Wednesday, 18 October 2017

عراق کی سالمیت اور اتحاد کے تحفظ پر عراقی وزیراعظم کی تاکید

عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے کہا ہے کہ کردستان میں ریفرنڈم کے نتائج کو کالعدم قراردیا جانا چاہئے اور عراقی آئین کے مطابق پورے عراق پر مرکزی حکومت کی عملداری باقی رہنی چاہئے۔
عراقی وزیراعظم نے کہا کہ یہی عراقی حکومت کا موقف ہے اور بغداد اس موقف ذرہ برابر بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔انہوں نے عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر الجبوری کی قیادت والے سیاسی اتحاد کے ایک وفد سے ملاقات میں کہا کہ کردستان میں ہوئے ریفرنڈم کے نتائج کو کالعدم قراردئے جانے، عراقی حکومت کی حاکمیت اور عملداری نیز ملک کے اتحاد اور وفاق کی حفاظت کے بارے میں جو ضروری فیصلے کئےگئے ہیں ان پر سختی کے ساتھ عمل کیا جائےگا۔
عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر کی قیادت والے سیاسی اتحاد کے وفد نے بھی عراقی حکومت کی تدابیر، فیصلوں اور وزیراعظم کے موقف کی حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ یہی ان کے سیاسی اتحاد کا بھی موقف ہے۔
اس ملاقات میں عراقی وزیراعظم اور الائنس فورس نامی سیاسی اتحاد نے کردستان کے علاقے اور اسی طرح متنازعہ علاقوں پر عراق کی مرکزی حکومت کی عملداری نیز ملک کی سیاسی اور سیکورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔
عراقی وزیراعظم پہلے ہی اعلان کرچکےہیں کہ وہ اربیل کی مقامی انتظامیہ کے ساتھ اس وقت تک بات چیت نہیں کریں گے جب تک مسعود بارزانی کی مقامی انتظامیہ ریفرنڈم کے نتائج کو کالعدم قرار نہیں دے دیتی۔
دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ کرکوک سے کرد ملیشیا پیشمرگہ کے واپس نہ جانے کے اعلان کے بعد عراقی حکومت کے پندرہ فوجی ہیلی کاپٹر کرکوک شہر میں اترے ہیں۔
عراقی کردستان کی فورس پیشمرگہ کے ایک کمانڈر سیروان بارزانی نے ہفتے کو کہا تھا کہ پیشمرگہ ملیشیا پوری طرح الرٹ ہے اور وہ کرکوک سے پسپائی اختیار نہیں کرے گی۔
اطلاعات ہیں کہ کرد ملیشیا نے عراق کی مرکزی حکومت کے اس انتباہ کے بعد بھی کہ تیل کے کنوؤں سے کرد ملیشیا دور چلی جائے کرکوک میں اپنی میزائلی توانائی کو مزید تقویت پہنچائی ہے۔
عراقی حکومت نے کرکوک میں اپنے ہیلی کاپٹروں کے اترنے کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان نہیں دیا ہے۔
عراقی فوج گذشتہ جمعے کو عراقی کردستان کی سرحدوں سے باہر کے علاقوں میں جو پیشمرگہ کے کنٹرول میں ہیں تعینات ہونے کے لئے جنوبی کرکوک کے بعض علاقوں میں داخل ہوئی تھی اور وہاں سے کردستان کی مقامی انتظامیہ کا پرچم اتار کر عراق کا قومی پرچم لہرا دیا تھا۔
کرکوک شہر عراق کی مرکزی حکومت اور کردستان کی مقامی انتظامیہ کے درمیان اہم ترین متنازعہ علاقہ تصور کیا جاتاہے جو بغداد حکومت کی براہ راست عملداری میں آتا ہے۔
کچھ عرصے قبل کردستان کی مقامی انتظامیہ کے سربراہ مسعود بارزانی نے بے بنیاد بہانوں کے ذریعے پیشمرگہ فورس کو صوبہ کرکوک میں تعینات کردیا تھا۔

عراقی فوج کا کرکوک کے وسیع علاقہ پر کنٹرول

عراقی فوج نے عراق کے صوبہ کرکوک کے وسیع علاقہ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اس صوبہ میں عراقی فوج کی پیشقدمی جاری ہے۔ عراقی فوج کی سیکڑوں بکتر بند گاڑیاں اور ہزاروں فوجی کرکوک میں تعینات ہو گئے ہیں۔ عراقی فوج کرد پیشمرگہ کے زیر انتظام ہوائی اڈے کا انتظام سنبھالنا چاہتی ہے ۔ عراقی فوج کے مطابق اس نے بغیر کسی جھڑپ کے کرکوک کے وسیع علاقہ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ عراقی ٹی وی نے عراقی فورسز اور کرد پیشمرگہ کے درمیان لڑائی کی خبروں کی تردید کی ہے۔ عراق کے وزیر اعظم نے عراقی فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ کرکوک کے تمام شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کرے۔اس سے قبل عراقی حکومت نے کہا تھا کہ علیحدگي پسند کرد تنظیم پ ک ک کی کرکوک میں موجودگی جنگ کا اعلان تصور کی جائے گی۔

سنجارشہرپرعراقی فوج کا کنٹرول

عراقی فورسز نے عراق کے صوبہ نینوا کے مغربی علاقےمیں واقع سنجار شہر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
عراقی فوج نے سنجار کا کنٹرول سنھبالنے کے بعد شہر پر عراقی پرچم نصب کردیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق الدبس شہرکاکنٹرول بھی عراقی فوج نے سنبھال لیا ہے۔

ایرانی حکام کو امریکہ کی منہ زوری کا مضبوط اور مستحکم جواب دینا چاہیے

اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ آیت اللہ موحدی کرمانی کی امامت میںم نعقد ہوئی جس میں لاکھوں مؤمنین نے شرکت کی ۔خطیب جمعہ نے نماز جمعہ کے خطبوں میں ایران اورعالمی مسائل کے بارے میں امریکہ کی منہ زوری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی حکام کو امریکہ کی منہ زوری کا مضبوط اور مستحکم جواب دینا چاہیے ۔ خطیب جمعہ نے کہا کہ عداوت اور دشمنی مخفی اور آشکار دو طرح کی ہوسکتی ہے اور آشکارا دشمنی سے مخفی دشمنی اور عداوت کا خطرہ کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ خطیب جمعہ نے کہا کہ ایرانی حکام کو مخفی عداوتوں کے بارے میں بھی ہوشیار رہنا چاہیے۔ خطیب جمعہ نے حضرت امام حسین علیہ السلام کے قیام کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا مظہر قراردیتے ہوئے کہا کہ بشری اور انسانی سعادت اور معاشرے کی اصلاح و فلاح و بہبود کے لئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بہت ضروری ہے۔

ٹرمپ کے بیان پر حسن روحانی کا سخت ردعمل

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے گزشتہ رات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی توہین آمیز تقریر اور ایران مخالف بے بنیاد الزامات کے جواب میں قومی ٹیلی ویژن سے براہ راست خطاب میں ایران کے خلاف ہرزہ سرائی کا ٹھوس، منطقی اور مدبرانہ جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کو تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہیے کیونکہ امریکہ کی تاریخ سنگین، ہولناک اور وحشیانہ جرائم سے پر ہے اور ایرانی قوم نے اب کسی بھی طاقت کے خلاف سر تسلیم خم نہیں کیااور نہ ہی سر تسلم خم کرے گی۔
ایران کے صدر نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ ہرزہ سرائیوں سے واضح ہو گیا کہ انتخابی مہم کے دوران جو سوچ ٹرمپ کی تھی اس سے کہیں زیادہ جوہری معاہدہ مضبوط ہے کہا کہ ایرانی قوم اور جوہری معاہدے کے خلاف سازشوں میں امریکہ ماضی سے زیادہ تنہائی کا شکار ہوا ہے۔
صدر مملکت روحانی نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے خلاف ہرزہ سرائیوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، ایران کا عظیم اور طاقتور ادارہ ہے جس کا مقصد ملکی دفاع کو یقینی بنانے کے علاوہ خطے کے مظلوم اقوام کے برابر کھڑا ہونا اور دہشتگردی کے خلاف جدوجہد کرنا ہے۔
صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں دہشتگردی کے خلاف جدوجہد کر رہا ہے،ان دہشتگردوں کے خلاف جن کے بارے میں ٹرمپ نے اپنے انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ داعش کو وجود میں لانے میں امریکی حکومت کا ہاتھ ہے۔
واضح رہے کہ کل رات امریکی صدر نے ایران کے خلاف پالیسی بیان میں ایران پر ایک بار پھر من گھڑت الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ جوہری معاہدہ امریکی تاریخ کا بد ترین معاہدہ تھا جسے اب ختم ہونا چاہئیے۔