Saturday, 21 October 2017

داعش اور القاعدہ کی نائن الیون طرزکے حملوں کی منصوبہ بندی

امریکہ کی سکریٹری برائے سلامتی الین ڈیوک نے کہا ہے کہ وہابی دہشت گرد تنظیمیں داعش اور القاعدہ نائن الیون طرزکے حملوں کی منصوبہ بندی کررہی ہیں ان دونوں تنظیموں کی تشکیل میں امریکہ اور سعودی عرب نے اہم کردار ادا کیا تھا اور ان دونوں دہشت گرد تنظیموں کو انھوں نے دوسرے ممالک کے لئے بنایا تھا۔ الین ڈیوک کے مطابق 11ستمبر2001 میں القاعدہ نے مسافر جہاز کو جس طرح دہشت گردی کےلئے استعمال کیا وہ ناقابل فراموش ہے اس حملے میں تقریبا 3 ہزار سے زائد افراد مارے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد گروپ اپنی شناخت برقرار رکھنے کےلئے مختلف علاقوں میں چھوٹے چھوٹے حملے کررہے ہیں یہ چھوٹے حملے کسی بھی وقت بڑے حملوں میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔امریکی وزیربرائے سلامتی کا کہناتھا کہ دہشت گرد دنیا میں دہشت کا ماحول قائم رکھنا چاہتےہیں جس کے لئے نائن الیون طرز کے حملے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

عراق میں داعش دہشت گردوں نے ایک عورت اور اس کے 2 بیٹوں کے سر کاٹ دیئے

عراق کے صوبہ نینوا اور موصل کے جنوب میں وہابی دہشت گرد تنظیم داعش نے ایک عورت اور اس کے 2 بیٹوں کے سر کاٹ دیئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہابی دہشت گردوں نے حمام العلیل علاقہ میں ایک عراقی عورت اور اس کے دو بیٹوں کو اغوا کرنے کے بعد ان کے سرکاٹ دیئے ہیں۔ عراقی عورت اسپتال میں نرس کا کام کرتی تھی۔

داعش کا یورپ میں کیمیائی ہتھیاروں سے حملوں کا خطرہ؛ انٹیلی جنس اداروں نے خبردار کر دیا

جرمن روزنامہ "دی ولٹ" نے قومی سلامتی اجلاس کے حوالے سے لکھا ہے کہ اسلامی شدت پسند ممکن ہے کہ یورپ میں زہریلی گیس کے ذریعے حملوں کی منصوبہ بندی کریں۔
روز نامہ دی ولٹ نے کہا ہے کہ ایک غیر ملکی انٹیلیجنس ایجنسی نے یورپ کی سیکورٹی حکام کو خبردار کیا ہے کہ داعش اس طرح کے حملوں کے لیے اپنے کارکنوں پر زور دے رہی ہے کہ حملے سولفیڈ ھائڈروجن یا زہریلی گیس کہ جس کے ہوا میں منتشر ہوتے ہی ہزاروں افراد ہلاک ہو سکتے ہیں، سے استفادہ کریں۔
جرمن روزنامہ کے مطابق آسٹریلوی پولس نے جولائی کے مہینے میں داعش کے ساتھ تعلق کے شبہے میں چند افراد کو گرفتار کیا تھا جنہوں نے زہریلی گیس کے ساتھ حملوں کا پرگرام بنا رکھا تھا۔
دوسری جانب یورپی کمیشن نے بھی خبردار کیا ہے کہ یورپ کے شہر اور ریاستیں ان حملوں کے مقابلے کی تیاری نہیں کی ہے۔
اس وجہ سے یورپی کمیشن نے عمومی مقامات کو دہشتگردانہ حملوں کے مقابلے کی تیاری کا جامع پرگرام بنا یا ہے جو اگلے ڈیڑھ سال بعد لاگو ہو گا۔

شیعوں کو لشکر جھنگوی نے نہیں مارا وہ محب وطن گروہ ہے، دہشتگرد ایران ہے، زید حامد

شیعیت نیوز: زید حامد نامی ذہنی مر یض جو خود کو دفاعی تجزیہ کار اور صحافی سمجھتا ہے کہ اسکی ذہنی اور علمی سطح اس قدر پست ہوگئی ہے کہ اسکے تجزیوں اور تحریروں میں کالعدم دہشتگرد تکفیری جماعتوں کی رنگ بو واضح دیکھی جاسکتی ہے۔
پاکستان میں جب کبھی شیعہ مسلمانوں پر حملہ ہوتا تو دہشتگرد جماعتوں کے سرغنہ اسے ایران پر ڈال دیتے اور ثابت کرنے کی کوشیش کرتے ایران پاکستان میں شیعوں کو قتل کروارہا ہے، اس پروپگنڈے کا ایک ہی مقصد ہوتا تھا اور وہ تھا قاتل کو مقتول بناکر پیش کرنا۔
آج نام نہاد دفاعی تجزیہ نگار جوکہ اب ذہنی مریض ہے یہی بات کہہ رہا ہے جو کوئی نئی بات نہیں بلکہ مکتب اہلیبت علیہ السلام کئی عرصہ سے یہ بکواس کالعدم دہشتگرد جماعتوں کے سرغنوں سے کئی بار سن چکے ہیں ، بس اب کی بار لبرل اور صحافت کے لبادے میں چھپے اس زید حامد کی زبان سے من و عن وہی بات سن کر حیرت زدہ نہیں، دہشتگرد جماعتوں کے سرغنوں کی زبان سے جاری بیانات اور زید حامد کے تجزیے اس بات پر دلیل رکھتے ہیں کہ زید حامد اور کالعدم دہشتگرد جماعت لشکر جھنگوی، داعش اور طالبان خوارج کے سرپرست ایک ہی ہیں اور انکا ہد ف ملت جعفریہ اور انقلاب اسلامی ہے۔
اس بھونڈے تجزیے کے بعد یہ بات خوب سمجھ آتی ہے کہ زید زمان حامد نامی دفاعی تجزیہ کار کی نظر میں لشکر جھنگوی سمیت دیگر تکفیری قوتیں جو ملک بھر میں شیعہ مسلمانوں کی تکفیر کرتی ہیں اور پھر انہیں قتل کرتی ہیں پاک صاف اور پرامن محب وطن جماعتیں ہیں، جبکہ شیعہ مسلمانوں ۲۰ ہزار اپنے شہداء گوانے کے بعد بھی ناک و پلید دہشتگرد ہیں۔
دوسری جانب زید حامد کی جانب سے شیعہ مسلمانوں کو ناک پلید اور ایڈیٹ جیسے القابات سے نوازنے پر ملت جعفریہ میں شدید غم و غصہ پایا جارہا ہے اور ملت جعفریہ نے آرمی چیف سے مطالبہ کیا ہے کہ اور را اور موساد کے ایجنٹ کےخلاف فوری کاروائی کریں ۔
واضح رہے کہ گراونڈ لیول اور رکشوں اور بسوں میں ہونے والے لیول کے تجزیے زید حامد کی جانب سے سعودی جیل سے واپس آنے کے بعد سے شروع ہوئے ہیں۔
نوٹ : زید حامد  کی نئی تحریر بہت جلد آئیگی جس میں وہ یہ لکھے گا کہ اس نے پورے ایران کو دہشتگرد نہیں کہا۔

زید حامد شیعہ دشمنی میں پاگل ہوگیا : وہابی اسماعیلی علاقہ کو شیعہ علاقہ بنادیا

شیعیت نیوز: شیعیت نیوز کی جانب سے ذہنی مریض زید حامد کو ایکپسو کیا گیا ہے اور اسکی جھوٹی اور بے بنیاد باتوں کو جب پاکستانی قوم کے سامنے آشکار کیا گیا تو یہ پاگل مزید پاگل ہوکر ایک جھوٹ کو صیح ثابت کرنے کے لئے کئی جھوٹ کے پہاڑ کھڑے کررہا ہے۔
واضح رہے کہ بدھ کے روز سیکورٹی اداروں نے بالاورستان نیشنل فرنٹ کے 12 ورکرز کو گرفتار کیا ہے جن پر سی پیک کےخلاف سازش کرنے کا الزام ہے ،بالاورستان ایک قوم پرست پاکستان مخالف جماعت ہے جس سے گلگت بلستان کے شیعہ شہری بھی خائف ہیں ، اور جس علاقہ سے یہ دہشتگرد گرفتار کیئے گئے ہیں یعنی غذرکا علاقہ جہاں 60 فیصد اسماعیلی، 35 فیصد اہلسنت اور 5 فیصد شیعہ ہونگے، اس علاقہ کو زید حامد نے شیعہ علاقہ قرار دیدیا تاکہ اپنے جھوٹے بھونڈے تجزیہ کو صیح ثابت کرسکے۔
اس جاہل کو جو خود کو دفاعی تجزیہ کار کہتا ہے پاکستان کی صیح ڈویموگرافی تک نہیں پتہ اور پاکستان کی پرامن محب وطن ملت جعفریہ کےخلاف پروپگنڈا کررہا ہے جو اسکے ذہنی مریض ہونے کی دلیل ہے۔
لہذا ہم ایک بار پھر پاکستان کے مقتدر حلقوں، آرمی چیف سے مطالبہ کرتے ہیں وہ اس پاگل انسان کو لگام دیں جو دشمن خفیہ ایجنسیوں کی ایماء پر پاکستان کی 30 فیصد پرامن محب وطن شیعہ قوم کےخلاف نفرت آمیز مہم چلاکر پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات کو بھڑکانے کی کوشیش کررہا ہے۔

زید حامد کی کذاب کی اصلیت آشکار کرنے پر لاکھوں لوگوں کا شیعیت نیوز کو خراج تحسین

شیعیت نیوز: بزرگ کیا خوب کہتے تھے کہ ایک جھوٹ چھپانے کے لئےہزاروں جھوٹ بولنا پڑتے ہیں، اور مشاء اللہ زید حامد کی جانب سے پاکستان دشمن غیر ملکی عناصر کی ایماء پر پاکستان میں فرقہ واریت پھیلانے کی سازش کو شیعیت نیوز نے جب آشکار کیا تو یہ جھوٹاتلملااُٹھا اور گھبراہٹ میں کئی من گھڑت کہانیاں بنانے لگا اور اسی بغض وعناد میں زید حامد نے شیعیت نیوز کو پاکستان دشمن تنظیم را "جسکے لئے زید حامد کام کررہا ہے" سے شیعیت نیوز کے تعلقات جوڑنے کی ناکام کوشیش بھی کی،لیکن اس جاہل کو یہ نہیں پتہ جس زمانے میں وہ زندگی گذار رہا ہے وہ انفارمیشن کا دور ہے اور انفارمیشن سیکنڈ ز میں انسان کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔
ایسے میں اس جاہل نے جوکہ خود کو" سیکورٹی ماہر " سمجھتا ہے شیعیت نیوز کی رجسٹریشن کی جھوٹی معلومات ایڈیٹ کرکے اپنے اندھے مقلدین کے لئے سوشل میڈیا پر جاری کی جس میں اس نے یہ ثابت کرنے کی کوشیش کی کہ شیعیت نیوز انڈیا"زید حامد " کے ملک میں رجسٹر ڈ ہے۔
لیکن جناب اللہ کا بھی کیا خوب نظام ہے جب وہ کسی کو ذلیل کرنا چاہتا ہے اور اسکو اپنے ہی ہاتھوں سے ذلیل کروادیتا ہے اور زید حامد کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہوا، جھوٹوں کے سردار زید حامد کا یہ جھوٹ بھی دنیا کے سامنے آشکار ہوگیا۔
حیرت کی بات ہے کہ زید حامد خود کو دفاعی تجزیہ کار سمجھتا ہے لیکن اس جاہل کو یہ تک نہیں پتا کہ .org,.comاور دیگر ڈومین امریکہ ہی میں رجسٹر ہوسکتے ہیں نہ انڈیا میں اور نہ ہی پاکستان اور نہ ہی کسی دوسرے ملک میںاورجو ڈومین جس کے نام رجسٹر ہیں اس میں ردو بدل نہیں ہو سکتا ، کسی بھی سائٹ سے کسی بھی ڈومین کے مالک کی معلومات تک رسائی ہر ایک کو حاصل ہےشیعت نیوز کے ڈومین کی ملکیت کی معلومات میں جس کمپنی کانام زبردستی جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے نہ تو وہ ڈومین رجسٹر کرتی ہے اور نہ اسکے پاس اختیارہے اور نہ ہی وہ انڈین کمپنی ہے بلکہ وہ امریکن کمپنی ہے اور نہ ہی اسکا کام ڈومین رجسٹر کرنا ہے۔

ایران کی افغانستان میں ہونے والی دہشت گردی کی شدید مزمت

افغانستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والی تازہ ترین دہشت گردانہ کارروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے غیراسلامی اور غیرانسانی فعل قرار دیا ہے۔
بہرام قاسمی نے افغان حکومت، عوام اور دہشت گردانہ حملوں سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوری ایران دہشت گردوں کے خاتمے تک افغان حکومت اور افغان عوام کے ساتھ ہے۔

Thursday, 19 October 2017

سابق سینیٹر اور جعفریہ الائنس کے سربراہ علامہ عباس کمیلی کی شاہراہ فیصل تھانے میں علامہ احمد اقبال سے ملاقات

شیعیت نیوز: شیعہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے چلائی جانے والی جیل بھرو تحریک کے دوسرے مرحلہ میںرضاکارانہ طور پر گرفتاری پیش کرنے والے علا مہ احمد اقبال سے سابق سینیٹر اور جعفریہ الائنس کے سربراہ علامہ عباس کمیلی نے شاہر اہ فیصل تھانے میں ملاقات کی اور جیل بھرو تحریک کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔
انہوںنے کہا کہ غیر قانونی طور پر شیعہ جوانوں کو لاپتہ کرنا ملکی آئین کی خلاف ورزی ہے اگر انکا کوئی جرم ہے تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے، علامہ عباس کمیلی نے علامہ احمد اقبال رضوی اور علامہ حسن ظفر نقوی کی جانب سے لاپتہ شیعہ افراد کی بازیابی کے لئے چلائی جانے والی جیل بھرو تحریک کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگرہمارے مطالبات تسلیم نا کیئے گئے تو ملت جعفریہ سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوجائینگے۔
شاہراہ فیصل تھانے میں مختلف تنظیموں اور اداروں کے وفود علامہ احمد اقبال رضوی سے ملاقات کے لئے تشریف لارہےہیں،علاوہ ازین علامہ نثار قلندری، علامہ عقیل موسیٰ سمیت آئی ایس او، بلتستان اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سمیت مختلف قومی شخصیات نے علامہ احمد اقبال سے ملاقات کی ہے، جبکہ شہاد ت امام زین العابدین علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے تھانے میں ہی مجلس عزا منعقد کی گئی جہاں دستہ امامیہ نے نوحہ خوانی بھی کی۔

جیل بھرو تحریک کے ثمرات آنا شروع :لیہ سے لاپتہ دو سگے بھائی گذشتہ رات بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے

شیعیت نیوز: لاپتہ شیعہ افراد کی بازیابی کے لئے چلائی جانے والی جیل بھرو تحریک کے ثمرات آنا شروع ہوگئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق گذشتہ پانچ ماہ سے پنجاب کے علاقہ لیہ سے تعلق رکھنے والے لاپتہ سگے بھائی نسیم عباس اور شاہین عباس گذشتہ رات اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔
واضح رہے کہ نسیم عباس کو کراچی جبکہ شاہین عباس کو لاہور سے سادہ لباس اہلکاروں  نے 2 جنوری 2017 کو اغوا کیا تھا جو گذشتہ رات اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔
ان دونوں بھائیوں کی بوڑھی ماں ہے جو اپنے بچوں کی بازیابی پر خوشی کے آنسو وں پر قابونہیں پا سکیں ، ان لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے جوانوں کی بازیابی کے لئے چلائی جانے والی تحریک کے قائدیں اور پوری ملت جعفریہ کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ پاک فو ج کے سربراہ جنر ل باجوہ کا بھی شکریہ ادا کیا کہ وہ مظلومین کی فریاد ی بنے ۔ بازیاب ہونے والے جوانوں کی بوڑھی ماں نے کہا کہ انشاٗ اللہ سارے لاپتہ جوان جلد اپنے گھروالوں کے ہمراہ ہونگے۔
دھیاں رہے کہ تمام لاپتہ شیعہ افراد کی بازیابی کے لئے جیل بھرو تحریک کراچی سے شروع ہوئی ہے جسکے پہلے مرحلے میں علامہ حسن ظفر نقوی نے ساتھیوں سمیت گرفتاری پیش کی تھی اور آج علامہ احمد اقبال رضوی  نے بھی اپنے رفقاٗ کے ہمراہ از خود گرفتار ی دی ہے اور یہ سلسلہ تمام لاپتہ افراد کی بازیابی تک جاری رہے گا۔

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی شاہراہ فیصل و بغدادی تھانے میں علامہ حسن ظفرو احمد اقبال سے ملاقات

شیعیت نیوز: جیل بھرو تحریک کے سلسلے میں رضاکارانہ طور پر گرفتاری پیش کرنے والے ،علامہ حسن ظفر نقوی اور علامہ احمد اقبال رضوی سے مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے بغدادی اور شاہر اہ فیصل تھانے میں ملاقات کی۔
اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم کراچی کا وفد بھی موجود تھا، علامہ راجہ ناصر عباس نے لاپتہ شیعہ افراد کی بازیابی کے لئے چلائی جانے والی جیل بھرو تحریک کی مکمل حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ اس جرمت مندانہ اقدام سے مطالبات یقیناً پورے ہونگے، شہادت اور اسیر ی ہماری میراث ہے۔
واضح رہے کہ لاپتہ شیعہ افراد کی بازیابی کے لئے علامہ حسن ظفر نقوی نے جیل بھرو تحریک کا آغا کیا تھا، اس سلسلے کے تیسرے مرحلے میں کل شیعہ ایکشن کمیٹی کے رہنما مولانا ناظم علی آزاد گرفتاری پیش کریں گے۔

تشیع پاکستان اور استعماری فتنے

انیسویں اور بیسوی صدی عیسوی میں برطانوی استعمار نے اپنے مقبوضہ علاقوں میں بہت سارے فتنوں کی بنیاد رکھی۔ بوڑھے استعمار نے کہیں پر سرحدوں کا مسئلہ کھڑا کیا، کہیں پر لسانیت وقومیت کو ہوا دی، اور کہیں پر دین ومذہب اورفرقوں کے نام پر بت تراشے۔
انہیں فتنوں میں سے ایک فتنہ جو اہل تشیع کے درمیان بویا گیا وہ شیخیت اور خالصیت کا فتنہ ہے. اس فتنے کو بالخصوص عراق ، لبنان اور پاکستان میں نسبتا زیادہ ہوا دی گئی. پاکستان میں جب امریکی اور روسی نفوذ کی سرد جنگ جاری تھی اور امریکہ نے اپنے ہدف کے حصول کے لئے جہاں دیگر حربے استعمال کئے ان میں سے ایک حربہ اہل سنت بالخصوص دیوبندی مکتب فکر اور جماعت اسلامی کو روس کے خلاف استعمال کرنا تھا ۔ اور جب امریکا آخر کار روس نواز وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوا ، تو پھر مذکورہ بالا قوتوں کو ضیاء الحق کے دور اقتدار میں پاکستان میں مزید پالابوسا اور طاقتور بنایا۔
70 ء کے عشرے میں جب پاکستان میں یہ سازش جاری تھی تو اسی دوران بانیان پاکستان کے فرزندوں کو غافل رکھنے اور سیاسی منظر نامے سے دور رکھنے کے لئے انہیں داخلی اختلافات میں بری طرح الجھا دیا گیا۔ برطانیہ کے لگائے ہوئے پودے شیخیت اور خالصیت کے فتنے کو بہت ہوا دی گئی اور پوری ملت تشیع فکری طور پر دو حصوں میں بٹ گئی ، جس کے نتیجے میں مساجد وامامبارگاہوں میں مکتب اہل بیت علیہم السلام کے پیروکاروں کے مابین واضح تقسیم ہو گئی۔
ایک گروہ اپنے آپ کو موحد وملتزم اور مد مقابل کو نصیری اور غالی کہنے لگا. اور اسی طرح دوسرا گروہ اپنے آپ کو موالی وخوش عقیدہ اور مد مقابل کو وہابی و مقصر کہنے لگا. طرفین نے محراب و منبر کو اس مشن کے لئے خوب استعمال کیا اور بعض اوقات تو لڑائی جھگڑے تک نوبت آ جاتی تھی. اور ہر ایک اپنے تئیں دین ومذھب اور تشیع کا دفاع کر رہا تھا۔
شیعیان پاکستان اسی طرح ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں لگے رہے اور دوسری طرف اقلیتی دیوبندی فرقہ، ملک پر قابض ہو گیا. دیوبندی حضرات کو اس وقت، امریکہ، سعودی عرب اور حکومت وقت تینوں کی سپورٹ حاصل تھی۔
اس زمانے میں اہل تشیع کے اکابرین سیاست کو شجرہ ممنوعہ سمجھ بیٹھے تھے اور بانی پاکستان کے فرزند منبر اور محراب سے یہ کہتے تھے .کہ ہمیں معاویہ کی سیاست سے کوئی سروکار نہیں، یہ شریفوں کا پیشہ نہیں، ہمیں تو فقط رونے دو، ہمیں فقط مذھبی رسوم کی ادائیگی کے لئے آزادی چاہیے، تم لو اقتدار اور سنبھالو حکومت ، ہمیں تو فقط عزاداری چاہیے ۔
شیعہ سیاستدان بھی چونکہ شیعہ ووٹ کو اپنی جیب ڈیپازٹ سمجھتے تھے اور اب انہیں فقط سنی ووٹ درکار تھا. انھوں نے بھی اپنی اپنی کرسی بچانے اور سیاسی مفادات حاصل کرنے کے لئے تشیع کے حقوق کی کبھی بات نہ کی بلکہ اگر کوئی آواز اٹھتی تو عوامی پریشر اور اپنے نفوذ سے اسے دبا دیتے اور کہتے کہ ہم تو اقلیت ہیں اور غیر موثر ہیں۔
شیعہ عوام کو یہ باور کرایا گیا تھا کہ شیعہ نام سے سیاست میں جانا بے سود ہے. چنانچہ شیعیانِ پاکستان پر ظلم ہوتا رہا، بے بنیاد الزامات لگے ، حق تلفیاں ہوئیں ، مذھبی آزادی سلب ہوئی اور عزاداری کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں حتی کہ قتل و غارت اور قانون سازیاں تک ہوئیں. یہ تشیع کے ہمدرد سیاستدان نہ تو پارلیمنٹ میں کوئی دفاع کرتے اور جب کبھی کوئی گلہ شکوہ کرتا تو جواب میں کہتے کہ میں تو اہل سنت کے ووٹ سے اسمبلی میں پہنچا ہوں لہذا میں مذہب شیعہ کا دفاع نہیں کر سکتا۔
یوں ملک کے اکثریتی طبقات اہل سنت بریلوی اور شیعہ محکوم ہوتے گئے اور دیوبندی حضرات ملک کے تمام شعبوں میں سرایت کر گئے۔
یاد رہے کہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے بانی پاکستان کی آزادی واستقلال کی تحریک کی مخالفت کی تھی اور فتوے جاری کئے تھے. اور انہیں کافر اعظم تک کہا تھا. اور یہ لوگ پاکستان کے قیام اور ہندوستان سےعلیحدگی کے مخالف تھے۔
آج ایک بار پھر جب داعش کی شام وعراق میں ناکامی کے بعد امریکہ اور سعودیہ اسے افغانستان اور پاکستان منتقل کرنے میں مصروف ہیں تو بانیان پاکستان کے فرزندوں کے خلاف ایک بین الاقوامی سازش اپنے عروج پر ہے۔
وطن عزیز پاکستان ، پاکستانی مسلح افواج و عوام اور بالخصوص تشیع پاکستان سے عراق وشام کی ناکامی کا بدلہ لینے کے لئے امریکی صدر اپنی نئی پالیسی کا اعلان کر چکا ہے. جس کے تحت تکفیری مسلح گروہ مذھبی فتنوں کی آگ کے شعلے پورے ملک میں پھیلائیں گے اور اسے عراق وشام بنائیں گے ۔
دوسری طرف تشیع کی داخلی وحدت پر کاری ضربیں لگائی جا رہی ہیں. کچھ منحرف لوگ، امریکہ و برطانیہ کی ایما پر منبر و محراب سے فتنوں کو ھوا دینے کے لئے اپنی زبانیں بیچ چکے ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ ایک طرف ملکی اداروں اور ایوانوں میں بیٹھے ملکی مفادات کے دشمن اور متعصب افراد تشیع کو ہر لحاظ سے دبانے اور دیوار سے لگانے میں شبانہ روز مصروف ہیں. اور دوسری طرف ناعاقبت اندیش ہمارے اکثر قومی لیڈر ان تحولات اور سازشوں کو سمجھنے اور درست سمت میں قوم کی راھنمائی کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں ۔
ایسی صورتحال میں بشارت وولایت کے نام پر تشیع میں تقسیم ، اہل تشیع کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے. فقط بعض منحرف یا مخصوص عقائد ونظریات کے حامل افراد کی بنا پر عمومی حکم لگانا اور ایک صنف کو دوسری صنف کے مد مقابل لانا ، بلکہ ایک ہی صنف کے افراد کے مابین نفرتوں کی دیواریں کھڑی کرنا ، تشیع پر ہونے والے بیرونی حملوں سے کہیں زیادہ خطرناک ہے. حالات بتا رہے ہیں کہ اس وقت تشیع کا من حیث القوم وجود اور شیعوں کی عزت وناموس خطرے میں ہے۔
ہمیں کب احساس ہوگا کہ ہمارا وطن عزیز پاکستان اور شیعیان پاکستان ، اندرونی وبیرونی دشمنوں میں گھرے ہوئے ہیں. اس وقت باہمی وحدت واخوت اور مشترکہ دشمنوں کےخلاف متحد ہوئے بغیر ان مسائل سے نکلنا مشکل ہے۔
ہمیں مشکلات اور مسائل کے حل کے لئے متبادل راستے تلاش کرنے کی ضرورت ہے. ہمیں حکمت وبصیرت سے مسائل سلجھانے کی کوشش کرنی چاہیئے، ہرزی شعور سمجھ سکتا ہے ، کہ اس خالصیت وشیخیت یا ہدایت واصلاح کی موجودہ روش سے ناقابل تلافی نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔
امریکہ، سعودیہ، اسرائیل اور انکے اتحادیوں کی عراق وشام میں ذلت آمیز شکست وپسپائی در اصل ہماری رہبریت ومرجعیت اور مقاومت کی وجہ سے ہوئی ہے. اور آج انتقامی سازش کے تحت تشیع کے مابین اختلافات اور فتنوں کو ابھار کر ہمارے ایک بہت بڑے اور موثر طبقے کو رہبریت ومرجعیت اور مقاومت سے کاٹ کر الگ کیا جا رہا ہے۔ اور بہت سارے مخلص افراد لاشعوری طور پر دشمن کے معاون ومدد گار بن رہے ہیں۔
افسوس کی بات تو یہ ہے کہ منبرِ اہل بیتؑ پر آنے والے بعض افراد یہ تک بھول جاتے ہیں کہ آج اگر اھل بیت علیہم السلام کے مزارات اور حرمِ سیدہ ؑ کو دشمنان خدا منہدم نہیں کرسکے تو اس کا سبب یہی رہبریت ومرجعیت اور مقاومت ومدافعینِ حرم کا میدان میں موجود ہونا ہے۔ یہ اللہ تعالی کی عطا کردہ مرجعیت کی بصیرت، اجتھاد کا ثمر اور علمائے کرام کی قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ دشمن زلیل اور ناکام ہوا ہے۔
وگرنہ کون نہیں جانتا کہ بقیع کی طرح ایک بار پھر وھابیت اور آل سعود کربلا ونجف ، کاظمین و سامراء اور شام میں حرم مطہر حضرت زینب وحضرت رقیہ بنت حسین علیہما السلام اور دیگر سب مزارات کو شہید اور خراب کر نے کے درپے تھے۔
اس وقت منبر پر آنے والے افراد کی اوّلین زمہ داری بنتی ہے کہ وہ دشمن کے مقابلے کے لئے مرجعیت و اجتہاد کے مورچے کو مضبوط کریں اسی طرح مرجعیت و اجتھاد کے علمبرداروں کو بھی چاہیے کہ وہ کوئی ایسا کام نہ کریں جو ملت میں تقسیم اور تفرقے کا باعث بنے۔
ہمارا دشمن انتہائی تجربہ کار، مکار اور خبث باطن میں سر فہرست ہے لہذا ہم سب کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جو بھی ہمیں تقسیم کرنے کی کوشش کرے وہ در اصل شعوری یا لاشعوری طور پر دشمن کا آلہ کار ہے۔
تحریر: ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی

شام کا دفاعی میزائل سسٹم اسرائیلی جنگی طیاروں کے شکار کے لئے آمادہ

شام نے اسرائیل کے جنگي طیاروں کی طرف مسلسل فضائی خلاف ورزیوں کے پیش نظر اپنے دفاعی میزائل سسٹم کو اسرائیلی جنگي طیاروں کے شکار کے لئے آمادہ کرلیا ہے۔شام کے دفاعی میزائل سسٹم نے اسرائيل کے ایک جنگی طیارے کو نشانہ بنایا جس نے لبنان کی سرحد سے شام کی فضائي حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ شامی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے 16 اکتوبر کو حسب معمول شام کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا لیکن شام کے دفاعی میزائل سسٹم نے اسرائيل کے ایک جنگي طیارے کو نشانہ بنایا جبکہ باقی طیارے فرار ہونے پر مجبور ہوگئے۔ شامی فوج کے مطابق شام کا نیا میزائل سسٹم اسرائيلی طیاروں کو شکار کرنے کے لئے آمادہ ہے۔

!!وطن سے محبت شیعہ عقیدہ ھے آپ اس کا ادراک نہیں کر سکتے زید حامد صاحب

شیعیت نیوز: زید حامد صاحب ذراء یہ بتائیں ، آج سے پہلے جب آپ پاکستان کی بقاء کی بات کرتے تھے اور پاکستان دشمن قوتوں کی نشاندہی کرتے تھے تو کبھی شیعہ قوم نے آپ کے خلاف بات کی ؟ ملتِ مظلوم شیعان علی (ع) ہمیشہ حق کا ساتھ دیتی آئی ہے اور جب بھی آپ سمیت کسی بھی فرد نے پاکستان کی بقاء کی بات کی تو اس قوم نے اس کی بات کو سنا مگر جب سے آپ سعودی جیل سے برین واش ہو کر واپس آئے ہیں اور پاکستان کے محب وطن شیعہ قوم کے خلا ف زہر اُگلنا شروع کردیا تو ہم نے بھی ضروری سمجھا کہ حقائق کو سامنے لایا جائے ۔۔ شیعیت نیوز کا اپنے قیام سے ہی یہی مقصد رہا ہے کہ اسلام امریکی کہ مقابلے میں اسلام محمدی (ص) کا دفاع کرنا ، مکتب اہلییت (ع) کہ خلاف سازشوں اور جھوٹے پروپیگنڈے کو ناکام بنانا اور وطن عزیز پاکستان کہ خلاف سازشوں کو اشکار کرنا اور اسکا مقابلہ کرنا ۔۔۔۔
زید حامد صاحب !! اپنے نام کے ساتھ سید لگانے سے آپ شیعہ قوم کی ہمدری نہیں لے سکتے ۔ آپ یہ بتائیں کہ پاکستان میں بسنے والی شیعہ قوم نے کب پاکستان کیخلاف بات کی ؟ کب کسی شیعہ عالم دین نے پاکستان کی بقاء کے خلاف کوئی لفظ بھی ادا کیا ھوا؟؟؟
زید حامد صاحب !کیا آپ کو نہیں معلوم کہ شیعہ قوم نے پاکستان کے قیام سے ابتک اس ملک میں ۲۰ ہزار سے زائد لاشے اُٹھائے۔ ۲۰۱۳ میں کوئٹہ شہر۱۰۰ سے زائد شہداء کہ جنازے اُٹھانے کہ باوجودکبھی پاکستان کی سالمیت کہ خلاف آواز اٹھانا تو درکنار سوچنا بھی گوارا نہیں کیا ۔ کیا آپ نے پاکستان کہ جیّد شیعہ علماء کرام علامہ شیخ محسن نجفی، علامہ ساجدعلی نقوی ، علامہ ریاض حسین نجفی، علامہ راجہ ناصر عباس ، علامہ حسن ظفر نقوی ، علامہ امین شہیدی اور دیگر علماء کرام کو کبھی پاکستان کی سالمیت کہ خلاف بات کرتے ھوئے سنا ھے ؟؟؟آپ کو تو یہ بھی نہیں معلوم کہ سپاہ محمد کیوں وجود میں آئی ۔ جہاں تک ہم جانتے ہیں سپاہ محمد کا وجود بے گناہ شیعہ جوانوں کے قتل عام کے خلاف تھا مگر انہوں نے کبھی بھی پاکستان کی سالمیت پر کوئی حملہ نہیں کیا ۔ زید حامد صاحب ، کیا آپ نہیں جانتےکہ تحریک طالبان، انصار الشریعہ ، سپاہ صحابہ ، لشکر جھنگوی ، انصار الامہ ، جند اللہ اور دیگر دہشت گرد گروہ جو وطن عزیز پاکستان کے شہریوں اور ریاستی اداروں کے خلاف منظم کاروائیاں کرتے ہیں ان کا تعلق مکتب اھلبیت ( شیعہ ) سے نہین بلکہ دیو بند مسلک سے ھے ۔۔کیا آپ نہیں جانتے کہ یہ دہشت گرد گروہ پاکستان کی سالمیت کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں ۔ زید حامد صاحب آپ نے جو یہ پاراچنار کے شیعہ مومنین کو غداری کا سرٹیفیکٹ دینے کی ناکام کوشش کی ہےتو ذرا یہ جان لیں کہ گزشتہ ۱۰ ماہ میں پاراچنار کہ مومنین نے ۴۰۰ سے زائد اپنے پیاروں کو وطن عزیز پہ قربان کیا ھے اور جمعۃ الوادع کو ہونے والے دھماکہ میں شہادتوں کہ بعدپر امن دھرنا دیا اور مطالبہ کیا کہ ایف سی میں موجود کالی بھیڑوں کا صفایا کیا جائے ۔ اُس وقت بھی آپ نے ان غیور جوانوں کے خلاف ملک دشمن قوتوں کے ایماء پر زہر اُگلا تھا مگر آپ کی وہ سازش بھی ناکام ہو گئی تھی جب پاکستان کہ غیور سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاراچنار کا دورہ کر کے مظلوم شیعہ قوم کے مطالبات تسلیم کئے ۔ جناب یہ بات بھی ذہن نشین کر لیں کہ پاکستان کی مغربی سرحد پر خار دار باڑ لگانے کا سب سے پہلا مطالبہ بھی پاراچنار کے غیور شیعہ جوانوں نے کیا تھا ۔ زید حامد صاحب خدارا ہو ش کے ناخن لیں اور ملت جعفریہ پاکستان کے خلاف زہر اُگلنا بند کرو ورنہ ھم تو وہ قوم ھے جس نے ۱۴۰۰ سے یزید اور اسکی نسل کا تعاقب نہیں چھوڑا ۔۔۔ رھی بات مادر وطن پاکستان کی حفاظت و محبت کی تو یہ بات ذھن نشین کرلوُ " وطن سے محبت و اسکی حفاظت مکتب تشیع ( شیعہ مسلمانوں ) کہ عقیدہ ہے۔ اس کہ لیے ھمیں تم جیسے " امریکی و را کہ ایجنٹ " سے کسی سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ۔۔۔ جس وقت تم ھمارے بزرگان کہ خلاف کانگریس سے مل کر مہم چلا رھے تھے اور قائد اعظم کو کافر اعظم قرار دے رھے تھے اس وقت ھم قیام پاکستان کہ لیے اپنی جانوں کا نذرانہ دے رھے تھے اور اجُ اس کہ قیام کہ ۷۰ سالوں بعد بھی اپنے لہو سے پاک وطن کی آبیاری کررھے ھیں

طالبان نے دہشتگرد عمر منصور کی ہلاکت کی تصدیق کردی

شیعیت نیوز: کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) اور چارسدہ یونیورسٹی پر حملوں کے ماسٹر مائنڈ اور ٹی ٹی پی کے گیڈر گروپ (گیدار گروپ) کے آپریشنل سربراہ عمر منصور عرف خلیفہ منصور عرف عمر نارے کی ہلاکت کی تصدیق کردی۔ بدھ کے روز ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی نے میڈیا کو بھیجی گئی ایک ای میل میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان درہ آدم خیل اور پشاور کے سابق امیر خلیفہ عمر منصور کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی جگہ خلیفہ عثمان منصور کو نیا امیر مقرر کردیا گیا ہے۔پشاور آرمی پبلک اسکول حملے میں شہید ہونے والے بچے کے والد طفیل خان خٹک نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس ہولناک حملے کے ماسٹر مائنڈ کی ہلاکت پر پوری دنیا خوش ہوگی۔
گزشتہ برس بھی منصور کی ہلاکت کی رپورٹس منظر عام پر آئی تھیں تاہم نہ ہی حکام اور نہ شدت پسندوں نے اس کی تصدیق کی تھی۔ ٹی ٹی پی نے اپنے حالیہ بیان میں عمر منصور کی ہلاکت کی وجہ اور اس کے مقام کی تفصیلات نہیں بتائیں۔تاہم ٹی ٹی پی کی جانب سے خلیفہ منصور عرف عمر نارے کی ہلاکت کی تصدیق ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب گذشتہ روز سیکورٹی اداروں نے کہا تھا کہ حال ہی میں پاک-افغان سرحد پر ہونے والے ڈرون حملوں میں جماعت الحرار کے امیر عمر خالد خراسانی کے شدید زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

جیل بھرو تحریک تیسرا مرحلہ: مولانا ناظم مسجد دربار حسینی ملیر سے گرفتاری دیں گے

شیعیت نیوز: شیعہ مسنگ پرسنز ریلیز کمیٹی کی جانب سے کل بروز جمعہ 20اکتوبر 2017ء کو مسجد دربار حسینی ملیر سے بعد از نماز جمعہ احتجاً شیعہ ایکشن کمیٹی کے رہنما مولانا ناظم اپنی گرفتاری پیش کریں گے۔
واضح رہے کہ لاپتہ شیعہ افراد کی بازیابی کے لئے علامہ حسن ظفر نقوی نے جیل بھرو تحریک کا آغا کیا تھا، اس سلسلے کے تیسرے مرحلے میں کل شیعہ ایکشن کمیٹی کے رہنما مولانا ناظم علی آزاد گرفتاری پیش کریں گے۔

علامہ حسن ظفر نقوی نے لاپتہ شیعہ عزاداروں کی بازیابی تک بھوک ہڑتال کا اعلان کردیا

شیعیت نیوز:بغدادی تھانے میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے علامہ حسن ظفر نقوی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات کی سخت مذمت کرتے ہیں، جن میں کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے افراد، پولیس کے جوان، اور کرم ایجنسی میں فوج کے جوان شہید ہوئے ۔علامہ حسن ظفر نقوی کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئ ماہ سے ہم نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے ہر سطح پر آواز اٹھائ اور پھر 6 اکتوبر سے از خود گرفتاری پیش کرنے کی تحریک کا آغاز بھی کیا ، لیکن آج دو ہفتے گزرنے کے باوجود حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی ۔ کیونکہ ان لاپتہ افراد میں کسی کا باپ نواز شریف نہیں ہے، کسی کا بیٹا حسن نواز اور حسین نواز نہیں ہے، کسی کی بیٹی مریم نواز نہیں ہے، کسی کا داماد کیپٹن صفدر نہیں اور کسی کا سمدھی اسحاق ڈار نہیں کہ جن کے لئے ساری حکومت اور حکومتی مشنری مدد کرنے کے لئے میدان میں اتری ہوئی ہے ۔ انھیں بچانے کے لیے پرانے قوانین بدلے جا رہے ہیں اور نئے قوانین بنائے جا رہے ہیں اور آئین کی دھجیاں اڑائ جا رہی ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ لاپتہ افراد تو وہ غریب اور عام پاکستانی ہیں جن کی فریاد سننے کا وقت کسی کے پاس نہیں ہے۔ ان لاپتہ افراد کے بوڑھے ماں باپ، اور بیوی بچے در در مارے مارے پھر رہے ہیں مگر حکمرانوں کے کانوں میں سیسہ پڑا ہوا ہے، انھیں سوائے اپنے مفادات کے تحفظ کے کوئ آواز سنائ نہیں دیتی ۔ہم نے پر امن جدوجہد کے ذریعے پیغام دیا اور دے رہے ہیں کہ ہم صرف اپنا آئینی اور قانونی حق مانگ رہے ہیں، مگر وہ حق ہمیں نہیں دیا جا رہا ۔
یہ گرفتاریوں کی تحریک تمام شیعہ تنظیموں کے فیصلوں کے ساتھ آگے بڑھتی رہے گی ۔ مگر میں اس موقع پر اعلان کر رہا ہوں کہ میں نے گزشتہ روز سے بھوک ہڑتال شروع کر دی ھے ۔اور یہ بھوک ہڑتال نتائج کے حصول تک جاری رہے گی چاہے میری جان ہی چلی جائے ۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نہیں کہتے کہ اگر ان جوانوں پر کوئی کیس ہے تو انہیں آزاد کردو بلکہ ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمیں ائین و قانون کے مطابق انصاف دو،ہمیں بتاو کہ وہ لاپتہ افراد زندہ ہیں یا نہیں، اگر وہ قانون شکنی میں ملوث رہے ہیں تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائےمگر ملک کے افراد کو لاپتہ کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔
علامہ حسن ظفر نقوی کا کہنا تھا کہ میرے پاس لاپتہ افراد کے مظلوم وارثوں سے یک جہتی کا جو بھی راستہ ہے اختیار کروں گا ۔ انتہائ افسوس کے ساتھ اس بھوک ہڑتال کا اعلان کر رہا ہوں کہ " یہ کیسا نظام ھے کہ جہاں اپنے بنیادی انسانی حق کے حصول کے لئے بھی اپنی جان پر کھیلنا پڑتا ھے ۔"
مجھے معلوم ہے کہ میری بھوک ہڑتال سے بھی حکمرانوں بے حسی اور ڈھٹائ پر کوئی اثر پڑنے والا نہیں ھے، مگر کم از کم جہاں جہاں ابھی ضمیر انسانی زندہ ہے وہاں ضرور میری آواز پہنچے گی۔

فلسطین میں ذرائع ابلاغ کے دفاتر پر صیہونی فوجیوں کے حملوں کی مذمت

اسلامی ریڈیو اور ٹیلی ویژن چینلوں کی یونین نے بدھ کو اپنے ایک بیان میں فلسطینی سیٹلائٹ ٹی وی چینلوں کے دفاتر پر اسرائیلی فوجیوں کےحملوں اور ان کے کارکنوں کوگرفتار کئے جانے کی مذمت کی ہے۔
مذکورہ یونین نے غرب اردن کے شہروں الخلیل، رام اللہ، نابلس اور بیت لحم میں ٹرانس میڈیا، پال میڈیا اور رامسات جیسی میڈیاسروس کی کمپنیوں اور کئی بین الاقوامی سیٹلائٹ ٹی وی چینلوں منجملہ فلسطین الیوم، القدس، الاقصی اور المنار ٹی وی کے دفاتر پر حملے اور انہیں بند کئے جانے کو فلسطینی ذرائع ابلاغ کے خلاف اسرائیل کی کھلی جنگ قراردیا۔
اسلامی ریڈیو اور ٹی وی چینلوں کی یونین کےبیان میں کہا گیا ہے کہ صیہونی فوجیوں کے حملوں فلسطین الیوم، القدس، الاقصی اور المنار ٹی وی چینلوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو اس یونین کے ممبر ہیں۔
بیان میں اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ صیہونی حکومت ہر اس قومی اور آزادی پسندی کی آواز کو دبانے کی کوشش کررہی ہے جو غاصب اسرائیل کے ماہیت اور حقیقت کو آشکارہ کرتی ہے، کہا گیا ہے کہ صیہونی حکومت اس سے پہلے بھی اسی طرح کے اقدامات کا ارتکاب کرچکی ہے لیکن وہ فلسطینی ذرائع ابلاغ کی آواز کو دبانے میں ناکام رہی ہے۔
فلسطین میں اسلامی ریڈیو اور ٹیلی ویژن چینلوں کی یونین نے صیہونی حکومت کے اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین اور معاہدے کے منافی بتایا اور عالمی اداروں سے کہا ہے کہ صیہونی حکومت پر دباؤ ڈالے تاکہ میڈیا کےخلاف وہ اپنے اقدامات کو بند کرے۔
دوسری جانب فلسطینی گروہوں نے بھی الگ بیانات جاری کرکے فلسطین کے ٹی وی چینلوں اور میڈیا کے دفاتر کو بند کرنے کے صیہونی فوجیوں کے اقدام کی مذمت کی ہے۔
فلسطین کی تحریک جہاد اسلامی نے بدھ کو ایک بیان جاری کرکے کہا ہے کہ فلسطین کے سیٹلائٹ ٹی وی چینلوں اور میڈیا کے دفاتر پر صیہونی فوجیوں کے حملے فلسسطینی بچوں خواتین اور بوڑھوں کے خلاف غاصب صیہونیوں کے حملوں کے جرائم کو افشا کرنے میں فلسطینی میڈیا کی طاقت کے مقابلے میں اسرائیلی حکومت کی بے بسی کی علامت ہے۔
عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین اور فتح الانتفاضہ جیسی تنظیموں نے بھی صیہونی فوجیوں کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی ذرائع ابلاغ تمام تر مشکلات اور چینلجوں کے باوجود اپنا مشن جاری رکھیں گے۔

آیت اللہ خامنہ ای اور ایرانی حکومت کے شکرگزار ہیں بشار اسد

شامی صدر بشار الاسد نے شام میں دہشت گردوں کے خاتمے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایرانی حکومت اور خاص کر امام خامنہ ای کا شکریہ ادا کیا۔
جنرل باقری نے دہشتگردی کے خلاف شامی مسلح افواج کی حالیہ فتوحات پرمبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ شام میں مکمل دہشت گردوں کے خاتمے تک شامی حکومت کی حمایت جاری رہے گی۔
اس موقع پر شامی صدر بشار الاسد نے دہشتگردوں کے خلاف شام کی بھرپور حمایت کرنے پر قائد اسلامی انقلاب حضرت آیت اللہ خامنہ ای، ایرانی قوم اور حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ شامی فوج ملک بھر سے دہشت گردوں کا صفایا کرکے ہی دم لے گی۔
خیال رہے کہ ایرانی مسلح افواج کے سربراہ بروز منگل شام کے دورے پر دمشق پہنچے تھے اور انہوں نے شامی ہم منصب اور وزیر دفاع کے ساتھ بھی اہم ملاقاتیں کیں۔

حزب اللہ لبنان کے سربراہ سے آئی آر آئی بی کے سربراہ کی ملاقات

ایران کے سرکاری ریڈیواور ٹی وی کے ادارے آئی آر آئی بی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالعلی علی عسکری نے بیروت میں حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ سے ملاقات میں شام، عراق اور لبنان میں دہشتگردوں کے خلاف جنگ کی صورت حال کا جائزہ لیا اور استقامتی محاذ کی حالیہ کامیابیوں کے بارے میں صلاح و مشورے کئے- آئی آر آئی بی اور حزب اللہ کے سربراہوں نے اس ملاقات میں استقامتی محاذ کے ذرائع ابلاغ کے کردار کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ میدان جنگ میں مجاہدین کے ساتھ ہی استقامتی محاذ کے ذرائع ابلاغ کی موجودگی نے حالیہ کامیابیوں میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے- آئی آر آئی بی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالعلی علی عسکری، شام کا دورہ اور شامی حکام سے ملاقات کے بعد پیر کو بیروت پہنچے تھے- ڈاکٹرعلی عسکری نے بیروت میں اسلامی ریڈیو ٹی وی یونین کے بعض عہدیداروں سے ملاقات میں کہا کہ دنیا کے مختلف علاقوں میں ایران کے اسلامی انقلاب کی وفادار انقلابی طاقتوں کی کوششوں سے استقامی محاذ اور استقامتی محاذ کے ذرائع ابلاغ روز بروز پیشرفت کی جانب گامزن ہیں- انھوں نے کہا کہ امریکہ سمیت تسلط پسند نظام، ہمیشہ ایران کے اسلامی انقلاب کو ختم کرنے کے درپے رہا ہے تاہم اس کی کوششیں ہمیشہ ناکامی پر منتج ہوئی ہیں- آئی آر آئی بی کے سربراہ نے کہا کہ اللہ تعالی کے لطف و کرم ، حزب اللہ لبنان کے سربراہ اور استقامتی طاقتوں اور مجاہدین کی کوششوں سے صیہونی حکومت کی سازشیں ناکام رہی ہیں - انھوں نے اس محاذ کی پیشرفت میں استقامتی محاذ کے کردار کو ناقابل انکار قرار دیا اور کہا کہ ایران کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کا ادارہ استقامتی محاذ کے ایک چھوٹے سے رکن کی حیثیت سے ہمیشہ استقامتی محاذ کے ذرائع ابلاغ کے ساتھ کھڑا رہے گا- ڈاکٹر علی عسکری نے غرب اردن میں آٹھ نشریاتی اداروں کو بند کئے جانے کے صیہونی حکومت کے اقدام کی مذمت کی اور کہا کہ اس اقدام سے پتہ چلتا ہے کہ صیہونی حکومت کو استقامتی محاذ کے اثرات سے سخت تشویش لاحق ہے- ایران کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ادارے آئی آر آئی بی کے سربراہ نے صیہونی حکومت کے اقدامات کے سلسلے میں اس کے حامیوں خاص طور سے امریکہ کی خاموشی کو آزادی بیان کے بارے میں ان کے دعؤوں کے جھوٹے ہونے کی علامت قرار دیا اور کہا کہ امریکہ اور صیہونی اتحاد، استقامت و پائداری کی ثقافت کو ترویج دینے والے ذرائع ابلاغ کے خلاف ہیں - آئی آر آئی بی کے سربراہ نے بیروت میں لبنان کے صدر میشل عون اور لبنانی پارلیمنٹ کے انفارمیشن کمیشن کے سربراہ حسن فضل اللہ سے ملاقات کی اور لبنان کے المنار ٹی وی کے ہیڈآفس کا بھی دورہ کیا - ایران کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ادارے کے سربراہ ڈاکٹر علی عسکری کے اس دورے کے موقع پر آئی آرآئی بی اور حزب اللہ لبنان کے درمیان صحافتی اور ثقافتی تعاون کے معاہدے پر بھی دستخط ہوئے ہیں-

Wednesday, 18 October 2017

محمد بن سلمان اپنی پسند کی وہابیت کی بنیاد رکھنے کے درپے؛ کیا وہابیت کا نیا ورژن آرہا ہے؟

سعودی حکومت کی داخلی سیاست میں دین کا باہم ربط اور حکومت آل سعود اور آل الشیخ کی صورت میں سنہ 1158 ہجری سے قائم ہے۔ آل سعود کے تشدد پسندانہ اور دقیانونسی اصول ہر نئی بادشاہت میں اعتدال، اصلاح اور تبدیلی کی جانب بڑھتے آئے ہیں اور وہابی فرقہ ـ جس کو ایک سیاسی / استعماری / درباری فرقہ کہنا زیادہ مناسب ہے ـ ایک اعتقادی یا فقہی فرقے سے آل سعود کی حکمرانی کا راستہ ہموار کرنے والے ادارے (اور ربڑ اسٹیمپ) میں بدل چکا ہے۔
بایں وجود وہابیت کی جڑیں آج بھی سعودی عرب کی داخلی سیاست میں گہری اور مستحکم ہیں تاہم محمد بن سلمان کے ولیعہد بننے کے بعد آج اس فرقے کو مختلف چیلنجوں کا سمانا ہے۔ محمد بن سلمان کی فردی خصوصیات اور عادات و اطوار کے پیش نظر اور معاشرت اور قومی سلامتی کے حوالے سے اس کی پالیسیاں ویسے ہی بہت سوں کے لئے فکرمندی کا سبب ہوئی تھیں، لیکن چونکہ وہابیت کے لئے بھی اس کے اپنے خاص نظریات ہیں جن کی بنا پر کہا جاسکتا ہے کہ وہابیت کے لئے اس کی طرف سے پیدا کردہ مسائل بجائے خود بہت اہم ہیں۔
آل سعود کی تیسری حکومت کے جزیرہ نمائے عرب پر مسلط ہونے کے آٹھ عشرے گذر رہے ہیں اور اب محمد بن سلمان اس حکومت کی سماجی و سیاسی تعمیر نو پر زور دے رہا ہے۔ وہ سرکش وہابی فرقے میں اصلاح کرکے ایسا مطلوبہ نسخہ (Version) منظم کرنے کے درپے ہے جو اس کے مقاصد کے حصول کے لئے مفید ہو۔ یہاں اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ "محمد بن سلمان کے نزدیک وہابیت کے مطلوبہ نسخے کی خصوصیات کیا ہیں؟
محمد بن سلمان اپنے مشیروں کی مدد سے جزیرۃ العرب کی معاشرتی ذہنیت بدل کر روایتی، قبائلی اور آرتھوڈاکسی معاشرے کو ایک ترقی پسند، کھلے قوم پرستی معاشرے میں تبدیل کرنا چاہتا ہے جس کے بموجب وہ جزیرۃ العرب کے روایتی مذہب میں تبدیلی لا کر اسے "نو وہابیت" (Neo-wahhabism) کی صورت میں لانا چاہتا ہے۔ اسی رو سے بن سلمان کے دور میں یوں لگتا ہے کہ سیاست کے اصلی مرکزے [یعنی بادشاہ اور دربار) اور مذہبی قوت (ملکی مفتی کے زیر قیادت کام کرنے والی "وہابیت") کے درمیان ربط و تعلق میں بھی ڈرامائی تبدیلیاں نمودار ہونگی۔
1۔ محمد بن سلمان اور ویژن 2030 کے ضمن میں ثقافتی انقلاب
سعودی معاشرے کے اندرونی بحرانوں نیز محمد بن سلمان کے اہداف و مقاصد کا صحیح ادراک ان راستوں میں سے ایک ہے جن سے گذر کر بن سلمان کی مطلوبہ وہابیت کی شناخت ممکن ہوجاتی ہے۔ بہت سے مفکرین کا خیال ہے کہ سعودی عرب میں تشخص کے سرچشمے تیزی سے بدل رہے ہیں۔ ان تبدیلیوں کی رفتار میں حالیہ چند برسوں کے دوران تیزتر ہوچکی ہے اور یہ تبدیلیاں رسمی کیلنڈر، خط، سرزمین وغیرہ جیسے شعبوں میں زیادہ عیاں ہیں۔ (1) سعودی عرب میں وہابی علماء نے دین کی تشریح کا شعبہ اپنے اختیار میں لے رکھا ہے؛ چنانچہ نوجوان نسل کو ایک طرح سے وہابی تشخص کا سامنا ہے اور وہابی تشخص جدید ٹیکنالوجی کے منظر عام پر ‏آنے، عربی اشرافیہ عادات و اطوار کے فروغ اور نئے تشخص کے نمودار ہونے جیسی چیلنجوں کا سامنا کررہا ہے۔
سعودی عرب میں وہابی تشخص کے معرض وجود میں آنے اور ظہور پذیر ہونے کے ساتھ، معاشرتی تشخص کئی عشروں تک بدل گیا اور سعودی معاشرے نے "وہابیت و عربی اشرافیہ" کے دوہرے تشخص کو اپنا لیا۔ وہابی مفتیوں کے متضاد اور غیر معقول (اور عقلیت سے دور) نیز یکطرفہ رویئے جزیرۃ العرب کے عوام نیز بین الاقوامی اداروں کی شدید تنقید پر منتج ہوئے ہیں۔ (2) حالیہ ایک عشرے کے دوران سعودی عرب کے قبائلی اور فرقہ وارانہ جذبات کی بنا پر محمد بن سلمان [کے اندرونی و بیرونی مشیر] بھانپ گئے کہ وہابی تشخص کو ملک کے نوجوانوں کے تشخص کے بنیادی اصول کے طور پر مزید آگے نہیں بڑھایا جاسکتا۔ چنانچہ اس نے وہابیت میں تبدیلی لاکر نئے سعودی عرب کے لئے نیا مذہبی تشخص متعارف کرنے کی کوشش کی ہے۔ بن سلمان نے ویژن 2030 نامی پروگرام کا اعلان کرکے سعودی عرب کے لئے نئی اور لچکدار وہابیت متعارف کرانے کو اپنا مطمع نظر بنایا جس کے لئے تین اصول قرار دیئے گئے: "متحرک معاشرہ، پنپتی معیشت، اولوالعزم قوم"۔ (3) (3.1) وہ ان تین اصولوں کی تشریح کرتے ہوئے کہتا ہے: اسلام کے اصول اعلی مقاصد کے حصول کی طرف ہمارے محرک ہیں۔ اعتدال پسندی، بردباری، نظم و ضبط، مساوات اور شفافیت ہماری کامیابی کے لئے سنگ بنیاد ہیں۔ (4)
ویژن 2030 کے متن میں مذکورہ ان باتوں کو مد نظر قرار دے کر ہم سعودی عرب کے آرزمندانہ اہداف اور جدیدیت پر مبنی خواہشات کو بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔ تاہم ان اہداف کا حصول چنداں آسان بھی نہیں ہے۔ وہابیت کے بہت سے علماء اور دینی مراکز ـ حتی کہ مغربی ممالک کے فکری مراکز ـ "معاشی اصلاحات" کے بھیس میں محمد بن سلمان کا "ثقافتی انقلاب" سمجھتے ہیں۔ (5)
2۔ متشدد وہابیت کو درپیش چیلنجیں اور اسے کمزور کرنے کے لئے بن سلمان کے اقدامات
وہابیت کے مقابلے میں محمد بن سلمان کو درپیش اہم ترین چیلنجیں خواتین، نوجوان اور دینی اقلیتیں ہیں۔ یہ وہ چیلجنیں ہیں جن کا سامنا سعودی عرب کے سابقہ بادشاہوں کو کرنا پڑا ہے اور ہر ایک نے ان تین شعبوں میں اپنے آپ کو مصلح ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔
بن سلمان کی مطلوبہ وہابیت؛ خصوصیات اور چیلنجیں
1۔2۔ خواتین
سعودی معاشرے میں موجودہ معاشرتی اختلافات اور تعطل کے درمیان کوئی بھی خواتین کے کردار اور مستقبل سے زیادہ زیر بحث نہیں ہے۔ یہ بحث و جدل ایسی جنگ ہے جو قدامت پسندوں اور جدت پسندوں کے درمیان جاری ہے اور جنگ اس بات پر ہے کہ خواتین کس قسم کے ماحول میں زندگی بسر کریں اور کس حیثیت سے کردار ادا کرنا چاہئے۔ (6) معاشرے میں کردار ادا کرنے کے سلسلے میں خواتین کے مطالبات میں روز بروز شدت آرہی ہے اور حالیہ مہینوں کی سرکاری پالیسیوں نے اس موضوع کو ثابت کیا کہ محمد بن سلمان اس سلسلے میں قدیم وہابیت کے مد مقابل کھڑا ہے جبکہ طویل عرصے سے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خواتین کی طرف سے کردا ادا کرنے کی کوششوں کو وہابیت سے وابستہ اداروں کی شدید مختلفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ (7)
وہابیت کے دینی اداروں کی انتہا پسندی اور خواتین کے مسلسل مطالبات کی وجہ سے ہی سابق سعودی بادشاہ "شاہ عبداللہ" نے عورتوں کے امور میں کچھ فراخی کے اسباب فراہم کئے۔ بطور مثال شاہ عبداللہ نے 2011 میں [عرب سپرنگ کے آغاز کے بعد] ایک فرمان جاری کیا جس کے تحت خواتین 2015 تک انتخابات میں شرکت کرسکتی ہیں اور امیدوار بن سکتی ہیں (8) [گوکہ سعودی عرب میں صرف بلدیاتی انتخابات ہی منعقد ہوتے ہیں]۔ محمد بن سلمان نے اقتدار میں حصہ حاصل کیا تو اس سلسلے میں شدت آئی۔ یہاں تک کہ خواتین نے پہلی بار تصویروں کے حامل شناختی دستاویزات بنوائیں اور انہیں نکاح نامے کی ایک نقل اپنے پاس رکھنے کا حق دیا گیا اور حتی کہ الی ترین سطح پر مسند افتاء پر براجماں ہوئیں۔ اسی سلسلے میں بن سلمان نے بلوم برگ چینل کے ساتھ اپنے مکالمے میں بیان کیا: یہ ممکن نہیں ہے کہ سعودی معاشرہ ترقی کرے جبکہ اس کی نصف آبادی کے حقوق کو نظرانداز کیا جارہا ہو۔ چنانچہ ہم آزادیوں کی دوہری حمایت کرتے ہوئے عورتوں کو ـ ان کے لئے اسلام میں مقررہ حقوق ـ پلٹا دیں گے اور عورتوں پر مسلطہ کردہ پابندیوں اور بندشوں کی زنجیروں کو ان سے دور کریں گے۔ (9)
دوسری طرف سے بن سلمان نے سرگرم مقامی افرادی قوت کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی آڑ میں، ویژن 2030 میں ایک منصوبہ پیش کیا ہے جس کے تحت اجنبی ممالک کی افرادی قوت کے بجائے بعض شعبوں میں مقامی خواتین کی خدمات سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔ اس منصوبے کو سعودی عرب کے مفتی اعظم عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور اس نے اس منصوبے کو "مجرمانہ اور حرمت شکنانہ" قرار دیا (10) تاہم بالآخر روایتی وہابیت کو ـ خواتین کے سلسلے میں بن سلمان کی پالیسیوں کے سامنے ـ پسپائی اختیار کرنا پڑی۔
2۔2۔ نوجوان
موجودہ زمانے میں سعودی معاشرے کو درپیش ایک مسئلہ ـ جس کی وجہ سے بن سلمان کو وہابیت کا شدید مقابلہ کرنا پڑا ـ نوجوانوں اور ان کے مطالبات کا مسئلہ ہے۔ نوجوانوں اور انتہاپسند وہابیت کے مطالبات میں تضاد کو ایک طرح سے روایت اور جدیدیت (11) کے درمیان چپقلش کا نام دیا جاسکتا ہے۔ جدید دنیا کی سطح پر ـ بالخصوص مواصلات کے میدان میں ـ مغربی اقدار اور تعلیمات کے فروغ کے زیر اثر رونما ہونے والی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، سعودی نوجوان بھی مغربی اقدار یا جدیدیت کے ساتھ ساتھ اسی طرز کی عالمگیریت کی طرف مائل و راغب ہوچکے ہیں۔ سعودی نوجوانوں کو آج اپنی شناخت اور تشخص کی الجھن کا سامنا ہے اور آج سعودی عرب کی نوجوان نسل روایت اور جدیدیت میں سے ایک کے انتخاب میں سرگردان ہے۔ محمد بن سلمان کی داخلی پالیسیوں میں کوشش کی جارہی ہے کہ سلامتی اور مذہب سے متعلق اداروں ـ بالخصوص امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کمیٹی [هیئة الأمر بالمعروف والنهی عن المنکر] ـ کی سرگرمیوں کو محدود کیا جائے۔ جس کی وجہ سے وہابی علماء کے زیر انتظام چلنے والے ان اداروں کے اختیارات بھی محدود ہوچکے ہیں۔ (12) لہذا روایت اور جدیدیت کے درمیان تضاد و تنازعہ آج کے سعودی معاشرے کی اہم ترین دینی اور معاشرتی چیلنجوں میں شامل ہے اور بن سلمان کے نقطۂ نگاہ کی وجہ سے یہاں بھی انتہاپسند وہابیت کمزور ہوگئی۔ اور یوں ثقافتی علمانیت [یا ثقافتی لادینیت] (13) کی جانب بڑھتے ہوئے جدیدیت اور دینی تشخص کی نئی تعریف کے لئے راستہ ہموار ہوا۔
3۔2۔ شیعہ اور دینی اقلیتیں
ویژن 2030 اور اس کے تحت مجوزہ معاشی منصوبوں کا نفاذ ـ جو دینی کثرتیت (14) پر استوار کئے گئے ہیں ـ لامحالہ انتہاپسند وہابیت اور دینی اقلیتوں کے درمیان ـ جنہیں آج تک وہابی علماء نے تسلیم ہی نہیں کیا ہے ـ تصادم پر منتج ہوگا جس کے نتیجے میں ـ بن سلمان کے اقدامات کو مد نظر رکھتے ہوئے ـ آل سعود اور آل الشیخ کے درمیان تقابل کے اسباب فراہم ہونگے یا یوں کہئے کہ طاقت کا نظام دینی نظام پر غلبہ پائے گا۔ کیونکہ ویژن 2030 سے معاشی شعبے میں قومی آمدنی میں اضافہ اور اوسط طبقے کا سماجی ارتقاء مقصود ہے؛ اور سعودی معاشرے میں اوسط طبقے کی تشکیل کی صورت میں اس کے مطالبات اور زندگی کے ملزومات ـ منجملہ زیادہ سے زیادہ آزادیاں، سوشل سوسائٹی کی ترقی، بڑھتی ہوئی سیاسی شراکت داری، نیز ثقاقتی کثرتیت کی طرف حرکت ـ بھی معرض وجود میں آئیں گے۔ جبکہ وہابی علماء ـ وہابی تعلیمات کے مطابق ـ ان تبدیلوں کو تسلیم نہیں کرسکیں گے۔
بایں حال سعودی عرب کی عظیم ترین دینی اقلیت ـ یعنی شیعیان اہل بیت(ع) ـ کے ساتھ تشدد آمیز رویہ جاری رہے گا کیونکہ شیعہ مکتب کے پیروکاروں کے ساتھی امتیازی سلوک اور متشددانہ رویہ، وہابیت کے پیشرو اور حال حاضر کے علماء کی مکتوبات پر استوار ہے۔ مثال کے طور پر ابن تیمیہ نے اپنی کتب و رسائل میں بارہا اس موضوع پر زور دیا ہے کہ "شیعہ، خوارج سے کہیں زیادہ، قتل کے لائق ہیں" (15) اور وہابیت کے بانی محمد بن عبدالوہاب نے بھی ابن تیمیہ کے افکار کو دوبارہ شائع کرکے زور دیا ہے کہ "چونکہ شیعہ ائمہ طاہرین علیہم السلام سے تقرب جوئی کرتے ہیں اور انہیں اللہ کی بارگاہ میں شفیع قرار دیتے ہیں چنانچہ ان خون مباح اور ان کا قتل جائز ہے"۔ معاصر وہابی مفتیوں کا موقف بھی بعینہ یہی ہے۔ بطور مثال معاصر وہابی مفتیوں میں انتہاپسندترین شخص "ناصر العمر" ہے جس نے شیعیان اہل بیت(ع) کے قتل کو جائز قرار دیتے ہوئے اپنی خونخواری کا ثبوت ان جملوں میں پیش کیا ہے: "کیا بدیع ہے وہ منظر، جب تو دیکھتا ہے کہ شیعوں کی لاشیں خون کے سمندر میں غوطہ ور ہیں اور رافضی کے خون کی لہریں تیری سماعتوں کو نوازتی ہیں اور ان کی لاشیں تیری آنکھوں کو وجد میں لاتی ہیں"۔ (16)
[سعودی ـ وہابی پالیسیوں پر شیعیان اہل بیت(ع) کی تنقید اظہر من الشمس ہے] لہذا محمد بن سلمان کو درپیش چیلنجوں میں سے ایک معترض اور منتقد شیعہ اقلیت کے ساتھ اس کا تعامل ہے جو آل سعود کے مد مقابل سب سے زیادہ طاقتور اور منظم معترض قوت سمجھی جاتی ہے۔ محمد بن سلمان نے شیعہ آبادی ـ اور سماج اور سلامتی کے میدان میں در پیش اس اہم چیلنج ـ کے ساتھ اپنائے جانے والے رویئے کی کیفیت کے بارے میں آج تک اظہار خیال نہیں کیا ہے۔ جس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ وہ بھی اپنے پیشرو حکمرانوں کے طرح شیعہ آبادی کو نظر انداز کرکے اس کے ساتھ وہی امتیازی سلوک روا رکھنا چاہتا ہے یا پھر یہ جتانا چاہتا ہے کہ گویا سعودی عرب کے عوام کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے، بالفاظ دیگر وہ ایک جھوٹی قومی یکجہتی ظاہر کرکے ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ شیعوں اور وہابیوں کے درمیان کسی قسم کا کوئی اختلاف و تقابل نہیں پایا جاتا! [جس کے لئے البتہ اس کو موجودہ سینسرشب اور شیعیان آل رسول(ص) کے ابلاغی مقاطعے کی پالیسی پر بھی کاربند رہنا پڑے گا جو کہ اس کی مبینہ معاشرتی آزادی پر مبنی پالیسی کے منافی ہوگی]۔
اس وقت امریکہ، اسرائیل اور آل سعود نے مغربی ایشیا میں دو قطبی تضاد کا ماحول قائم کررکھا ہے جس کی وجہ سے سعودی عرب سمیت مختلف ممالک کے شیعیان اہل بیت(ع) خطرہ محسوس کررہے ہیں، اور بن سلمان نے شیعیان اہل بیت(ع) کے مقابلے میں استبدادی رویہ اپنا کر انہیں کچلنے اور خوفزدہ کرنے کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ چنانچہ مذکورہ بالا دو موضوعات میں بن سلمان کے مختلف موقف کے برعکس، کم از کم مستقبل قریب میں شیعیان اہل بیت(ع) کے مقابلے میں محمد بن سلمان اور وہابیت کے مذہبی اداروں کے نقطۂ نظر اور پالیسیوں میں کسی قسم کی مغایرت کی امید نہیں رکھی جاسکتی اور ان کا سلوک ماضی کی طرح یکسان رہنے کا خدشہ باقی ہے۔
نتیجہ
گوکہ محمد بن سلمان کے ولیعہد بننے پر سعودی مفتی اعظم عبدالعزیز آل الشیخ اور بعض دیگر سعودی درباری مفتیوں نے اس کو مبارک باد دی اور اس کے ہاتھ پر بیعت کی اور باضابطہ طور پر اس کی حمایت کا اعلان کیا لیکن اس نوجوان شہزادے کے موقف اور مختلف بیانات سے بآسانی سمجھا جاسکتا ہے کہ وہابیت کے ساتھ اس کا تعلق دوستانہ نہیں ہے۔
اس حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ جزیرۃ العرب کی جدید سازی بن سلمان کے اہم ترین مقاصد میں شامل ہے اور ویژن 2030 میں بھی اس کو اہم حیثیت حاصل ہے، سعودی ولیعہد نے روایتی انتہاپسند وہابیت کی حیثیت کو ـ بطور سرچشمۂ مشروعیت (17) ـ محدود کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور اس کی کوشش ہے کہ وہابیت کے رتبے کو سعودی بادشاہت کے سرچشمۂ مشروعیت سے گھٹا کر اس کو ایک شخصی مذہب و عقیدے کی حد تک گرا دے۔ اس کا نظریہ یہ ہے کہ وہابیت اس کی آج کی بلندپروازیوں اور منصوبوں کا تحمل نہیں رکھتی۔ محمد بن سلمان متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں کی پالیسیوں سے متاثر ہے اسی بنا پر وہ وہابی علماء اور ملک کے دینی اداروں کے اثر و رسوخ کی سطح کم کرکے ایک ایسی وہابیت کی بنیاد رکھنا چـاہتا ہے جو ہیومینزم (18) پر مبنی، محدود اور شخصی و ذاتی ہو اور یہ نئی وہابیت "اعتدال پسندی، بردباری، مساوات اور شفافیت" کے چار اصولوں پر استوار ہوگی۔ [آج تک آل سعود کی حکمرانی کے قانونی جواز اور مشروعیت کا سرچشمہ وہابیت ہے] بن سلمان ایسی وہابیت کی بنیاد رکھنے درپے ہے جس کے قانونی و شرعی جواز کا سرچشمہ آل سعود کا سیاسی نظام ہو۔ یہ وہی موضوع ہے جو حقوق نسوان کے بارے میں "ہیئت کبارالعلماء" کے حالیہ فتوے کے ضمن میں بیان کیا گیا ہے کہا گیا ہے کہ "سعودی بادشاہ معاشرے کی تمام مصلحتوں اور اعمال کا واحد مرجع (19) ہے"۔
اس نقطۂ نظر کے تحت، بن سلمان کی پسندیدہ وہابیت ایک انتہائی فردی اور شخصی فرقہ ہے سعودی عرب کے سیاسی دائرے کے باہر کسی قسم کی معاشرتی نقل و حرکت کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ بن سلمان کی پسندیدہ وہابیت کے نسبتا شخصی [ذاتی] (20) ہوجانا، سبب بنے گا کہ اس فرقے اور اس کے دینی علماء کے اثر و رسوخ کا دائرہ محدود ہوجائے اور محدود ہونے کے اس عمل کا نتیجہ اسلامی مذاہب اور دوسرے ادیان کے ساتھ اعتدال پسندانہ اور لچکدار رویے کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا۔ وہابی مفاہیم میں دفاع اور جوابدہی کی عدم قابلیت اور عقلی اصولوں کی عدم موجودگی اس فرقے کے علماء کو مجبور کرے گی کہ سیاسی موقف اپنانے کے اپنے موجودہ رویے کو ترک کریں اور اپنے فرقے کی بقاء کی خاطر آل سعود کے حکمرانوں کے معین کردہ دائرے کے اندر محدود ہوجائیں۔ کہ اس صورت میں ان علماء کو صرف سرکاری اقدامات کو شرعی لبادہ پہنانے کے لئے بروئے کار لایا جائے گا۔ [جبکہ اس سے پہلے وہ آل سعود کے اقدامات کی شرعی توجیہ کے ساتھ ساتھ اندرونی اور بیرونی پالیسیوں کے سلسلے میں بھی فتوی دیا کرتے تھے اور اب ان کی ذمہ داری سرکاری اقدامات کو شرعی توجیہ پیش کرنے تک محدود ہوجائے گی]۔

سعودی عرب میں ہولناک آتشزدگی10، افراد ہلاک

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے علاقے بدر میں ایک بڑی ورک شاپ میں آگ لگ گئی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری جگہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور انسانوں سمیت اندر موجود ہر شئے کو جلا کر خاکستر کردیا۔ ورک شاپ میں لکڑی کی اشیا بنائی جاتی تھیں جس کی وجہ سے آگ بہت تیزی سے پھیلی اور اندر موجود لوگوں کو جان بچانے کے لیے باہر نکلنے کا موقع ہی نہ مل سکا۔
سعودی شہری دفاع کے محکمے نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ بیان میں واقعے کے بارے میں بتایا اور 10 افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق کی۔ سعودی حکام نے تاحال جاں بحق اور زخمی ہونے والے کی قومیت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ہے کہ آیا وہ مقامی تھے یا تارکین وطن محنت کش تھے۔

امیرکویت سعودی بادشاہ کو منانے ریاض پہنچ گئے

امیر کویت «شیخ صباح الاحمد الصباح» آج بروز پیر علی الصبح محض چند گھنٹوں کے دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔
امیر کویت سعودی حکام کو قطر کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیاں اٹھانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے۔
سعودی ذرائع کا کہنا ہے کہ امیر کویت دوحہ-ریاض تعلقات کے فروغ پر سعودی حکام سے تبادلہ خیال کریں گے۔
واضح رہے کہ دو ہفتے بعد کویت میں خلیجی تعاون کونسل کا اجلاس منعقد ہونے والا ہے۔
خیال رہے کہ پہلے بھی قطر اور سعودی عرب کے معاملات خراب ہونے پر کویت نے ہی ثالثی کا کردار ادا کیا تھا اور دونوں کے درمیان صلح کروائی تھی جبکہ اس بار بھی کویت ہی دونوں ملکوں کے تعلقات کا خیرخواہ نظر آتا ہے، البتہ اس مرتبہ صورتحال کافی کشیدہ ہے اور پہلے سے مختلف ہے اور قطر پر دہشتگردی کا بھی الزام ہے۔
یاد رہے کہ بحرین، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور مصر نے قطر کیساتھ روابط منقطع کئے ہیں۔
ان ممالک کا قطر پر الزام ہے کہ یہ ملک دہشتگردی کی معاونت کررہا ہے۔
ان ممالک نے قطر پر زمینی، فضائی اور سمندری راستے بھی بند کردئے ہیں اور دوحہ کا محاصرہ کیا ہوا ہے۔

لبنان میں یوم عاشور کے موقع پر حسینی عزاداروں کا عظیم اجتماع

لبنان میں یوم عاشور کے موقع پر حسینی عزاداروں کا عظیم اجتماع
لبنان کے مختلف شہروں بالخصوص ضاحیہ علاقہ میں سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی عزاداری عقیدت اور احترام کے ساتھ منائي جارہی ہے۔
شیعیت نیوز کے نمائندے  نے المنار کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ لبنان کے مختلف شہروں بالخصوص ضاحیہ علاقہ میں سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی عزاداری عقیدت اور احترام کے ساتھ منائي گئی۔ اطلاعات کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک میں نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے بہتر باوفا ساتھیوں کی یاد عقیدت اور احترام کے ساتھ منائی گئی۔

اے حسین! دشمن ہمیں مار کر جلا ہی کیون نا دے لیکن ! ہم آپ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، قائد مقاومت

شیعیت نیوز: حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل جناب سید حسن نصراللہ نے سابقہ برسوں کی مانند اس سال بھی یوم عاشور پر ویڈیو کانفرنس کے توسط سے عزاداران حسینی سے خطاب کیا اور کہا: داعش امت مسلمہ کے لئے کھڑا کیا گیا شدیدترین اور سنجیدہ ترین خطرہ ہے۔ دیکھ لیجئے کہ اس نے علاقے کو کتنا بڑا نقصان پہنچایا ہے اور کس قدر عالمی سطح پر اسلام اور رسول اللہ(ص) کے چہرہ مبارک کو بگاڑ کر دنیا والوں کے سامنے پیش کیا ہے۔ دیکھ لیجئے اس ٹولے نے امریکہ اور اسرائیل کے منصوبوں کی کس قدر خدمت کی ہے؟
آج میں اعلان کرتا ہوں کہ داعش اور ظلم و فساد کے خاتمے کے لئے جہاں بھی ضرورت پڑے، جنگ کو جاری رکھیں گے۔ مسلمانوں اور خطے کے ممالک اور اقوام و معاشروں کو دیکھ لینا چاہئے کہ داعش بنائی کس نے ہے، کون اس کو مالی اور عسکری امداد فراہم کررہا ہے؟ ان افراد اور قوتوں کو پہچان لینا چاہئے؛ لاکھوں افراد مارے گئے ہیں، اسلام کا چہرہ بگاڑا جا چکا ہے اور یوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی بگڑی ہوئی تصویر دنیا والوں کے سامنے پیش کی گئی ہے، اس مسئلے کے پس پردہ عوامل اور قوتوں کو بےنقاب کرنا چاہئے اور ان کی بازخواست پر اصرار ہونا چاہئے۔
ان جرائم کے پس پردہ قوتوں کے چہرے سے نقاب کھینچ لینا چاہئے۔ پوری دنیا کے مسلمان، ان کے علماء اور دانشوروں کو اس سلسلے میں کانفرنسوں کا انعقاد کرنا چاہئے تا کہ وہ اس نادرالظہور شیئے [تکفیری وہابیت] کو پہچان لیں تا کہ یہ شیئے ایک بار پھر کسی اور زمانے اور کسی اور ملک میں نہ دہرائی جائے۔
آج کل ایک بار پھر صہیونی ریاست کی طرف سے دھمکی آمیز بیانات سامنے آرہے ہیں لیکن ہم صہیونی دشمن کو متنبہ کرتے ہیں اور مقبوضہ سرزمین میں آبسنے والے یہودیوں کو بھی خبردار کرتے ہیں کہ اپنے مقدرات صہیونی ریاست کے سپرد نہ کریں۔
اسرائیل لبنان کو دھمکی دینے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتا اس نے شمالی بریگیڈ کی جنگی مشقوں سے قبل اور اس کے بعد ـ جبکہ وہ شام پر اپنی جارحیت کا جواز پیش کررہا تھا اور حزب اللہ کی تقویت کے لئے نئے وسائل پہنچنے کا خطرہ بطور بہانہ پیش کررہا تھا ـ لبنان کی فضائی حدودی کی خلاف ورزی کا سلسلہ بھی جاری رکھا اور اس کی کوشش ہے کہ جنگ کو لبنان کی طرف کھینچ لائے۔
اگر جنگ شروع ہوجائے تو اسرائیل اس کی درست تشخیص نہیں کرسکے گا
میں اسرائیل کو خبردار کرتا ہوں کہ ہم نے محاذ مزاحمت میں ابتداء ہی سے اعلان کیا ہے کہ ہماری اصل جنگ صہیونی غاصبین کے ساتھ ہے ہماری جنگ ایک آسمانی دین کے پیروکار یہودیوں کے خلاف نہیں ہے۔ صہیونی تحریک نے یہودیوں سے غلط فائدہ اٹھایا ہے تا کہ فلسطین میں نوآبادیاں بنانے کے غاصبانہ منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچائے۔ یہودی خطے کے عرب عوام کے خلاف نئی امریکی جنگ کا ایندھن ہیں۔ جب ہمارے عوام اپنی مٹی اور اپنی ناموس کے تحفظ کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو یہ جھوٹی تشہیری مہم چلا کر ان پر یہودیت دشمنی کا الزام لگاتے ہیں۔ میں علمائے یہود سے کہتا ہوں کہ جو لوگ تمہیں یہاں لائے ہیں، آخر کار یہ تمہاری نابودی کی کوشش کریں گے۔ نیتن یاہو حکومت تمہارے عوام کو ہلاکت اور نابودی کی دلدل میں دھکیل رہی ہے، نیتن یاہو خطے کو جنگ کی آگ میں دھکیل رہا ہے اور یہ جنگ تمہارے نقصان میں ہے اور اس کے لئے تمہیں بھاری تاوان ادا کرنا پڑے گا۔ نیتن یاہو خطے، لبنان اور شام کو ـ اس کے بزعم ـ پیش بندی پر مبنی جنگ میں الجھانا چاہتا ہے حالانکہ نہ وہ خود اگلی جنگ کی کیفیت، حجم اور نتائج کی صحیح تشخیص دے سکتا ہے نہ اس کی حکومت اس کے قابل ہے۔ اس کو نہیں معلوم کہ اگر جنگ شروع ہوجائے تو اس کا خاتمہ کیسے ہوگا؟ اگر اس نے حماقت کرکے جنگ کا آغاز کیا تو وہ اس جنگ کے سلسلے میں صحیح تصور نہيں رکھتا۔
یہودی اپنا کھاتہ الگ کریں
آج میں تمام غیر صہیونی یہودیوں کو دعوت دیتا ہوں کہ اپنا کھاتہ ان صہیونیوں سے الگ کریں جو اپنے آپ کو حتمی ہلاکت میں ڈال رہے ہیں۔ میں انہيں دعوت دیتا ہوں کہ سرزمین فلسطین کو چھوڑ کر چلے جائیں اور ان ہی ممالک میں جا بسیں جہاں سے وہ آئے ہیں۔ ا‏گر نیتن یاہو نے علاقے میں نئی جنگ کا آغاز کیا تو ان کے پاس فلسطین چھوڑنے کی فرصت نہ ہوگی۔ دشمن ریاست کو جان لینا چاہئے کہ وقت بدل گیا ہے اور جن لوگوں [عرب حکمرانوں] کے ساتھ اتحاد پر تم نے اعتماد کیا ہے وہ تمہارے لئے وبال جان بن جائیں گے۔
اسرائیلیوں سے کہتا ہوں کہ: تم جانتے ہو کہ یہ جو تمہارے حکمران تم سے کہہ رہے ہیں کہ وہ اس بار جنگ کو آخری جنگ کے طور پر لڑ کر ختم کردیں گے، یہ ایک بڑا جھوٹ ہے، وہ تم سے جھوٹ بول رہے ہیں لہذا اپنے احمق سرکردگان کو اپنے ساتھ مہم جوئی کرنے کی اجازت نہ دو کیونکہ یہ مہم جوئی تم یہودیوں کے لئے ہر چیز کا خاتمہ ثابت ہوگی اور اگر جنگ شروع ہوئی تو مقبوضہ فلسطین کا کوئی بھی نقطہ محفوظ نہيں ہوگا۔
اصل امریکی منصوبہ علاقے کی تقسیم در تقسیم ہے
لوگوں کو دشمن کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں خوداعتمادی سے کام لینا پڑے گا، اگر عراقی، شامی اور ایرانی امریکی سرکردگی میں عالمی اتحاد کا انتظار کرتے تو داعش اس وقت قائم و برقرار ہوتی۔ داعش کا نعرہ تھا:"باقیة و تتمدد" [ہم باقی ہیں اور وسعت پائیں گے]۔ ہمیں اس وقت علاقے کی تقسیم کے خطرے کا سامنا ہے۔ اگر علاقے کے عوام امریکہ پر اعتماد کریں تو تقسیم کا یہ منصوبہ عملی صورت میں نافذ کیا جائے گا اور علاقے میں اصل امریکی منصوبہ تقسیم در تقسیم ہے۔
آج ہم عراقی قوم اور علاقے کی تمام اقوام کو دعوت دیتے ہیں کہ اپنے دوست اور اپنے دشمن کو پہچان لیں اور امریکیوں پر اعتماد نہ کریں، اپنے بازؤوں کا سہارا لو، خوداعتمادی کو شعار بناؤ اور اپنے حقیقی دوستوں سے مدد لو۔ اس علاقے میں رونما ہونے والی تمام تر بدبختیوں کی اصل جڑ ہی امریکہ ہے۔ امریکہ کی نئی حکومت شمالی کوریا سے لے کر وینیزویلا اور کیوبا تک جنگیں شروع کرنے کے منصوبے بنا رہی ہے۔ ہمیں ایسی حکومت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو انسانوں کی بدبختیوں کی اصل جڑ ہے اور اس پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ بڑی آسانی سے اپنے ہی کئے ہوئے معاہدوں تک کی خلاف ورزی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے!
آخری فتح یمنی عوام کی ہوگی
یمن اور بحرین پر امریکہ اور عالمی طاقتوں کے زیر سرپرستی سعودی جارحیت جاری ہے، یمن پر جاری ظالمانہ جارحیت سے سعودی حکمران اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکے چنانچہ اب بس اس جنگ کو بند ہونا چاہئے۔ ہم ایک بار پھر اس امریکی ـ سعودی جنگ کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ ایسی جنگ ہے جس میں نہتے عوام کو ہر روز مارا جارہا ہے اور گھروں اور بازاروں میں عوام کو نشانہ بناکر قتل کیا جارہا ہے۔
کیا وہ وقت نہیں آیا کہ سعودی حکمران سمجھ لیں کہ ان کی مسلط کردہ جنگ کا کوئی روشن نتیجہ نظر نہيں آرہا؟ یمنی عوام مزاحمت کرکے طویل عرصے سے سعودیوں کے تمام تر منصوبے خاک میں ملا رہے ہیں، وہ شہروں کے چوراہوں کو پر کرکے ریلیاں نکالتے اور مظاہرے کرتے ہیں اور محاذ کو بھی پر کئے ہوئے ہیں تا کہ سیاسی اور سماجی میدان میں بھی اور جنگ و جہاد کے میدان میں بھی اپنی مزاحمت و استقامت کا ثبوت دیں لہذا وہ اسی پامردی کے بدولت اس جنگ کے فاتح ہونگے چاہے اس جنگ کی قیمت جتنی بھی ہو۔ کیونکہ مزاحمت و پامردی کی قیمت ہمیشہ ہمیشہ سرتسلیم خم کرنے اور ہتھیار ڈالنے سے کمتر ہے۔
بحرین اور برما
آج ہم بحرین کے مظلوم عوام کو بھی یاد کرنا چاہتے ہیں جن کی چاردیواری کی بےحرمتی ہوتی ہے، اور جن کے فرزندوں کو جیلخانوں میں ڈالا جاتا ہے، علمائے بحرین پر دباؤ بڑھایا جاتا ہے تا کہ منامہ بھی دشمن صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی جانب قدم بڑھا سکے۔
ہم برما کے مسلمانوں کے ساتھ بھی یکجہتی کا اعلان کرتے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ ان پر ڈھائے جانے والے مظالم ایک نیا المیہ ہے جو کہ امت پر نازل کیا گیا ہے۔ برما میں ہونے والے جرائم اس حقیقت کی نشان دہی کرتے ہیں کہ اسلامی تعاون تنظیم مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے کیونکہ وہ اس سلسلے میں بہت چھوٹی سا اقدام اپنے ذمے نہیں لے سکی ہے۔ عظیم ذمہ داری اسلامی ممالک پر عائد ہے اور ان ممالک کو دیر ہوجانے سے پہلے ہی اٹھ کر کچھ کرنا چاہئے۔ ہم سب کو جان لینا چاہئے کہ ان جرائم کی اصل ذمہ داری برما کی فاشی اور نسل پرست حکومت پر ہے۔
نعرہ لگاؤ: "اے حسین! ہم نے آپ کو تنہا نہیں چھوڑا
رپورٹ کے مطابق، لوگ نے سید حسن نصراللہ کے خطاب کے آخر میں "لبیک یا حسین" کا نعرہ لگانا شروع کیا تو انھوں نے کہا: ہم جب کہتے ہیں کہ "لبیک یا حسین" تو ہمارا یہ نعرہ صداقت پر استوار ہے اور اب ہمیں عاشورائی نعروں میں ایک نعرے کا اضافہ کرنا چاہئے کہ: "اے حسین ! ہم نے آپ کو تنہا نہيں چھوڑا"، آپ جو اس طرح میدانوں کو پر کررہے ہیں؛ وہ افراد جو جنگ میں جام شہادت دوش کرتے ہیں، اور جو لوگ زخمی ہوتے ہیں وہ سب کہتے ہیں کہ: "اے حسین! ہم نے آپ کو تنہا نہيں چـھوڑا"، پوری دنیا جان لے! اللہ کی قسم! اے ابا عبداللہ! اگر دشمن ہمیں مار دیں اور آگ میں جلا دیں اور ہماری راکھ کو ہوا میں بکھیر دیں اور ہزار بار اس عمل کو دہرا دیں، اے حسین! ہم آپ کو ہرگز تنہا نہيں چھوڑیں گے۔

اسرائیل کے خلاف آشکار اور حتمی کامیابی کا وقت آن پہنچا ہے

حزب اللہ کے لبنان کی پارلیمنٹ میں سابقہ نمائندہ جمال الطقش نے سید حسن نصراللہ کی روز عاشورا کی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے صدور کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا ہے کے یہ علاقے کو ایک اور جنگ کی طرف لے جا رہے ہیں جس کا روکنا مشکل ہو گا اور یھودیوں سے چاہا ہے کے صہیونیوں سے اپنا حساب جدا کریں۔
یاد رہے کہ سید حسن نصراللہ نے کہا تھا کہ میں آج تمام یہودیوں سے چاہتا ہوں کہ وہ صہیونیوں سے اپنا حساب جدا کر لیں کہ جو اپنے آپ کو یقینی ہلاکت کی طرف لے جا رہے ہیں اور جو ممالک فلسطین میں لالچی ارادوں سے آئے ہیں، وہ جلد از جلد یہاں سے چلیں جائیں تاکہ وہ اس آگ کا ایںدھن نہ بنے جو نتین یاہو کی غاصب حکومت نے ان کے لیے لگائی ہے۔
حزب اللہ کے لبنان کی پارلیمنٹ میں سابقہ نمائندہ جمال طقش نے مزید کہا کہ حسن نصراللہ کی تقریر کے اثرات حزب اللہ اور اسرائیل کے طاقتی توازن پر اثر انداز ہوں گے۔
جمال الطقش نے مزید کہا کہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے ہماری یہ عادت بنا دی ہے کہ آگے بڑھیں اور مزید واضح طریقے سے بیان کریں تو جو کامیابیاں علاقے میں حاصل ہوئی ہیں، مزاحمت کی وجہ سے اور جو تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ان کا احسن طریقے سے مشاہدہ کرنا چاہئے اور ہونے والی تبدیلیوں اور کامیابیوں کے عوامل کو پہچاننا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ پانچ سال سے اسرائیل داعش اور دوسرے تکفیری گروہوں کا پشتیبان رہا ہے اور انشاء اللہ اب وقت آگیا ہے کہ اس کےچہرے کو بے نقاب کیا جائے اور اس کے بعد جو کامیابیاں ملی ہیں اور انشاء اللہ اب کام اختتام کے قریب ہے اور اسلئے اختتامی بات کی جائے جبکہ حزب اللہ کے سربراہ کی گفتگو سے یہی بات واضح ہوجاتی ہےکہ یہ تبدیلیاں میدان جنگ سے متعلق تھیں اور اب وقت آگیا ہے کہ اسرائیل کو کہیں کہ وہ اپنی حدود کو پہچانے اور پانچ سالہ جنگ میں وہ جن گروہوں کی حمایت کرتا رہا ہے، وہ نابودی کے دہانے پر ہیں اور اب وہ اپنی حفاظت کے بارے میں غور و فکر کرے اور اس مرحلے کے بعد ہماری فتح واضح اور یقینی ہے۔
اسرائیلیوں کا جنگی مشقوں میں ناکامی پر اعتراف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے طقش نے اپنی گفتگو جاری رکھی اور کہا کہ صیہونیوں کی آخری مشقیں دو حصوں پر مشتمل تھیں، پہلا بڑا حصہ دفاعی اور دوسرا حصہ اٹیک ٹریننگ پر مشتمل تھا۔ اسرائیل کی کوشش تھی کہ ان مشقوں کے ذریعے لبنان کے لوگوں پر دباو ڈالیں لیکن اس میں ناکامی اور مایوسی ہوئی۔ اسی دلیل کی بنا پر ہم نے کہا ہے اور اسرائیلیوں نے بھی تسلیم کیا ہے کہ ان مشقوں میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی بلکہ غاصبوں کو ناکامی اور مایوسی ملی ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت اور کامیابی کا محور مزاحمتی بلاک بالخصوص اسلامی جمہوریہ ایران اور آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی مدد اور راہنمائی تھی اور اسی طریقے سے آئندہ بھی کا میابیاں حاصل کریں گے۔

امریکہ تمام بحرانوں کا ذمہ دار ہے، حزب اللہ لبنان

حزب اللہ لبنان کے نائب سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے بیروت میں طلبا کے ایک اجتماع سے اپنے خطاب میں تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ امریکہ، اسلامی ملکوں کے خلاف ثقافتی منصوبوں میں ناکام ہو جانے کے بعد اب تشہیراتی اور پروپیگنڈہ جنگ پر اتر آیا ہے۔انھوں نے حتمی کامیابی کے حصول تک تکفیریوں اور غاصب صیہونیوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کے لئے تحریک مزاحمت کے پختہ عزم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کے بحرانوں کو استقامت کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے جیساکہ استقامت نے مسلسل کامیابیاں حاصل کر کے اپنی توانائی کو بخوبی ثابت بھی کیا ہے اور لبنان کے موقف کو مضبوط بنایا ہے۔شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ استقامت کے عمل نے لبنان کو علاقے میں موثر طاقت میں تبدیل کر دیا۔انھوں نے کہا کہ بعض عرب و مغربی حکام، لبنانی حکام کے ساتھ مل کر حزب اللہ کے خلاف اتحاد قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم انھیں اس بات کو جان لینا چاہئے کہ عوام، استقامت کے ساتھ ہیں اور وہ متحدہ لبنان کی حمایت کرتے ہیں۔

عراقی فوج نے کوکوک میں کردستان کا پرچم نیچے اتار دیا

عراق کے فوجی ذرائع نے بتایاہے کہ جنوبی کرکوک سے کردستان کا جھنڈا نیچے اتار کر عراق کا پرچم نصب کر دیا گیا ہے۔
کرکوک، کردستان علاقے اورعراق کی مرکزی حکومت کے درمیان ان متنازعہ علاقوں میں سے ایک ہے کہ جو براہ راست مرکزی حکومت کے زیرکنٹرول ہے۔
عراقی فوجی، کردستان علاقے کی سرحدی حدود سے باہری علاقوں میں کہ جو اس وقت پیشمرگہ فورس کے کنٹرول میں ہے تعینات ہونے کے مقصد سے جنوبی کرکوک کے کچھ علاقوں میں داخل ہوگئے ہیں۔
عراق کے سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد کردستان علاقے کے ساتھ متنازعہ علاقوں پر عراق کی مرکزی حکومت کی حاکمیت کو نافذ کرنا ہے۔
اس سے قبل عراقی رضاکار فورس کے کمانڈر اور تنظیم بدر کے سیکریٹری جنرل ہادی العامری نے پیشمرگہ فورس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ان علاقوں سے پسپائی اختیار کرلیں جن پر انھوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔
کچھ دنوں پہلے کردستان ریجن کے سربراہ مسعود بارزانی نے کہ جو الحشدالشعبی کا مقابلہ کرنے کے لئے پیشمرگہ ملیشیا کو صوبہ کرکوک روانہ کیا ہے - مسعودبارزانی الحشدالشعبی رضاکار فورس کو کردستان کی علیحدگی کے ریفرنڈم کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں- عراقی کردستان ریجن کی خودمختاری کے لئے مسعود بارزانی کی جانب سے کرائے جانے والے ریفرنڈم پر عراق کی مرکزی حکومت اور دنیا نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

عراق کی سالمیت اور اتحاد کے تحفظ پر عراقی وزیراعظم کی تاکید

عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے کہا ہے کہ کردستان میں ریفرنڈم کے نتائج کو کالعدم قراردیا جانا چاہئے اور عراقی آئین کے مطابق پورے عراق پر مرکزی حکومت کی عملداری باقی رہنی چاہئے۔
عراقی وزیراعظم نے کہا کہ یہی عراقی حکومت کا موقف ہے اور بغداد اس موقف ذرہ برابر بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔انہوں نے عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر الجبوری کی قیادت والے سیاسی اتحاد کے ایک وفد سے ملاقات میں کہا کہ کردستان میں ہوئے ریفرنڈم کے نتائج کو کالعدم قراردئے جانے، عراقی حکومت کی حاکمیت اور عملداری نیز ملک کے اتحاد اور وفاق کی حفاظت کے بارے میں جو ضروری فیصلے کئےگئے ہیں ان پر سختی کے ساتھ عمل کیا جائےگا۔
عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر کی قیادت والے سیاسی اتحاد کے وفد نے بھی عراقی حکومت کی تدابیر، فیصلوں اور وزیراعظم کے موقف کی حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ یہی ان کے سیاسی اتحاد کا بھی موقف ہے۔
اس ملاقات میں عراقی وزیراعظم اور الائنس فورس نامی سیاسی اتحاد نے کردستان کے علاقے اور اسی طرح متنازعہ علاقوں پر عراق کی مرکزی حکومت کی عملداری نیز ملک کی سیاسی اور سیکورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔
عراقی وزیراعظم پہلے ہی اعلان کرچکےہیں کہ وہ اربیل کی مقامی انتظامیہ کے ساتھ اس وقت تک بات چیت نہیں کریں گے جب تک مسعود بارزانی کی مقامی انتظامیہ ریفرنڈم کے نتائج کو کالعدم قرار نہیں دے دیتی۔
دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ کرکوک سے کرد ملیشیا پیشمرگہ کے واپس نہ جانے کے اعلان کے بعد عراقی حکومت کے پندرہ فوجی ہیلی کاپٹر کرکوک شہر میں اترے ہیں۔
عراقی کردستان کی فورس پیشمرگہ کے ایک کمانڈر سیروان بارزانی نے ہفتے کو کہا تھا کہ پیشمرگہ ملیشیا پوری طرح الرٹ ہے اور وہ کرکوک سے پسپائی اختیار نہیں کرے گی۔
اطلاعات ہیں کہ کرد ملیشیا نے عراق کی مرکزی حکومت کے اس انتباہ کے بعد بھی کہ تیل کے کنوؤں سے کرد ملیشیا دور چلی جائے کرکوک میں اپنی میزائلی توانائی کو مزید تقویت پہنچائی ہے۔
عراقی حکومت نے کرکوک میں اپنے ہیلی کاپٹروں کے اترنے کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان نہیں دیا ہے۔
عراقی فوج گذشتہ جمعے کو عراقی کردستان کی سرحدوں سے باہر کے علاقوں میں جو پیشمرگہ کے کنٹرول میں ہیں تعینات ہونے کے لئے جنوبی کرکوک کے بعض علاقوں میں داخل ہوئی تھی اور وہاں سے کردستان کی مقامی انتظامیہ کا پرچم اتار کر عراق کا قومی پرچم لہرا دیا تھا۔
کرکوک شہر عراق کی مرکزی حکومت اور کردستان کی مقامی انتظامیہ کے درمیان اہم ترین متنازعہ علاقہ تصور کیا جاتاہے جو بغداد حکومت کی براہ راست عملداری میں آتا ہے۔
کچھ عرصے قبل کردستان کی مقامی انتظامیہ کے سربراہ مسعود بارزانی نے بے بنیاد بہانوں کے ذریعے پیشمرگہ فورس کو صوبہ کرکوک میں تعینات کردیا تھا۔

عراقی فوج کا کرکوک کے وسیع علاقہ پر کنٹرول

عراقی فوج نے عراق کے صوبہ کرکوک کے وسیع علاقہ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اس صوبہ میں عراقی فوج کی پیشقدمی جاری ہے۔ عراقی فوج کی سیکڑوں بکتر بند گاڑیاں اور ہزاروں فوجی کرکوک میں تعینات ہو گئے ہیں۔ عراقی فوج کرد پیشمرگہ کے زیر انتظام ہوائی اڈے کا انتظام سنبھالنا چاہتی ہے ۔ عراقی فوج کے مطابق اس نے بغیر کسی جھڑپ کے کرکوک کے وسیع علاقہ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ عراقی ٹی وی نے عراقی فورسز اور کرد پیشمرگہ کے درمیان لڑائی کی خبروں کی تردید کی ہے۔ عراق کے وزیر اعظم نے عراقی فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ کرکوک کے تمام شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کرے۔اس سے قبل عراقی حکومت نے کہا تھا کہ علیحدگي پسند کرد تنظیم پ ک ک کی کرکوک میں موجودگی جنگ کا اعلان تصور کی جائے گی۔

سنجارشہرپرعراقی فوج کا کنٹرول

عراقی فورسز نے عراق کے صوبہ نینوا کے مغربی علاقےمیں واقع سنجار شہر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
عراقی فوج نے سنجار کا کنٹرول سنھبالنے کے بعد شہر پر عراقی پرچم نصب کردیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق الدبس شہرکاکنٹرول بھی عراقی فوج نے سنبھال لیا ہے۔

ایرانی حکام کو امریکہ کی منہ زوری کا مضبوط اور مستحکم جواب دینا چاہیے

اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ آیت اللہ موحدی کرمانی کی امامت میںم نعقد ہوئی جس میں لاکھوں مؤمنین نے شرکت کی ۔خطیب جمعہ نے نماز جمعہ کے خطبوں میں ایران اورعالمی مسائل کے بارے میں امریکہ کی منہ زوری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی حکام کو امریکہ کی منہ زوری کا مضبوط اور مستحکم جواب دینا چاہیے ۔ خطیب جمعہ نے کہا کہ عداوت اور دشمنی مخفی اور آشکار دو طرح کی ہوسکتی ہے اور آشکارا دشمنی سے مخفی دشمنی اور عداوت کا خطرہ کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ خطیب جمعہ نے کہا کہ ایرانی حکام کو مخفی عداوتوں کے بارے میں بھی ہوشیار رہنا چاہیے۔ خطیب جمعہ نے حضرت امام حسین علیہ السلام کے قیام کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا مظہر قراردیتے ہوئے کہا کہ بشری اور انسانی سعادت اور معاشرے کی اصلاح و فلاح و بہبود کے لئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بہت ضروری ہے۔

ٹرمپ کے بیان پر حسن روحانی کا سخت ردعمل

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے گزشتہ رات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی توہین آمیز تقریر اور ایران مخالف بے بنیاد الزامات کے جواب میں قومی ٹیلی ویژن سے براہ راست خطاب میں ایران کے خلاف ہرزہ سرائی کا ٹھوس، منطقی اور مدبرانہ جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کو تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہیے کیونکہ امریکہ کی تاریخ سنگین، ہولناک اور وحشیانہ جرائم سے پر ہے اور ایرانی قوم نے اب کسی بھی طاقت کے خلاف سر تسلیم خم نہیں کیااور نہ ہی سر تسلم خم کرے گی۔
ایران کے صدر نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ ہرزہ سرائیوں سے واضح ہو گیا کہ انتخابی مہم کے دوران جو سوچ ٹرمپ کی تھی اس سے کہیں زیادہ جوہری معاہدہ مضبوط ہے کہا کہ ایرانی قوم اور جوہری معاہدے کے خلاف سازشوں میں امریکہ ماضی سے زیادہ تنہائی کا شکار ہوا ہے۔
صدر مملکت روحانی نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے خلاف ہرزہ سرائیوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، ایران کا عظیم اور طاقتور ادارہ ہے جس کا مقصد ملکی دفاع کو یقینی بنانے کے علاوہ خطے کے مظلوم اقوام کے برابر کھڑا ہونا اور دہشتگردی کے خلاف جدوجہد کرنا ہے۔
صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں دہشتگردی کے خلاف جدوجہد کر رہا ہے،ان دہشتگردوں کے خلاف جن کے بارے میں ٹرمپ نے اپنے انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ داعش کو وجود میں لانے میں امریکی حکومت کا ہاتھ ہے۔
واضح رہے کہ کل رات امریکی صدر نے ایران کے خلاف پالیسی بیان میں ایران پر ایک بار پھر من گھڑت الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ جوہری معاہدہ امریکی تاریخ کا بد ترین معاہدہ تھا جسے اب ختم ہونا چاہئیے۔

امریکی رویّے کی وجہ سےایٹمی معاہدے پر نظرثانی کی جاسکتی ہے، ایران کا انتباہ

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے ایٹمی تجربات پر پابندی کے معاہدے سی ٹی بی ٹی کے ایگزیکیٹیو سیکریٹری لے سینا زربو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران امریکی صدر ٹرمپ کے نامناسب رویے کی بنا پر ایٹمی معاہدے سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا پاتا ہے اور اسے اس معاہدے کے نتیجے میں صرف نقصان ہی اٹھانا پڑا تو اس معاہدے پر یقینی طور پر نظرثانی کی جائے گی۔انھوں نے کہا کہ ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی اب تک آٹھ بار ایٹمی معاہدے پر ایران کے کاربند رہنے کی تصدیق کر چکی ہے اس کے باوجود امریکی صدر ٹرمپ یہ دعوی کر رہے ہیں کہ ایران، ایٹمی معاہدے پر کاربند نہیں ہے اور امریکی کانگریس ہی اب کوئی فیصلہ کرے۔ڈاکٹر علی لاریجانی نے کہا کہ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای ایٹمی ، کیمیائی، جراثیمی اور ان جیسے دیگر مہلک ہتھیاروں کی پیدوار اور انہیں رکھنے کو حرام قرار دے چکے ہیں۔اس ملاقات میں لے سینا زربو نے بھی ایٹمی معاہدے کی پابندی کے بارے میں ایران کے مثبت و تعمیری موقف کی قدردارنی کرتے ہوئے کہا کہ ایٹمی معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے اور کسی ایک ملک کو اس معاہدے کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کرنا چاہئے۔انھوں نے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے حرام ہونے کے بارے میں رہبر انقلاب اسلامی کے فتوے کو ایک اہم موضوع قرار دیا

امریکہ کی عالمی تنہائی ایران کی کامیابی ہے

تہران میں علما کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ جامع ایٹمی معاہدہ قومی اتفاق رائے کا کامیاب نمونہ ہے جو عوام کی حمایت اور رہبر انقلاب اسلامی کی ہدایات کے روشنی میں حاصل ہوا ہے۔
صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے جامع ایٹمی معاہدے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مواقع کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جامع ایٹمی معاہدے کو نقصان پہنچانے کی غرض سے امریکہ کا عالمی سطح پر تنہا ہو جانا سیاسی لحاظ سے ایران کی بہت بڑی کامیابی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جامع ایٹمی معاہدے کے حوالے سے پوری عالمی برادری اور خاص طور سے یورپ نے بھی امریکی موقف کی مخالفت اور ایران کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے اسلام اور جمہوریت کو امام خمینی رح کے قائم کردہ اسلامی نظام کے دو مضبوط ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی حکومت عوامی عزم و ارادے پر استوار ہے اور وہ خود کو اسلامی احکامات پر عملدرآمد کا پابندی سمجھتی ہے۔

کوئٹہ: داعش /لشکرجھنگوی کا پولیس وین پر حملہ 7 افراد شہید،24 زخمی

شیعیت نیوز: کوئٹہ کےعلاقےنیوسریاب پر داعش اور لشکر جھنگوی کے بم دھماکےکےنتیجے میں پانچ پولیس اہلکاروں سمیت سات افرادشہیداور24زخمی ہوگئے۔
دھماکہ سبی روڈ پرنیوسریاب کےعلاقے میں ہوا، جس میں پولیس کی ایلیٹ فورس کےٹرک کونشانہ بنایاگیا، دھماکے کے نتیجے میں ٹرک میں سوار پانچ پولیس اہلکاروں سمیت افرادشہید اور24زخمی ہوگئے۔
دھماکے سے پولیس کا ٹرک تباہ ہوگیا جبکہ دھماکے کی زد میں آکر ایک گاڑی اور موٹرسائیکل بھی تباہ ہوئی، پولیس تفتیش کاروں کےمطابق دھماکے کی نوعیت کاتاحال تعین نہیں کیا جاسکا، تاہم تفتیش جاری ہے۔
ڈائریکٹرسول ڈیفنس اسلم ترین کےمطابق نیوسریاب کےعلاقے میں دھماکے کی ابتدائی رپورٹ تیارکرلی گئی ہے،شواہدسےدکھائی دیتاہےکہ دھماکہ خود کش تھا، جس میں خودکش حملہ آورنےگاڑی استعمال کی اورپولیس ایلیٹ فورس کےٹرک سےٹکرائی۔
دھماکےکےبعد ریسکیو ٹیمیں،صوبائی وزیرداخلہ میرسرفرازبگٹی، ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ ،ایف سی حکام اور دیگرمتعلقہ اداروں کےحکام موقع پر پہنچ گئے۔
دوسری جانب دھماکےمیں جاں بحق افرادکی لاشیں اور زخمیوں کو سول اسپتال اور سی ایم ایچ منتقل کردیاگیا، جہاں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔
اسپتال ذرائع کے مطابق 13 زخمیوں کو سی ایم ایچ ،10 کو سول اورایک کو بی ایم سی اسپتال منتقل کیاگیاجہاں زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔
گورنراوروزیراعلی بلوچستان نے کوئٹہ دھماکے کی شدیدمذمت کی ہے۔ سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کردی ہیں۔

دہشتگردی کے خلاف بھرپورعزم سےلڑنے والےافغان ہمارے بہادر بھائی ہیں، آرمی چیف

شیعیت نیوز:آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پکتیا میں دہشتگرد حملےکی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ دہشتگردی کےخلاف بھرپورعزم سےلڑنے والےافغان ہمارےبہادر بھائی ہیں،دونوں ممالک خطے میں پائیدار امن و استحکام کیلیے مشترکہ دشمن کو شکست دینگے، ادھر آئی ایس پی آر کا کہنا ہےکہ پاکستانی فضائی حدود کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی اور نہ ہی کرم ایجنسی میں کوئی ڈرون حملہ ہوا ،اس حوالے سے خبریں غلط ہیں۔
جیو نیوزکے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نےپکتیا میں دہشتگرد حملےکی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ دہشتگردی کے خلاف بھرپورعزم سےلڑنے والےافغان ہمارے بہادر بھائی ہیں،دونوں ممالک خطے میں پائیدار امن و استحکام کیلیے مشترکہ دشمن کو شکست دینگے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ ریزالیوٹ سپورٹ مشن اور افغان فوج کی جانب سے آپریشن کرم ایجنسی کی مخالف سمت افغان علاقوں خوست اور پکتیا میں کیا جا رہا ہے،پاکستانی فضائی حدود کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی اور نہ ہی کرم ایجنسی میں کوئی ڈرون حملہ ہوا ،اس حوالے سے خبریں غلط ہیں،افغان سرحد کے ساتھ اپنی حدود میں پاک فوج پوری طرح چوکس ہے، بہتر تعاون دونوں ممالک کو پائیدار امن و استحکام کی طرف لے جائے گا، اس سے مشترکہ دشمن کو شکست ہو گی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران افغانستان کے اندرونی علاقوں میں کئی فضائی حملے کئے گئےجن میں دہشت گردوں کو بھاری نقصانات کی اطلاعات ہیں۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورہ افغانستان کے تناظر میں افواج کے درمیان تعاون بڑھا ہے، ریزالیوٹ سپورٹ مشن نے افغان علاقوں میں متعلقہ آپریشن کے حوالے سے بروقت تفصیلات کا تبادلہ کیانہ تو پاک افغان بارڈر پر پاکستان کی فضائی کی خلاف ورزی ہوئی اور نہ ہی کرم ایجنسی میں کوئی ڈرون حملہ ہوا، اس حوالے سے تمام خبریں بے بنیاد ہیں۔

کذاب زید حامد کا امام علی (ع) کے پاکستانی شیعوں پر انڈیا کا ایجنٹ ہونے کا الزام

شیعیت نیوز:ایران کے ایجنٹ، رافضی،بدعتی اور کئی القابات ملت جعفریہ کو نوازنے کے بعد ایک اور ذہنی مریض پاکستان میں امام علی (ع) کے شیعوں کو انڈیاکا ایجنٹ ثابت کرنے کی کوشیش کرنے پر تل گیا، واللہ عالم کے اسکے پیچھے کیا حقائق اور کس کا ایجنڈا کارفرما ہے، لیکن باخبر ذرائع کے مطابق یہ زید حامد کذاب خود بھارتی ، اسرائیلی اور افغان انٹیلی جنس اتحاد کا حصہ ہے۔
ذرائع کے مطابق زید حامد کا براسٹیک نامی تھنک ٹینک موساد اور را کے لئے کام کررہا ہے، اسی بنا پر اس ادارے کے سربراہ نے باقاعدہ پاکستان کے حساس علاقوں میں موجود پاکستان کے فرنٹ لائن کے محافظ پارچنار کی محب وطن شیعہ قوم کے خلاف زہریلا پروپگنڈا کرنا شروع کردیا ہے۔
وٓضح رہے کہ پارچنا ر وہ واحد قبائلی علاقہ ہے جہاںپر آج تک پاکستانی پرچم سرنگوں نہیں ہوا حتیٰ کہ اس علاقہ کو دہشتگردوں نے چار سال گھیر کر رکھا یہاں تک کے عوام پر لشکر کشی تک کروائی گئی۔
آج بھی یہ علاقہ پاکستان کی دفاعی فرنٹ لائن ہے، گذشتہ 6 ماہ قبل ایک دھماکے کے بعد7 روز تک وہاں کی عوام نے احتجاج کرکے نہتے عوام پر فائرنگ کرنے والے ایف سی اہلکاروں کے خلاف کاروائی اور اپنے چند جائز مطالبات کو تسلیم کروایا تھا، ان مطالبات میں سے ایک مطالبہ پاک افغان بارڈر کو محفوظ بنانے کا بھی تھا، اس احتجاج پر بھی زید حامد نے پاکستانی شیعہ قوم کو ایڈیٹ قرار دیا اور انکے خلاف پروپگنڈا شروع کردیا، اس پروپگنڈے پیچھے اصل سازش یہ تھی کہ یہاں پہ در پہ دھماکے کروائے جائیں گے اور پھر عوام کو پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف عوام کو ورغلایہ جائے گا اسی سلسلے میں ایف سی میں چھپی کالی بھیڑوں نے اشتعال ابھارنے کے لئےعوام پر فائرنگ بھی کی تاہم وہاں کی عوام اس سازش کو بھانپ گئی اور انہوںنے پرامن احتجاج کے ذریعہ اس سازش کوناکام بنادیا، لہذا اس ناکامی پر پاکستان میں را وموساد کا ایجنٹ زید حامد بلبلااُٹھا۔
دھیاں رہے کہ کچھ روز قبل بارودی سرنگ پھٹنے سے ۴ پاک فوج کے جوان شہید ہوئے، تو یہ جھوٹا شخص پھر ٹوئیٹر پر نمودار ہو اور کرم ایجنسی کے پرامن شیعہ جوانوں پر الزام لگادیا کہ وہ دہشتگرد گروپ بنارہے ہیں اور انہوںنے ہی پا ک فو ج پر حملہ کیا ہے، جبکہ اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبو ل کی۔
یہ جھوٹا کہتا ہے کہ کر م ایجنسی میں طالبان ختم ہوگئے ہیں، جبکہ پاک فوج مسلسل وہاں آپریشن کرکے دہشتگردوں کا صفایا کرنے میں مصروف ہے، جبکہ انہی طالبان دہشتگردوں کے حملوں میں سیکڑوں پارچنار کے عوام بھی شہید ہوچکے ہیں۔
ایک اطلاع کے مطابق سعودی عرب میں زید حامد کی گرفتاری کے دوران را اور موساد نے زید حامد کو اپنے سرکل میں شامل کیا اور اسی بنیاد پر اسے رہا کیا گیا۔
واضح رہے کہ پارچنار کر م ایجنسی کا و ہ واحد علاقہ ہے جسے افغان ، اسرائیل و بھارتی انٹیلی جنس کی ایما ء پر تاراج کرنے کی کوشیش کی گئی کیونکہ یہ علاقہ ازل سے پاکستان کی مضبوط دفاعی فرنٹ لائن ثابت ہوا ہے، کبھی اپنے پالتو ایجنٹ طالبان سے اس علاقہ پر لشکر کشی کروا ئی گئی تو کبھی طالبان دہشتگردوں سے خودکش حملے کرواکر علاقہ کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کی گئیاور جب دہشتگرد ممالک کا اتحا د اس سازش میں ناکام ہوگیاتو انہوں نے اپنے ایجنٹ زید حامد کو چھوڑ دیا ہے جو وہاں کی عوام کو غدار ثابت کرکے پاک فوج کو ورغلانہ چاہتا ہے ، لیکن ہمیں اپنی پاک افواج پر اعتماد ہے انکا اپنا انٹیلی جنس نیٹ ورک ہے ، پاک فوج کو زید حامد جیسے ذہنی مریض کے ضعیف تجزیہ اور خیالی پلاو کی ضرورت نہیں۔
دوسری جانب ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ زید حامد اور اسکے ادارے براسٹیک کے کارکنوں کی تحقیقات کی جائیں یقیناً وہاں سے کئی موساد، را اور افغانستان کی انٹیلی جنس کے ایجنٹ برآمد ہونگے، کیونکہ کئی عرصہ سے اس ادارے کی جانب سے پاکستانی عوام اور پاک افواج میں خلیج پیدا کرنے کی کوشیش کی جارہی ہے جو پاکستان کے خلاف انتہائی گہری سازش ہے۔