کہ ایجنٹ " سے کسی سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ۔۔۔ جس وقت تم ھمارے بزرگان کہ خلاف کانگریس سے مل کر مہم چلا رھے تھے اور قائد اعظم کو کافر اعظم قرار دے رھے تھے اس وقت ھم قیام پاکستان کہ لیے اپنی جانوں کا نذرانہ دے رھے تھے اور اجُ اس کہ قیام کہ ۷۰ سالوں بعد بھی اپنے لہو سے پاک وطن کی آبیاری کررھے ھیں

طالبان نے دہشتگرد عمر منصور کی ہلاکت کی تصدیق کردی

شیعیت نیوز: کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) اور چارسدہ یونیورسٹی پر حملوں کے ماسٹر مائنڈ اور ٹی ٹی پی کے گیڈر گروپ (گیدار گروپ) کے آپریشنل سربراہ عمر منصور عرف خلیفہ منصور عرف عمر نارے کی ہلاکت کی تصدیق کردی۔ بدھ کے روز ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی نے میڈیا کو بھیجی گئی ایک ای میل میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان درہ آدم خیل اور پشاور کے سابق امیر خلیفہ عمر منصور کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی جگہ خلیفہ عثمان منصور کو نیا امیر مقرر کردیا گیا ہے۔پشاور آرمی پبلک اسکول حملے میں شہید ہونے والے بچے کے والد طفیل خان خٹک نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس ہولناک حملے کے ماسٹر مائنڈ کی ہلاکت پر پوری دنیا خوش ہوگی۔
گزشتہ برس بھی منصور کی ہلاکت کی رپورٹس منظر عام پر آئی تھیں تاہم نہ ہی حکام اور نہ شدت پسندوں نے اس کی تصدیق کی تھی۔ ٹی ٹی پی نے اپنے حالیہ بیان میں عمر منصور کی ہلاکت کی وجہ اور اس کے مقام کی تفصیلات نہیں بتائیں۔تاہم ٹی ٹی پی کی جانب سے خلیفہ منصور عرف عمر نارے کی ہلاکت کی تصدیق ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب گذشتہ روز سیکورٹی اداروں نے کہا تھا کہ حال ہی میں پاک-افغان سرحد پر ہونے والے ڈرون حملوں میں جماعت الحرار کے امیر عمر خالد خراسانی کے شدید زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

جیل بھرو تحریک تیسرا مرحلہ: مولانا ناظم مسجد دربار حسینی ملیر سے گرفتاری دیں گے

شیعیت نیوز: شیعہ مسنگ پرسنز ریلیز کمیٹی کی جانب سے کل بروز جمعہ 20اکتوبر 2017ء کو مسجد دربار حسینی ملیر سے بعد از نماز جمعہ احتجاً شیعہ ایکشن کمیٹی کے رہنما مولانا ناظم اپنی گرفتاری پیش کریں گے۔
واضح رہے کہ لاپتہ شیعہ افراد کی بازیابی کے لئے علامہ حسن ظفر نقوی نے جیل بھرو تحریک کا آغا کیا تھا، اس سلسلے کے تیسرے مرحلے میں کل شیعہ ایکشن کمیٹی کے رہنما مولانا ناظم علی آزاد گرفتاری پیش کریں گے۔

علامہ حسن ظفر نقوی نے لاپتہ شیعہ عزاداروں کی بازیابی تک بھوک ہڑتال کا اعلان کردیا

شیعیت نیوز:بغدادی تھانے میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے علامہ حسن ظفر نقوی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات کی سخت مذمت کرتے ہیں، جن میں کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے افراد، پولیس کے جوان، اور کرم ایجنسی میں فوج کے جوان شہید ہوئے ۔علامہ حسن ظفر نقوی کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئ ماہ سے ہم نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے ہر سطح پر آواز اٹھائ اور پھر 6 اکتوبر سے از خود گرفتاری پیش کرنے کی تحریک کا آغاز بھی کیا ، لیکن آج دو ہفتے گزرنے کے باوجود حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی ۔ کیونکہ ان لاپتہ افراد میں کسی کا باپ نواز شریف نہیں ہے، کسی کا بیٹا حسن نواز اور حسین نواز نہیں ہے، کسی کی بیٹی مریم نواز نہیں ہے، کسی کا داماد کیپٹن صفدر نہیں اور کسی کا سمدھی اسحاق ڈار نہیں کہ جن کے لئے ساری حکومت اور حکومتی مشنری مدد کرنے کے لئے میدان میں اتری ہوئی ہے ۔ انھیں بچانے کے لیے پرانے قوانین بدلے جا رہے ہیں اور نئے قوانین بنائے جا رہے ہیں اور آئین کی دھجیاں اڑائ جا رہی ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ لاپتہ افراد تو وہ غریب اور عام پاکستانی ہیں جن کی فریاد سننے کا وقت کسی کے پاس نہیں ہے۔ ان لاپتہ افراد کے بوڑھے ماں باپ، اور بیوی بچے در در مارے مارے پھر رہے ہیں مگر حکمرانوں کے کانوں میں سیسہ پڑا ہوا ہے، انھیں سوائے اپنے مفادات کے تحفظ کے کوئ آواز سنائ نہیں دیتی ۔ہم نے پر امن جدوجہد کے ذریعے پیغام دیا اور دے رہے ہیں کہ ہم صرف اپنا آئینی اور قانونی حق مانگ رہے ہیں، مگر وہ حق ہمیں نہیں دیا جا رہا ۔
یہ گرفتاریوں کی تحریک تمام شیعہ تنظیموں کے فیصلوں کے ساتھ آگے بڑھتی رہے گی ۔ مگر میں اس موقع پر اعلان کر رہا ہوں کہ میں نے گزشتہ روز سے بھوک ہڑتال شروع کر دی ھے ۔اور یہ بھوک ہڑتال نتائج کے حصول تک جاری رہے گی چاہے میری جان ہی چلی جائے ۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نہیں کہتے کہ اگر ان جوانوں پر کوئی کیس ہے تو انہیں آزاد کردو بلکہ ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمیں ائین و قانون کے مطابق انصاف دو،ہمیں بتاو کہ وہ لاپتہ افراد زندہ ہیں یا نہیں، اگر وہ قانون شکنی میں ملوث رہے ہیں تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائےمگر ملک کے افراد کو لاپتہ کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔
علامہ حسن ظفر نقوی کا کہنا تھا کہ میرے پاس لاپتہ افراد کے مظلوم وارثوں سے یک جہتی کا جو بھی راستہ ہے اختیار کروں گا ۔ انتہائ افسوس کے ساتھ اس بھوک ہڑتال کا اعلان کر رہا ہوں کہ " یہ کیسا نظام ھے کہ جہاں اپنے بنیادی انسانی حق کے حصول کے لئے بھی اپنی جان پر کھیلنا پڑتا ھے ۔"
مجھے معلوم ہے کہ میری بھوک ہڑتال سے بھی حکمرانوں بے حسی اور ڈھٹائ پر کوئی اثر پڑنے والا نہیں ھے، مگر کم از کم جہاں جہاں ابھی ضمیر انسانی زندہ ہے وہاں ضرور میری آواز پہنچے گی۔

فلسطین میں ذرائع ابلاغ کے دفاتر پر صیہونی فوجیوں کے حملوں کی مذمت

اسلامی ریڈیو اور ٹیلی ویژن چینلوں کی یونین نے بدھ کو اپنے ایک بیان میں فلسطینی سیٹلائٹ ٹی وی چینلوں کے دفاتر پر اسرائیلی فوجیوں کےحملوں اور ان کے کارکنوں کوگرفتار کئے جانے کی مذمت کی ہے۔
مذکورہ یونین نے غرب اردن کے شہروں الخلیل، رام اللہ، نابلس اور بیت لحم میں ٹرانس میڈیا، پال میڈیا اور رامسات جیسی میڈیاسروس کی کمپنیوں اور کئی بین الاقوامی سیٹلائٹ ٹی وی چینلوں منجملہ فلسطین الیوم، القدس، الاقصی اور المنار ٹی وی کے دفاتر پر حملے اور انہیں بند کئے جانے کو فلسطینی ذرائع ابلاغ کے خلاف اسرائیل کی کھلی جنگ قراردیا۔
اسلامی ریڈیو اور ٹی وی چینلوں کی یونین کےبیان میں کہا گیا ہے کہ صیہونی فوجیوں کے حملوں فلسطین الیوم، القدس، الاقصی اور المنار ٹی وی چینلوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو اس یونین کے ممبر ہیں۔
بیان میں اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ صیہونی حکومت ہر اس قومی اور آزادی پسندی کی آواز کو دبانے کی کوشش کررہی ہے جو غاصب اسرائیل کے ماہیت اور حقیقت کو آشکارہ کرتی ہے، کہا گیا ہے کہ صیہونی حکومت اس سے پہلے بھی اسی طرح کے اقدامات کا ارتکاب کرچکی ہے لیکن وہ فلسطینی ذرائع ابلاغ کی آواز کو دبانے میں ناکام رہی ہے۔
فلسطین میں اسلامی ریڈیو اور ٹیلی ویژن چینلوں کی یونین نے صیہونی حکومت کے اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین اور معاہدے کے منافی بتایا اور عالمی اداروں سے کہا ہے کہ صیہونی حکومت پر دباؤ ڈالے تاکہ میڈیا کےخلاف وہ اپنے اقدامات کو بند کرے۔
دوسری جانب فلسطینی گروہوں نے بھی الگ بیانات جاری کرکے فلسطین کے ٹی وی چینلوں اور میڈیا کے دفاتر کو بند کرنے کے صیہونی فوجیوں کے اقدام کی مذمت کی ہے۔
فلسطین کی تحریک جہاد اسلامی نے بدھ کو ایک بیان جاری کرکے کہا ہے کہ فلسطین کے سیٹلائٹ ٹی وی چینلوں اور میڈیا کے دفاتر پر صیہونی فوجیوں کے حملے فلسسطینی بچوں خواتین اور بوڑھوں کے خلاف غاصب صیہونیوں کے حملوں کے جرائم کو افشا کرنے میں فلسطینی میڈیا کی طاقت کے مقابلے میں اسرائیلی حکومت کی بے بسی کی علامت ہے۔
عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین اور فتح الانتفاضہ جیسی تنظیموں نے بھی صیہونی فوجیوں کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی ذرائع ابلاغ تمام تر مشکلات اور چینلجوں کے باوجود اپنا مشن جاری رکھیں گے۔

آیت اللہ خامنہ ای اور ایرانی حکومت کے شکرگزار ہیں بشار اسد

شامی صدر بشار الاسد نے شام میں دہشت گردوں کے خاتمے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایرانی حکومت اور خاص کر امام خامنہ ای کا شکریہ ادا کیا۔
جنرل باقری نے دہشتگردی کے خلاف شامی مسلح افواج کی حالیہ فتوحات پرمبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ شام میں مکمل دہشت گردوں کے خاتمے تک شامی حکومت کی حمایت جاری رہے گی۔
اس موقع پر شامی صدر بشار الاسد نے دہشتگردوں کے خلاف شام کی بھرپور حمایت کرنے پر قائد اسلامی انقلاب حضرت آیت اللہ خامنہ ای، ایرانی قوم اور حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ شامی فوج ملک بھر سے دہشت گردوں کا صفایا کرکے ہی دم لے گی۔
خیال رہے کہ ایرانی مسلح افواج کے سربراہ بروز منگل شام کے دورے پر دمشق پہنچے تھے اور انہوں نے شامی ہم منصب اور وزیر دفاع کے ساتھ بھی اہم ملاقاتیں کیں۔

حزب اللہ لبنان کے سربراہ سے آئی آر آئی بی کے سربراہ کی ملاقات

ایران کے سرکاری ریڈیواور ٹی وی کے ادارے آئی آر آئی بی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالعلی علی عسکری نے بیروت میں حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ سے ملاقات میں شام، عراق اور لبنان میں دہشتگردوں کے خلاف جنگ کی صورت حال کا جائزہ لیا اور استقامتی محاذ کی حالیہ کامیابیوں کے بارے میں صلاح و مشورے کئے- آئی آر آئی بی اور حزب اللہ کے سربراہوں نے اس ملاقات میں استقامتی محاذ کے ذرائع ابلاغ کے کردار کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ میدان جنگ میں مجاہدین کے ساتھ ہی استقامتی محاذ کے ذرائع ابلاغ کی موجودگی نے حالیہ کامیابیوں میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے- آئی آر آئی بی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالعلی علی عسکری، شام کا دورہ اور شامی حکام سے ملاقات کے بعد پیر کو بیروت پہنچے تھے- ڈاکٹرعلی عسکری نے بیروت میں اسلامی ریڈیو ٹی وی یونین کے بعض عہدیداروں سے ملاقات میں کہا کہ دنیا کے مختلف علاقوں میں ایران کے اسلامی انقلاب کی وفادار انقلابی طاقتوں کی کوششوں سے استقامی محاذ اور استقامتی محاذ کے ذرائع ابلاغ روز بروز پیشرفت کی جانب گامزن ہیں- انھوں نے کہا کہ امریکہ سمیت تسلط پسند نظام، ہمیشہ ایران کے اسلامی انقلاب کو ختم کرنے کے درپے رہا ہے تاہم اس کی کوششیں ہمیشہ ناکامی پر منتج ہوئی ہیں- آئی آر آئی بی کے سربراہ نے کہا کہ اللہ تعالی کے لطف و کرم ، حزب اللہ لبنان کے سربراہ اور استقامتی طاقتوں اور مجاہدین کی کوششوں سے صیہونی حکومت کی سازشیں ناکام رہی ہیں - انھوں نے اس محاذ کی پیشرفت میں استقامتی محاذ کے کردار کو ناقابل انکار قرار دیا اور کہا کہ ایران کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کا ادارہ استقامتی محاذ کے ایک چھوٹے سے رکن کی حیثیت سے ہمیشہ استقامتی محاذ کے ذرائع ابلاغ کے ساتھ کھڑا رہے گا- ڈاکٹر علی عسکری نے غرب اردن میں آٹھ نشریاتی اداروں کو بند کئے جانے کے صیہونی حکومت کے اقدام کی مذمت کی اور کہا کہ اس اقدام سے پتہ چلتا ہے کہ صیہونی حکومت کو استقامتی محاذ کے اثرات سے سخت تشویش لاحق ہے- ایران کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ادارے آئی آر آئی بی کے سربراہ نے صیہونی حکومت کے اقدامات کے سلسلے میں اس کے حامیوں خاص طور سے امریکہ کی خاموشی کو آزادی بیان کے بارے میں ان کے دعؤوں کے جھوٹے ہونے کی علامت قرار دیا اور کہا کہ امریکہ اور صیہونی اتحاد، استقامت و پائداری کی ثقافت کو ترویج دینے والے ذرائع ابلاغ کے خلاف ہیں - آئی آر آئی بی کے سربراہ نے بیروت میں لبنان کے صدر میشل عون اور لبنانی پارلیمنٹ کے انفارمیشن کمیشن کے سربراہ حسن فضل اللہ سے ملاقات کی اور لبنان کے المنار ٹی وی کے ہیڈآفس کا بھی دورہ کیا - ایران کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ادارے کے سربراہ ڈاکٹر علی عسکری کے اس دورے کے موقع پر آئی آرآئی بی اور حزب اللہ لبنان کے درمیان صحافتی اور ثقافتی تعاون کے معاہدے پر بھی دستخط ہوئے ہیں-